اچھا تو سنو سر! (آخری حصہ)

اچھا تو سنو سر! (آخری حصہ)

تحریر: ڈاکٹر سردار جمال

نئی دنیا بسانے کی خاطر اگر کچھ سامنے لانا ہے تو بالکل اسی طرح بہت ساری چیزوں کو پیچھے بھی دھکیلنا ہے۔ ایسا کرنے کے لئے ماضی کی طرف جانا ہو گا۔ ماضی میں عمرانی تقاضوں کے مطابق بہت ساری حقیقتیں دفنائی  گئیں اس لئے ان مردوں میں سے بعض مردوں کو دوبارہ زندہ کرنا پڑے گا جبکہ بعض زندہ لاشوں کو دفن کرنا پڑے گا۔ اگر ماضی میں دیکھا جائے تو مذہب کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ ایسا کرنے کے لئے مذہب کی من پسند تاویلیں پیش کی گئیں جن کا مقصد فرقہ واریت کو تقویت دینا اور معاشرے کو تشدد کی طرف لے جانا تھا۔ انسانی المیہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اختلافات میں پھنس کر اصل مقاصد بھلا دیتے ہیں۔ اسی طرح طبقاتی معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ طبقاتی معاشرے میں سرمایہ داروں اور فرقہ پرست ملاؤں کا بول بالا ہوتا ہے۔ اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو کئی عشروں سے مذہب کے نام پر خون بہایا گیا۔ جب فرقہ واریت نے اپنی حد عبور کر لی تو سیاسی اور مذہبی پیشواؤں نے جہاد کے نام پر کثیر رقم کمائی۔ چونکہ مذہبی انتہاپسندی میں بندہ اپنی سوچ کھو دیتا ہے اور دوسروں کے اشاروں پر چلتا ہے اس لئے کبھی کسی نے اپنی سوچ سے کام لینے کی زحمت ہی نہیں کی ہے۔ ہمارے ہاں اگر جہادی سرگرمیاں پر سوچا جائے تو بندہ حیران رہ جاتا ہے کہ ایک مسلمان بندہ افغانستان کے جہاد میں یہود و نصاری کے ساتھ ٹینک میں بیٹھ کر ان سے یک زبان اور یک آواز ہو کر روس کے خلاف نعرہ اللہ اکبر بلند کرتا ہے کیونکہ انہیں بتایا گیا ہے کہ یہ لوگ اہل کتاب ہیں لہذا جہاد کرتے کرتے شہادت نصیب ہو جاتی ہے۔ چند سال بعد شھید کا بیٹا جوان ہو کر میدان میں کودتا ہے اور وہ ان لوگوں کے خلاف لڑتا ہے جس کے والد کو ان کی گود میں شھادت نصیب ہوئی تھی۔ وجہ یہ ہے کہ اب اس جوان کو بتایا گیا ہے کہ یہود اور نصاری کے خلاف لڑو کیونکہ یہ لوگ کبھی مسلمانوں کے دوست اور خیر خواہ نہیں بن سکتے۔ آخرکار اس جہادی کو بھی شھادت نصیب ہو جاتی ہے۔ بات عجیب ہے یعنی جس محاذ سے والد لڑ رہا تھا تو وہ بھی شھید اور جس محاذ کے خلاف بیٹا لڑ رہا تھا وہ بھی شھید! بلکہ صرف اتنا ہی نہیں آج کل تیسری نسل پوتوں کی شکل میں ان دونوں کے خلاف لڑ رہی ہے جس کے حق میں ان کے باپ دادا لڑے تھے۔ مذہب کے نام پر کئی صدیوں سے خون بہایا گیا مگر وقت کے ساتھ ساتھ سامراج کا توازن بگڑتا گیا اور شدت پسند اتنے قوی بن گئے کہ برہمن کے بچے کانپنے لگے کہ کہیں ایٹمی پلانٹس جیسے مہلک ہتھیار شدت پسندوں کے ہاتھ نہ لگ جائیں لہذا مزید بارود نہ بونا مجبوری بن گئی۔ اس لئے فرقہ واریت کو روکنا تھا۔ ایسا کرنے کے لئے بنیاد کی طرف جانا  تھا۔ مطلب یہ کہ اس جگہ سے فرقہ واریت کو روکنا تھا جہاں اس کا منبع تھا۔ وہ لوگ خوب جانتے ہیں کہ مسئلہ کہاں سے کنٹرول کیا جاتا ہے تو ظاہر ہے کہ فرقہ واریت کی بنیاد اس وقت رکھی گئی جس وقت مسلمانوں کی عظیم حکومت سلطنت عثمانیہ کو تار تار کرنا تھا۔ چونکہ اسلام اخوت، بھائی چارے اور مضبوط معاشیات کا دین تھا اور جب تک ان کے درمیان اخوت کو نہ توڑا جاتا تو اغیار اپنے مقاصد پورے نہیں کر سکتے تھے۔ لیکن یہ بات عیاں تھی کہ مسلمانوں کی ترقی کا راز اتفاق اور اتحاد ہے جس کا سرچشمہ قرآن اور حدیث ہیں۔ مسلمان قرآن اور حدیث کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھے اور تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی تھے اس لئے ضروری یہ تھا کہ اتفاق اور اتحاد کی یہ رسی کاٹ دی جاتی۔ ایسا کرنے کے لئے مسلمانوں کے درمیان فرقے بنا کر اور اس عظیم دین، اسلام، کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا ان کی ترجیحات میں سرفہرست رہا۔ جب صلیبی جنگیں شروع ہوئیں تو سب سے پہلے سلطنت عثمانیہ کو ٹکڑے کرنا ضروری تھا۔ ایسا کرنے کے لئے بعض جنگجوؤں کو حکمران بنانے کا لالچ دینا تھا۔ دوسری طرف لوگوں کی قرآن و حدیث سے توجہ ہٹانے کے لئے ایک عالم دین کی ضرورت تھی جو انہیں عبدالوہاب نجدی جیسے بندے کی شکل میں مل گیا۔ اس کے ساتھ ہی سعود جیسا نڈر ڈاکو بھی ہاتھ آیا جو بہت جلد ایک طاقتور مسلمان حکومت کو گرانے میں کامیاب ہوئے۔ اس وقت سے لے کر اب تک مسلمان ممالک عبدالوہاب نجدی کے نظریات وہابیت سے بھر دیئے گئے۔ اس طرح دین اسلام صرف اور صرف کفر کے فتوے دینے کے لئے استعمال کیا  گیا۔ شرک و بدعت کے کلمات عام ہوئے، فرقے بنتے رہے، خون بہایا گیا اور پیسہ کمایا گیا۔ چونکہ دنیا امن کی طرف جانا چاہتی ہے اس لئے سب سے پہلے فرقہ واریت کو ختم کرنا ہو گا اور فرقہ واریت ختم کرنے کے لئے سعودی ولی عہد شہزادہ سلمان جیسا بندہ استعمال کرنا ہو گا۔ اگرچہ پہلے پہل وہ ایسا کرنے کو تیار نہ تھا کیونکہ فرقہ پرستی میں ریال بڑھ چڑھ کر ہے۔ مگر اسے کہا گیا کہ آپ لوگوں کے ساتھ حکمرانی کرنے کے لئے صرف سو سال کا ایگریمنٹ ہوا تھا اور وہ مدت پوری ہو چکی ہے یعنی سلطنت عثمانیہ گرانے میں تعاون کرنے پر آپ کے پر دادا سے صرف سو سال کا معاہدہ یہ ہوا  تھا کہ آپ کو سو سال کے لئے برسراقتدار رکھا جائے گا۔ بہت سوچ و بچار کے بعد شہزادہ نے برملا برٹش پالیسوں کا اعلان کیا اور اپنے  قانون میں جدید نقاط شامل کر دیئے جن میں حقوق نسواں سرفہرست ہیں۔ اس کے ساتھ ہی قصاص کا قانون درمیان سے چلا گیا، شراب پینے میں نرمی لائی گئی، بوائے فرینڈ گرل فرینڈ کو سراہا گیا، سنگسار جیسی سخت سزائیں ختم کر دی گئیں وغیرہ وغیرہ اور سب سے اہم اور بڑا کام ان سے یہ لیا گیا کہ90%  احادیث بے بنیاد قرار دی گئیں اور ساتھ ہی ساتھ چاروں اماموں اور ان سے منسوب فقہہ بھی غیرضروری قرار پایا۔