اچھا تو سنو سر!

اچھا تو سنو سر!

تحریر: ڈاکٹر سردار جمال

اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میں سکول کے زمانے سے جنرل مضامین لکھ رہا ہوں۔ اس کے ساتھ ہی پشتو ادب سے بھی وابستہ ہوں اور اب تک12  کتب کا مصنف ہوں  جن میں چند کتب اردو زبان میں ہیں اور باقی اپنی مادری زبان پشتو میں ہیں۔ چونکہ میرا ذریعہ معاش قلم کی کمائی نہیں ہے بلکہ لکھنا میرا مشغلہ ہے اس لئے اب تک نہ کتاب بیچی ہے اور نہ اخبار کے مضمون پر پیسہ لیا ہے۔ اس کے علاوہ صحافتی برادی سے بھی منسلک ہوں لیکن سیاسی لوگوں یا آفیسر صاحبان کے قصیدے لکھنے سے دور رہتا ہوں اور نہ کبھی کسی سرکاری ادارے میں اپنا تعارف کالمسٹ کی حیثیت سے کرتا ہوں بلکہ میں بولتا ہوں ”جناب میرا یہ نام ہے اور فلاں گاؤں کا مہذب شہری ہوں اور میرے خلاف میرے تھانے میں ابھی تک کوئیایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے۔“ بات یہ تھی کہ چند دن سے میں محسوس کر رہا تھا کہ میرے مضامین کو نظر انداز کیا جا رہا تھا مگر میرے لئے یہ بات پریشانی کی نہ تھی کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ میری کمزوری کیا ہے اور یہ بھی جانتا ہوں کہ مضمون کا پیمانہ کیا ہونا چاہیے؟ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ہمارا معیار کیا ہے، میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ادھر میڈیا کی کون سی کمزوریاں ہیں وغیرہ وغیرہ۔ مختصر یہ کہ میرے ایڈیٹوریل پیج کے انچارج نے مجھ کو خبردار کیا کہ آپ کے مضامین بہت فلسفیانہ اور علمی ہوتے ہیں مگر بدقسمتی یہ ہے کہ ادھر اس قسم کے مضامین کو پسند نہیں کیا جاتا، اس نے آگے کہا کہ آپ سیاسی اور کرنٹ افیئر پر لکھا کرو۔ میں بولا جناب! آپ درست فرما رہے ہیں مگر ادھر سیاست ہے نہیں تو سیاسی مضامین لکھنے کا فائدہ کیا؟ دوسری بات یہ ہے کہ سیاسی مضمون صرف ایک دن کے لئے لکھا جاتا ہے اور میں علمی مضمون اس لئے لکھتا ہوں کہ یہ دائمی ہوتا ہے اور میرا ارادہ یہ ہے کہ آخر میں، میں تمام مضامین کو اکٹھا کر کے کتاب مرتب کروں گا۔ بہرحال میں آئندہ کرنٹ افیئر پر لکھنے کی کوشش کروں گا۔ جب کرنٹ آفیئر کی بات ہو تو سب سے پہلے ضروری یہ ہے کہ ہماری نظر تمام دنیا پر ہو کیونکہ زمینی حقائق جاننے کے لئے کرہ ارض کی تمام پالیسیوں کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ ایسا کرنے کے لئے تاریخی حقائق سرفہرست ہیں۔ اس بارے، میں نے آج سے دو سال پہلے ایک مضمون ”نیا دور، نیا انسان“ کے عنوان سے لکھا تھا۔ میں نے اس مضمون میں جو پیش گوئیاں کی تھیں تو اس کی شروعات ایک سال سے ہو چکی ہیں۔ میں نے لکھا تھا کہ کرہ ارض پر انسان کی موجودگی کے31  لاکھ سال ہو چکے ہیں۔ اس طویل عمر میں انسان نے صرف اور صرف نفرت کو پال رکھا ہے۔ اس عرصے میں انسان نے جھگڑا کرنے والے کو انعامات دیئے ہیں، فسادی کو تمغے دیئے ہیں، خونخوار کو نقد رقم، شیلڈ اور اسناد دیئے ہیں۔ صرف یہ نہیں خون بہانے والے کو بہت زیادہ سہولیات دی گئی ہیں جبکہ پیار اور محبت کرنے والوں کے لئے مختلف قسم کی سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ چونکہ انسانی سوچ صرف اور صرف خون خرابے کے گرد گھومتی پھرتی ہے یہی وجہ ہے کہ زمین اس وقت بارود خانہ بن چکی ہے۔ اتنا زیادہ بارود کہ یہ موجودہ زمین گیارہ بار تباہ کر سکتی ہے، ہر طرف بارود، جنگیں شور و زور سے جاری ہیں۔ ایک طرف لوگ بھوک و افلاس سے مر رہے ہیں تو دوسری طرف گولیاں برسائی جاتی ہیں۔ اس وقت انسانی جان بچانے والی ادویات ناپید ہو رہی ہیں جبکہ دوسری طرف ایٹمی دھماکے کر کے اربوں کھربوں کے حساب سے روپے ضائع کئے جا رہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ آخرکار انسانیت لرز اٹھی اور اس بارے فکر مند ہوئی کہ ہماری سمت غلط ہے۔ جنگ و جدل تباہی و بربادی ہے۔ جنگیں لڑنے میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔ جنگیں غربت،جہالت اور تباہی لے آتی ہیں۔ جنگیں ذلالت اور گمراہی ہیں۔ کیوں نا جنگوں کا خاتمہ کیا جائے، کیوں نا امن کی طرف بڑھیں، کیوں نا انسان کو بارود کی جگہ روٹی دیں، کیوں نا بچوں کو لینڈ مائنز سے معذور بنانے کی جگہ ان کو تعلیم دی جائے وغیرہ۔ ایسا کرنے کے لئے یعنی دنیا کو امن کی طرف لے جانے کے لئے ضروری تھا کہ زمین کے خوب صورت چہرے سے بارود اٹھایا جائے لیکن جب تک ہر ملک کی فوج ہو گی تو بارود کو کیسے اٹھایا جا سکتا ہے؟ ان تمام مسئلوں کا حل یہ تھا کہ تمام کرہ ارض سے ایک گاؤں بنایا جائے۔ جب تمام دنیا ایک گاؤں بن جائے تو بارود اور افواج کی ضرورت خود بخود ختم ہو جائے گی۔ وجہ یہ ہے کہ بارود اور افواج تو ہم علاقائی تعصب  کی خاطر اپنے پاس رکھتے ہیں۔ جب تک کسی ملک کے پاس فوج رہے گی تو بارود بھی رہے گا۔ جب تک فوج رہے گی تو وقتاً فوقتاً جنگ کی گھنٹی بجتی رہے گی۔ اس طریقے سے کثیر بجٹ مختص کرنا ہو گا اور عوام ٹیکس کی دلدل میں پھنسے رہیں گے۔ زمیں سے فوج اور بارود اٹھانے کی خاطر گلوبل  ویلج بنانا چند دنوں کی بات نہیں ہے ایسا کرنے کے لئے طویل ڈرامے کی ضرورت پڑے گی۔ چونکہ ڈرامے کا لکھاری ایک بندہ ہوتا ہے جبکہ ڈرامے میں پروڈیوسر، ہدایت کار اور اداکاروں کی ضرورت بھی درپیش ہوتی ہے۔ سب سے پہلے ضروری یہ تھا کہ ملک کے پارلیمانوں میں عقل اور شعور سے خالیyes men  بٹھائے جائیں، دوسری طرف قوم پرست اور مذہب پرستوں کا راستہ مکمل طور پر روکا جائے تاکہ درآمد پالیسیاں چیلنج کرنے کے لئے کوئی بندہ موجود نہ ہو۔ اس کے ساتھ ایسے حالات پیدا کئے جائیں جن میں باشندوں کو ایک دوسرے سے دور رکھا جائے تاکہ وہ حالات حاضرہ پر کسی قسم کی ڈیبیٹ نہ کر سکیں اور اس کے ساتھ ہی لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا کیا جائے تاکہ سیکیورٹی اداروں کو لامحدود اختیارات دیئے جائیں تاکہ وہ عوام کو خوب گھسیٹیں، اپنا رعب قائم کر سکیں اور اپنے لئے خوب پیسہ کما سکیں۔ اس وقت عالمی سطح پر جو کچھ بھی ہو رہا ہے تو اچھا ہو رہا ہے جس میں انسانیت کی بھلائی ہے کیونکہ دنیا امن کی طرف جا رہی ہے مگر ان حالات میں مشکل سے گزرنا بھی پڑے گا۔ وجہ یہ ہے کہ زیادہ تر ملکوں کے  باسی ذہنی غلام ہیں اور ان پنجروں کو توڑنا وہ اپنی تباہی اور مذہب سے دوری سمجھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی روایت پسند اور اقدار پسند اذہان بھی آزاد ہونے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس لئے وقفے وقفے سے نیا ڈرامہ درکار ہو گا خواہ یہ ڈرامے کسی بھی شکل میں ہوں، یعنی ملالہ کے بیان کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا یا شہزادہ سلمان کا کوئی نیا بیان آنا اور یا مفتی سردار کی شکل میں کسکریات وغیرہ۔۔۔ (جاری ہے)