ڈپریشن، اس کی وجوہات، علامات اور اس کا علاج کیا ہے؟​​​​​​​

ڈپریشن، اس کی وجوہات، علامات اور اس کا علاج کیا ہے؟​​​​​​​

وقار احمد
ڈپریشن کیا ہے؟ ڈپریشن کی اقسام اور ڈپریشن کی علامات کیا ہیں؟ جبکہ ڈپریشن کے نقصانات کے ساتھ ساتھ ڈپرشن کا علاج کیسے ممکن ہے؟


طب کے مطابق جب اداسی اتنی بڑھ جائے جس سے معمولات زندگی متاثر ہوں ڈپریشن کہلاتی ہے ایک ایسا مرض جو انسان کی جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ ذہنی صحت بھی متاثر کرے ڈپریشن کہلائے گی۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی رپورٹس کے مطابق دنیا کا ہر تیسرا بندہ ڈپریشن کا شکار ہے مطلب یہ کہ سو فیصد میں سے تینتیس فیصد لوگ ڈپریشن میں مبتلا ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کے ہر آٹھویں گھر میں ایک فرد ڈپریشن کی لپیٹ میں ہے اور زیادہ تر خواتین اس مرض میں مبتلا ہیں کیونکہ خواتین کو بہت سارے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 


ڈپریشن سے خودکشی تک کے چار مراحل ہیں؛ سب سے پہلے انسان کو کسی مسئلے کی وجہ سے پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، دوسرے مرحلے میں انسان پریشانی کی وجہ سے سٹریس لے لیتا ہے جس کی وجہ سے تیسرے مرحلے میں وہ سٹریس ڈپریشن کا باعث بنتی ہے اور یہی ڈپریشن پھر خودکشی کی طرف مائل کرتی ہے۔ خوکشی کی مختلف اقسام ہیں جن میں کوئی زہر کھا لیتا ہے تو کوئی خود کو پھانسی کر لیتا ہے اور یا پھر کوئی نشوں میں ایسے مبتلا ہو جاتا ہے جو مہینوں میں موت تک پہنچا دیتی ہے۔ زیادہ تر لوگ جب ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں تو وہ نیند کی گولیاں کھاتے ہیں جو کہ ڈپریشن کی ایک علامت ہے۔


ڈپریشن کی اقسام
عام طور پر ڈپریشن کی سات اقسام ہیں جو ذیل ہیں:
 1.Major depressive disorder(MDD)
2.Persistent depressive disorder(PDD)
3.Bipolar disorder 
4.Postpartum disorder(PPD)
5.Permenstrual dysphoric disorder(PMDD)
6.Seasonal affective disorder(SAD)
7.Atypical disorder 1.Major depressive disorder(MDD):

میجر ڈیپریسیو ڈس آرڈر ایک ایسی قسم ہے جس میں انسان کا مزاج ہر وقت خراب ہوتا ہے اور اسے"ANHEDONIA"  ہوتی ہے جس میں انسان روزمرہ کے کاموں میں دلچسپی نہیں لیتا اور جب اس کا دورانیہ دو ہفتوں سے بڑھ جائے تو پھر اسے میجر ڈیپریسیو ڈس آرڈر کہتے ہیں۔


2۔ Presistent depressive disorder(PDD)
یہ ڈپریشن کی دوسری قسم ہے جس میں انسان ہمیشہ گہرے غم اور دکھ میں رہتا ہے جبکہ ہمیشہ ناامید رہتا ہے اس قسم کو"DYSTHIMIA"  بھی کہتے ہیں۔ جب یہ سلسلہ تقریباً دو سال سے بڑھ جائے تو اسےPresistent  ڈپریسیو ڈس آرڈر کہتے ہیں۔


3۔ Bipolar disorder 
یہ ایک ایسی بیماری ہے جس میں انسان کبھی حد سے زیادہ خوش تو کبھی حد سے زیادہ مایوس ہو جاتا ہے اور ہمیشہ خودکشی کی کوشش میں رہتا ہے اور جب یہ دورانیہ دو تین مہینے سے بڑھ جائے بائپولر ڈس آرڈر کہلاتا ہے۔ ڈپریشن کی اس قسم کو "MYNIA" بھی کہتے ہیں۔


4۔ Postpartum disorder(PPD)
یہ بیماری زیادہ تر خواتین میں پائی جاتی ہے؛ یہ ایک ایسی بیماری ہے جس میں ایک خاتون بچے کی پیدائش کے بعد مایوسی محسوس کرتی اور بچے کو بوجھ سمجھنے لگتی ہے اور جب یہ سلسلہ ایک سال کے عرصے سے بڑھ جائے تو اسے پوسٹ پارٹم ڈس آرڈر کہا جاتا ہے۔


5۔ Permenstrual dysphoric disorder(PMDD)
ڈپریشن کی یہ قسم بھی خواتین میں پائی جاتی ہے جس میں خاتون ماہواری کے ایک یا دو ہفتے پہلے ڈپریشن، بے چینی اور چڑچڑاہٹ محسوس ہوتی ہے تو اس قسم کوPermenstrual  ڈسپورک ڈس آرڈر کے نام سے جانا جاتا ہے۔


6۔ Seasonal affective disorder(SAD)
یہ ایک ایسی قسم ہے جس میں انسان موسم کی تبدیلی کی وجہ سے ڈپریشن میں رہتا ہے جب گرمی بڑھ جائے یا سردی بڑھ جائے جس کی وجہ سے ڈپریشن کا شکار انسان مایوس رہتا ہے اور جب مایوسی کا یہ دورانیہ چار یا پانچ مہینوں سے بڑھ جائے تو اسے سیزنلAffective  ڈس آرڈر کہتے ہیں۔
7۔ Atypical disorder
ایک ایسی قسم جس میں انسان حد سے ذیادہ غمزدہ رہتا ہے، ہر وقت سونے کی کوشش کرتا ہے اور اپنے وجود کو بھاری محسوس کرتا ہے اور جب یہ دورانیہ چھ یا آٹھ مہینے سے بڑھ جائے تو اسے پھرAtypical  ڈس آرڈر کہا جاتا ہے۔


ڈپریشن کی وجوہات
ڈپریشن ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے پوری دنیا کا جس کی بہت ساری وجوہات ہیں جن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں:


ڈپریشن کی سب سے بڑی وجہ محبت میں ناکامی ہے؛ وہ لوگ جو محبت میں ناکام ہو جاتے ہیں وہ ڈپریشن کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔ بہت سارے جوان لوگ جنھوں نے خودکشی کی جب وجہ معلوم ہوئی تو پتا چلا کہ ڈپریشن سے تنگ آ کر خودکشی کی اور ڈپریشن کی وجہ محبت میں ناکامی تھی۔ آئے روز خبریں ملتی ہیں کہ محبت میں ناکام ہو کر لڑکے یا لڑکی نے زہر کھا کر اپنی جان لے لی۔ بہت سارے لوگ جب محبت میں ناکام ہو جائیں وہ اتنے ڈپریشن میں ہوتے ہیں کہ زندگی کے مقصد سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور ہمیشہ اپنے آپ کو قصور وار ٹھہراتے رہتے ہیں اور آخر میں اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔


ڈپریشن کی دوسری سب سے بڑی وجہ گھریلو مسئلے، ساتھ گھریلو لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے بچے ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں۔ بہت بار ایسا ہوا کہ بیٹا گھریلو لڑائی جھگڑوں سے ڈپریشن میں چلا جاتا ہے جس کی وجہ سے یا تو اپنی جان لے لیتا ہے یا اپنی ماں یا اپنے باپ کو اور یا اپنی بیوی کو جان سے مار دیتا ہے۔ ڈپریشن کی تیسری وجہ بے روزگاری ہے کیونکہ بے روزگاری کی وجہ سے نہ کھانے کو کچھ ملتا ہے اور نہ بیماری کی صورت میں علاج کیلیے پیسے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ہر وقت فکر رہتی ہے اور پھر وہ ٹینشن انسان پر اتنی مسلط ہو جاتی ہے کہ انسان ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے اور پھر وہی ڈپریشن کا شکار انسان سمجھتا ہے کہ اس کا علاج خودکشی ھے۔


حال ہی میں پاکستان میں بے روزگاری اتنی بڑھ گئی کہ کئی لوگوں نے اپنی اور اپنے بچوں کی جان لے لی۔ بعض دفعہ خاوند اور بیوی کے درمیان بات طلاق تک پہنچ جاتی ہے اور پھر زیادہ تر خواتین طلاق کی صورت میں ڈپریشن کا شکار ہو جاتی ہیں کیونکہ طلاق یافتہ عورتوں کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے خواتین ڈپریشن کا شکار ہو جاتی ہیں اور زندگی کی طرف لوٹنا ان کیلیے ناممکن ہو جاتا ہے۔ ڈپریشن کی پانچویں بڑی وجہ ذہنی دباؤ اور جسمانی تھکن ہے کیونکہ انسان پر پڑھائی یا کسی اور کام کا اتنا بوجھ آ جاتا ہے کہ جس سے ذہنی دباؤ اور جسمانی تھکن بڑھ جاتی ہے، اکثر طلبا بہت ساری اکیڈمیوں میں پڑھتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ٹیوشن بھی لیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ جسمانی طور پر بھی تھک جاتے ہیں اور ذہنی دباؤ بھی بڑھ جاتا ہے اور وہ ڈپریشن مبتلا ہو جاتے ہیں اور ڈپریشن ایک ایسی بیماری جس کی وجہ سے کوئی بھی انسان زندگی میں آگے نہیں بڑھ پاتا۔


ڈپریشن کی دیگر وجوہات میں حساسیت، امتحان میں فیل ہونا شامل ہیں، کیونکہ بہت سارے طلباء امتحان میں ناکامی پر اپنی جان لے لیتے ہیں۔ ڈپریشن ان پر اس لیے حاوی ہوتی ہے کیونکہ پہلے تو والدین کی کھری باتوں کو سننا پڑتا ہے، خاندان میں بھی ان پر لوگ ہنستے ہیں، اس کے علاوہ دوست بھی ان کا مذاق اڑاتے ہیں اوپر سے اساتذہ کرام کا بھی سامنا کرنا پڑتا ھے جس کی وجہ سے ڈپریشن بڑھ جاتی ہے۔ 


ڈپریشن کی علامات
ڈپریشن کی بہت ساری علامات ہیں۔ ڈپریشن کی سب سے پہلی علامت یہ ھے کہ انسان زیادہ وقت کیلیے پریشان رہتا ہے جس کی وجہ سے انسان روزمرہ کے کاموں میں دلچسپی نہیں لیتا اور زندگی اس کیلیے بوجھ بن جاتی ہے۔ جتنا بھی اس انسان کو خوش کرنے کی کوشش کی جائے اس کی خوشی تھوڑے وقت کیلیے ہوتی ہے۔ دوسری علامت جسمانی کمزوری محسوس کرنا اور اس کے ساتھ ساتھ ساتھ ذہمی کمزوری محسوس کرنا کیونکہ ڈپریشن میں انسان زیادہ تر نشے کی طرف مائل ہوتا ہے اور نشے کی وجہ سے قوت مدافعت کمزور ہوتی ہے جو کہ جسمانی کمزوری پیدا کرتی ہے اور نشہ کرنا وہ اتنا بڑھا دیتا ہے اور کسی واقعے کو اپنے اوپر اتنا سوار کر لیتا ہے کہ انسان ذہنی کمزوری محسوس کرتا ہے جس کی وجہ سے انسان اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھتا ہے اور دماغی مریض بن جاتا ہے۔


ڈپریشن کی سب سے بڑی علامت مزاج میں تبدیلی ہے جبکہ ڈپریشن کے شکار انسانوں کے بولنے کا انداز بدلتا ہے جبکہ جسم میں درد اور جسمانی کمزوری محسوس ہوتی ہے کیونکہ دماغ میں خاص قسم کے ہارمونز ڈوپامائن اور سیروٹونین پائے جاتے ہیں جس کا تعلق جسمانی توانائی اور مزاج سے ہے، ان ہارمونز میں کمی بیشی مزاج میں تبدیلی اور جسمانی درد کا باعث بنتی ہے۔ خوداعتمادی میں کمی اور مستقبل سے مایوس ہونا بھی ڈپریشن کی علامات میں سے ہیں کیونکہ اگر ہر کام میں انسان اپنے آپ پر اعتماد نہیں کرتا اور فیل ہونے سے ڈرتا رہتا ہے تو یہی انسان ڈپریشن کا شکار ہوتا ہے۔ جب انسان پریشان ہوتا ہے تو یہ قدرت کا قانون ہے کہ وہ انسان خوداعتمادی سے دور ہو گا۔


ڈپریشن کی پانچویں بڑی علامت یہ ہے کہ انسان ہر وقت خودکشی کرنے کی کوشش کرتا ہے اور جب بھی موقع پاتا ہے تو اپنے آپ پر وار کرتا ہے یا تو زہر کھانے کی کوشش میں ہوتا اور یا اپنے آپ کو گولی مارنے کی کوشش کرتا ہے۔ بھوک نہ لگنا اور نیند کا نہ آنا بھی ڈپریشن کی علامات میں شامل ہے کیونکہ جب پریشانی حد سے زیادہ بڑھ جاتی ہے تو پھر انسان کو نہ نیند آتی ہے اور نہ بھوک لگتی ہے۔


ڈپریشن کے نقصانات
ڈپریشن کے بہت سارے نقصانات بھی ہیں جن میں سے چند نقصانات مندرجہ ذیل ہیں۔ ڈپریشن ایک ایسی بیماری ہے جس سے اور بیماریاں بھی جنم لے سکتی ہیں جن میں سب سے بڑا مرض کینسر ہے کیونکہ ڈپریشن کی وجہ سے قوت مدافعت کمزور ہوتی ہے جس کی وجہ سے کینسر انسان پر آسانی سے حملہ کر سکتا ہے۔ ڈپریشن کا سب سے بڑا نقصان خودکشی ہے اور آئے روز خودکشی کے کیسز بڑھ رہے ہیں اور پاکستان میں تو خودکشی کی شرح0.8  فیصد ہے جو دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔ خودکشی کی لپیٹ میں زیادہ تر نوجوان ہیں کیونکہ ڈپریشن کی بیماری زیادہ تر نوجوانوں میں پائی جاتی ہے۔ ڈپریشن سے دل کی بیماریاں اور سانس کی بیماریاں بھی جنم لیتی ہیں اور زیادہ تر ہارٹ اٹیک بھی ڈپریشن ہی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ڈپریشن کا سب سے بڑاہ نقصان شراب نوشی اور اس کے ساتھ ساتھ دوسری مختلف نشہ آور اشیا کا زیادہ استعمال کیونکہ انسان اپنے آپ کو ذہنی سکون دینے کیلیے نشے کا عادی ہو جاتا ہے جس سے جسمانی صحت بہت کمزور ہوتی ہے۔ اور اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔


ڈپریشن کا علاج
ڈپریشن کا علاج مندرجہ ذیل طریقوں سے ہو سکتا ہے:۔


سائیکو تھراپی:
زیادہ تر ڈپریشن کے مریض ڈپریشن کی وجوہات نہ اپنے والدین کو بتا سکتے ہیں نہ بہن بھائیوں کو اور نہ اپنے دوستوں کو اسی لیے ان کا علاج سائیکو تھراپی کے ذریعے کیا جا سکتا ہے کیونکہ سائیکو تھراپی کے ذریعے سائیکالوجسٹس ڈپریشن کے شکار مریضوں کے حالات جاننے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر انھی حالات کے مطابق وہ ڈپریشن کے مریضوں کا علاج کرتے ہیں۔


اینٹی ڈپریسنٹ ادویات:
سائیکو تھراپی کے ساتھ ساتھ ڈپریشن کے مریضوں کا علاج اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کے ذریعے کیا جا سکتا ہے اس لیے زیادہ تر سائیکالوجسٹس اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کے ذریعے اور سائیکوتھراپی کے ذریعے کرتے ہیں۔ 


ورزش اور متوازن غذا:
ڈپریشن کے مریضوں کو زیاد تر متوازن غذا اور ورزش کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ ڈپریشن کی وجہ سے ان کی جسمانی صحت متاثر ہوئی ہوتی ہے اس لیے ان کا علاج روزانہ کی بنیاد پر ورزش اور متوازن غذا سے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ 


شراب نوشی سے دوری اور نیند پوری کرنا:
سائیکالوجسٹس زیادہ تر ڈپریشن کے مریضوں کو شراب نوشی، سگریٹ نوشی اور مختلف نشوں سے دور رکھتے ہیں اور ان کو نیند پوری کرنے کی تلقین کرتے ہیں کیونکہ شراب نوشی سے دوری اور نیند پوری کرنا ہی ڈپریشن کا علاج ہے۔ اس کے علاوہ ڈپریشن کے مریض کو چاہئے کہ مایوسی کو دور پھینکیں کیونکہ جتنی مایوسی بڑھتی ہے اتنی ڈپریشن بڑھتی ھے۔


ڈپریشن کے بارے میں آگاہی
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ڈپریشن کو کیسے روکا جا سکتا ہے؟ ڈپریشن کو آگہی کے ذریعے روکا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلے گھریلو مسئلے ختم کرنے سے ہی ڈپریشن پر قابو پانا ممکن ہے۔ اس کے علاوہ بچوں کو جسمانی اور ذہنی تھکاوٹ سے محفوظ رکھنے سے بھی ڈپریشن میں کافی حد تک کمی آ سکتی ہے۔ ہر گھر، ہر سکول، ہر کالج، ہر یونیورسٹی، ہر دفتر اور ہر ہسپتال میں ڈپریشن کے بارے میں آگہی مہم ہونی چاہئیں اور یہ آگاہی پیدا کرنی چاہئے کہ جس طرح سگریٹ نوشی مضر صحت ہے ٹھیک اسی طرح ڈپریشن بھی مضر صحت ہے۔ چونکہ یہ بیماری ذیادہ تر طلبا اور خواتین میں پائی جاتی ہے اس لیے ہر تعلیمی اداروں میں ڈپریشن کے بارے میں آگہی مہم چلانے سے اس کو روکا جا سکتا ہے اور اگر ڈپریشن کم ہو جائے تو خودکشی کے کیسز میں بھی خاطر خواہ کمی آسکتی ہے۔ سائیکالوجسٹس اس میں بہت کردار ادا کر سکتے ہیں کیونکہ وہ اس بیماری کو اچھی طرح سے سمجھتے ہیں۔ 


ہم چونکہ انسان ہیں اس لیے ہم پر کبھی کبھی ایسے حالات آتے ہیں کہ ہم مایوس ہو جاتے ہیں اور کبھی ایسے حالات آتے ہیں جس پہ ہم خوشی محسوس کرتے ہیں۔