اچھا تو سنو سر! (دوسرا حصہ)

اچھا تو سنو سر! (دوسرا حصہ)

تحریر: ڈاکٹر سردار جمال

اپنے مقاصد پورا کرنے کی خاطر تمام ممالک میں غیرسنجیدہ ماحول پیدا کر دیا گیا۔ اگر ہمارے ہاں پارلیمانوں میں بٹھائے گئے حضرات کے بارے میں سوچا جائے اور پھر ذرہ اِن کے ماضی میں جھانکا جائے تو آپ کو عجیب سا لگے گا کہ کل کے بٹیر باز، مرغ باز اور کتے لڑانے والے آج ہمارے منتخب نمائندے ہیں۔ پارلیمان میں لائے گئے ان پارلیمنٹیرینز کی ذہنی سطح دیکھ کر بندہ حیران رہ جاتا ہے کہ یہ لوگ کیسے کیسے بے ہودہ الفاظ منہ سے نکال رہے ہوتے ہیں۔ اب تک صرف دو باتیں کی جا رہی ہیں کہ میں پارسا ہوں اور دوسرا چور ہے۔ اس طرح جوابی الفاظ بھی انسانیت سے گِرے ہوئے ہیں جو یہاں ہم دہرانے سے رہے۔ پارلیمان کے علاوہ تمام ماحول غیرسنجیدہ بنایا گیا ہے یہاں تک کہ پیغمبر کے منبر پر بیٹھے ہوئے لوگ بھی اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں جس طرح کامیڈی فلم میں ریفرشمنٹ کی خاطر غیرضروری الفاظ ادا کئے جاتے ہیں جس کا مقصد سننے والوں کو ہنسانا ہوتا ھے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے جوانوں کو ٹک ٹاک جیسے فضول چیزوں میں مصروف رکھا گیا ہے۔ اگرچہ آج کے دور میں میڈیا ایک بہترین ہتھیار ہے جس سے بڑے بڑے کام لئے جاتے ہیں مگر ہمارے ہاں جوانوں کو غیرسنجیدہ بنا کر مختلف قسم کے نسوانی کام لئے جاتے ہیں۔ سماجیات اور اقتصادیات اپنے لئے جیسا بھی چاہیں راستے نکال سکتی ہیں۔ کاروباری دنیا میں کوئی رولز ریگولیشن نہیں۔ خرید و فروخت میں کوئی توازن نہ رہا۔ چک اینڈ بیلنس کا نظام ہے نہیں، ہر کسی کا اپنا بنایا ہوا ریٹ چل رہا ہے۔ ایڈمنسٹریشن کا کام صرف فوٹو سیشن کی حد تک محدود ہے۔ لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ درپیش ہے۔ جب کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو تصاویر اور ویڈیوز اپ لوڈ کی جاتی ہیں اور پھر سوشل میڈیا کے دانشور رائے کمنٹس کر دیتے ہیں۔ اسی طرح بحث کا میدان گرم رکھا جاتا ہے۔ تعلیمی سرگرمیاں تو قابل رحم ہیں۔ بچوں کی عجیب طرح کی ذہن سازی کی گئی ہے۔ اب تمام بچے تعلیمی پالیسیاں مذاق سمجھ رہے ہیں۔ اگر ایک بچے سے کہا جائے کہ فلاں دن سکول جانا ہے تو وہ ہنستا ہے اور جواب دیتا ہے انکل شام کو کوئی خبر آئے گی۔ اگر ایک بچے سے امتحان کے بارے میں کہا جائے تو مذاق سمجھ لے گا اور جواب دے گا کہ وزیر تعلیم کی بات کو سنجیدہ نہیں لینا چاہیے۔ ملک کے تمام باشندے احتجاج پر نکل آئے ہیں، خواہ وہ مرد حضرات ہوں یا خواتین، جو کئی کئی دن احتجاج کر رہے ہیں اور نعرہ بازی کرتے ہیں اور آخر میں لاٹھی چارج کا سامنے کر کے گھروں کو لوٹ آتے ہیں۔ مرد تو کیا خواتین بھی لاٹھیوں سے دوچار ہو جاتی ہیں۔ سرکاری ملازمین کے علاوہ عام مزدور اور کسان بھی احتجاج ریکارڈ کرنے کے لئے اتر آئے ہیں جو زور زور سے چلانے کے بعد لاٹھیاں ہی کھا کر لوٹ جاتے ہیں۔ زندہ لوگوں کی چیخیں نکالنا تو چھوٹی بات ہے ادھر تو مردے بھی سکون میں نہیں ہیں۔ لاشیں تابوتوں میں رکھنے کے بعد سڑکوں پر رکھی جاتی ہیں اور بدنصیب میت کے لئے انصاف مانگا جاتا ہے لیکن انصاف زندہ اور مردہ دونوں کے لئے ندارد! اگرچہ مہنگائی ناقابل برداشت حد تک پہنچ چکی ہے مگر اس بارے کوئی سنجیدہ نہیں ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ہماری ترجیحات کچھ اور ہیں۔ ہم حالت جنگ میں ہیں اور وہ بھی ذہنی خلفشار کی جنگ! یعنی ہم تقسیم درتقسیم ہیں، ہم صرف اتنا سوچتے ہیں کہ اپنے لیڈر کا دفاع اور دوسروں کے لیڈر کو چور ثابت کریں یہاں تک کہ ہمارے وزیراعظم صاحب اور ان کی کابینہ نے بھی تین سال صرف ایک لفظ کہہ کہہ کر گزار دیئے کہ نواز چور ہے! اور عجیب منطق ہے کہ مہنگائی آسمان تک پہنچ گئی اور چور نواز شریف ہے مگر اس ملک کے باشندے ہیپناٹائز ماحول میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ہیپناٹائز وہ ماحول ہوتا ہے جس میں قوم کا دماغ اپنی مرضی کے مطابق استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ایک ملک کا جوان طبقہ ایک ملک کا سرمایہ ہوتا ہے جو ملک کو آگے کی طرف لے جاتے ہیں مگر ہمارے جوانوں کو غیر سیاسی بنا دیا گیا ہے۔ وہ حالات حاضرہ سے بے خبر، وہ سائنسی دنیا سے بے خبر، وہ لاجک سے بے خبر، وہ عصری تعلیم سے بے خبر مذہبی مجنون بنے ہوئے ہیں۔ ہمارے جوان فرقہ پرست اور انتہا پسند بنا دیئے گئے ہیں۔ وہ صرف دوسرے کے خلاف نعرہ بازی جانتے ہیں۔ ان کی سوچ  یہ ہے کہ میں سیدھے راستے پر ہوں جبکہ باقی تمام لوگ گمراہ ہیں۔ ہمارے جوان صرف اتنا جانتے ہیں کہ لڑو اور  لڑائی ہے بھی ایسی جس میں ہار ہے ہی نہیں، جیتا تو غازی اور اگر مرا تو شھید! (جاری ہے)