اجتماعی توبہ اور ملک و قوم کی فلاح و بہبود

اجتماعی توبہ اور ملک و قوم کی فلاح و بہبود

چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ فیصلے کرنے میں آزاد ہے، ہمیں روکنے کی آج تک کسی کی ہمت نہیں ہوئی اور کسی کے کہنے یا کسی ادارے کے دباؤ پر میں نے کبھی کوئی فیصلہ نہیں دیا، کسی نے کبھی میرے کام میں مداخلت نہیں کی، کوئی مجھے گائیڈ نہیں کرتا کہ اپنا فیصلہ کیسے لکھوں؟ یہی کردار باقی سارے ججز کا ہے۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں میں غلط فہمیاں پیدا نہ کریں، انتشار نہ پیدا کریں اور اداروں سے بھروسہ نہ ختم کریں، بتائیں کس کی ڈکٹیشن پر کون سا فیصلہ ہوا ہے؟ سپریم کورٹ، ہائی کورٹس، ماتحت عدالتوں کے سارے ججز محنت سے کام کر کے عوام کو انصاف فراہم کر رہے ہیں، ساری عدلیہ تندہی سے لوگوں کے فیصلے کر رہی ہے، میری عدالت میں جج انتہائی تندہی کے ساتھ ملک کی فلاح و بہبود کے لیے کام کر رہے ہیں۔ دوسری جانب پشاور میں پی ڈی ایم کے ایک احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان ڈیموکریٹک مووومنٹ کے صدر مولانا فضل الرحما ن نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت نے قانون سازی سے سیاست پر اسٹبلشمنٹ کی گرفت مزید مضبوط کر دی، اسٹبلشمنٹ کو بتانا چاہتا ہوں اگر تمہیں اپنی عزت و احترام عزیز ہے تو آپ کو اس ''گندے کیڑے'' کے پیچھے سے ہٹنا ہو گا، جن لوگوں نے عمران خان کو مسلط کیا وہ اجتماعی توبہ کریں۔ سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ موجودہ حکومت کٹھ پتلی حکومت ہے جس نے ملکی معیشت کو تباہ کر دیا ہے، حکمرانوں نے معیشت کو عالمی مالیاتی اداروں میں گروی رکھوا دیا، ملک میں روزانہ کی بنیاد پر مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے، قرضے کتنے زیادہ کر دیے، کیا ہماری نسلیں ان قرضوں کو اتار سکیں گی؟ ہمیں ان حکمرانوں سے قوم کی جان چھڑوانا ہو گی، یہ آمروں کے ایجنٹ ہو سکتے ہیں، یہ عوام کے نمائندے نہیں ہو سکتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملکِ عزیز کی سماجی، سیاسی اور معاشی صورتحال آج جتنی دگرگوں ہے شاید سات دہائیوں سے زائد عرصہ میں کبھی اتنی قابل تشویش نہیں رہی۔ ایک طرف ملک افغانستان کے باعث مشکلات سے دوچار ہے تو دوسری جانب ملک کے اندر بھی سیاسی عدم استحکام کسی طور ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا، اس کے لئے بنیادی طور پر وزیر اعظم عمران خان اور ان کی جماعت کو ہی ذمہ دار اس لئے بھی قرار دیا جائے گا کیونکہ آج وہ صاحب اختیار ہیں، آج وہ چاہیں تو اس ملک اور اس میں بسنے والی اقوام کی کایا پلٹی جا سکتی ہے، جمہوریت اور جمہوری اقدار کو فروغ دیا جا سکتا ہے اور سیاست میں غیرسیاسی عناصر کی مداخلت کا سلسلہ مکمل طور پر ختم کیا جا سکتا ہے لیکن افسوس کہ حکومت اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے اور ملکی املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے ساتھ مصالحت کا راستہ چننے والی تبدیلی سرکار پاکستانی عوام کی نمائندہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل بیٹھنا تو کجا ہاتھ تک ملانے کی روادار نہیں جس کی وجہ بھی بہ آسانی سمجھ میں آتی ہے۔ لیکن صد افسوس کہ ملک کے عوام باالخصوص نوجوان طبقہ آزاد سوچ اور تنقیدی جائزے کی صلاحیتوں سے مکمل طور پر عاری ہے بصورت دیگر حالات اس نہج پر کبھی نا پہنچتے کہ آج ملک کے قاضی القضاة کو یہ وضاحت دینا پڑ رہی ہے کہ عدلیہ کو کسی بھی جانب سے کسی قسم کے دباؤ کا سامنا نہیں ہے۔ واقفان حال اور اس ملک کے ماضی سے شناسائی رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ اس ملک میں جس بھی امر کی تردید کی گئی بعد میں قوم اسے ایک حقیقت کے روپ میں ملاحظہ کر چکی ہے۔ عدلیہ اور عدلیہ کے معزز جج صاحبان کا احترام اپنی جگہ لیکن نظریہ ضرورت سے لے ایل ایف او تک ایک طویل داستان ہے جسے کسی طور جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ اسی طرح پی ڈی ایم کی جانب سے عائد بعض الزامات کی تردید بھی ممکن نہیں کہ یہی وطنِ عزیز کی تاریخ ہے۔ لیکن افسوس کہ غلطیوں پر توبہ تائب ہونے کی بجائے اور ماضی کے تجربات اور ملک و قوم پر ان کے انمٹ اثرات کے باوجود ملک و قوم کو ایک بار پھر ایک تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہے۔ اور اس حالیہ تجربہ کے اثرات بھی تادیر محسوس کئے جائیں گے۔