2021: کیا کھویا کیا پایا؟

2021: کیا کھویا کیا پایا؟

تحریر: انصار یوسفزئی 

سال2021  بھی اپنے اختتام کو بالآخر پہنچ گیا۔ اگر پورے وثوق سے دیکھا جائے تو سال2021  ہمارے لئے اچھا کم اور برا زیادہ رہا یعنی کھویا بہت کچھ اور پایا بہت کم۔ سال2021  جو اب گزر ہی گیا لیکن عالمی وبا کورونا وائرس سے کئی حد تک متاثرہ اور سیاسی ہنگاموں سے بھرے اس سال میں ہم نے بہت کچھ کھویا، اداروں کا وقار کھویا، اسٹیٹ بینک کی صورت میں ملکی معیشت کو گروی رکھ کر ملکی خودمختاری داؤ پر لگا دی، پچھلے کئی سالوں کی طرح2021  میں بھی نیب کا دہرا معیار دیکھا، ایک دوسرے کی عزتیں اچھلتی دیکھیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنے ایجنڈے کو تکمیل تک پہنچانے کی بجائے ہم نے سامراجی قوتوں کا ایجنڈا پایہ تکمیل تک پہنچایا اور دوسروں کے آلہ کار بننے سے نقصان بھی بہت اٹھایا اور اب2021  کے بالکل اختتام پر حکومت نے منی بجٹ کی شکل میں ٹیکس کی بھرمار کر کے لوگوں میں مایوسی کی ایک عجیب سی کیفیت پیدا کر دی اور لوگ اب یہ سوچ رہے ہیں کہ آگے کیا ہوگا؟
سال 2021 میں ہم نے کیا کھویا کیا پایا؟ بڑا اہم سوال ہے، آیئے ایک ایک کر کے اس پر ایک تفصیلی نظر ڈالتے ہیں:


معیشت: 

سال2021  کو اگر معاشی اعتبار سے دیکھا جائے تو عالمگیر وبا کورونا وائرس کی وجہ سے ایک بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ کرہ ارض پر شائد کوئی انسان یا کوئی ایسا ملک ہو جو سال2020  کی طرح سال2021  میں بھیCOVID-19  سے پیدا ہونے والی معاشی صورتحال سے متاثر نا ہوا ہو۔ کورونا وباء کی وجہ سے کم و بیش تمام ممالک کی معیشت کے اشاریے اس وقت اس ملک کی امنگوں کے مطابق نہیں ہیں۔ پاکستان کی بات کریں تو عوام کے مطابق موجودہ حکمرانوں کی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ہماری معیشت کے اشارے ویسے بھی تنزلی کی طرف رواں دواں تھے اور اوپر سے رہی سہی کسر کورونا نے پوری کر دی۔ کورونا نے پاکستان کی ڈوبتی معیشت کو مزید ڈبو کر رکھ دیا جس کا اندازہ منی بجٹ سے لگایا جا سکتا ہے۔ منی بجٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ معیشت آخری ہچکولے کھا کر وینٹیلیٹر پر پہنچ چکی ہے اور نیازی حکومت کو اس کا کوئی حل نظر نہیں آ رہا ہے۔

 

سیاست: 

2021 کو اگر سیاسی اعتبار سے دیکھا جائے تو جان لیوا وائرس کے باوجود یہ سال سیاسی جلسوں، ہنگاموں اور دھرنوں سے بھرپور رہا۔2021  میں افغانستان میں طالبان حکومت آنے پر پوری دنیا میں ایک سیاسی ہلچل مچ گئی۔ پڑوسی ملک افغانستان میں سیاسی منظرنامے کی تبدیلی سے پوری دنیا کا سیاسی منظر نامہ تبدیل ہوگیا ہے۔ افغانستان میں کسی بھی پولیٹیکل ڈویلپمنٹ کا براہ راست اثر پاکستان پر پڑتا ہے۔ اس بار بھی پاکستان پر کافی اثر پڑا ہے۔ افغان طالبان کی وکالت پر اس وقت طاقت ور امریکہ اور ویسٹ ہم سے ناراض ہیں۔ ان کی ناراضگی سمجھ میں آنے والی ہے مگر چین کا اس معاملے میں پاکستان کے ساتھ کھلم کھلا کھڑے نہ ہونا سمجھ سے بالاتر ہے۔ اس سال آزاد کشمیر کے انتخابات پاکستان کی سیاست میں موضوع بحث بنے رہے۔ 25 جولائی کو ہونے والے یہ انتخابات حکمران جماعت نے واضح اکثریت سے اپنے نام کئے۔2021  میں پاکستان کے گرما گرم سیاسی ماحول میں اس وقت حدت پیدا ہوئی جب پشتون تحفظ موومنٹ کے اہم رہنما اور ممبر قومی اسمبلی محسن داوڑ نے نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے نام سے اپنی ایک پارلیمانی سیاسی جماعت کی بنیاد رکھ دی۔ عوامی نیشنل پارٹی سے نکالے گئے افرا سیاب خٹک، بشرا گوہر اور لطیف آفریدی ان کی پارٹی کا حصہ ہیں۔2021  جاتے جاتے مولانا فضل الرحمن کیلئے بہت قیمتی ثابت ہوا۔ حال ہی میں ہونے والے خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں ان کی جماعت نے سات لاکھ سے زیادہ ووٹ لے کر سب سے زیادہ تحصیل نظامت کی نشستیں اپنے نام کیں۔

 

2021 میں کچھ اہم سیاست دان ہمیں چھوڑ کر راہی عدم ہوگئے۔ ان میں سابق صدر پاکستان ممنون حسین، پاکستان مسلم لیگ نون کے سینیٹر اور دبنگ سیاست دان مشاہد اللہ خان اور پرویز ملک اس سال خالق حقیقی سے جا ملے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے عظیم سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خان بھی اس سال مرنے والوں میں شامل ہیں۔ لب و لباب یہ کہ2021  میں پاکستان کی سیاست بہت کنفیوژن کا شکار رہی کیوںکہ نا ''ریاست مدینہ'' کی دعویدار حکومت اور نا ہی اپوزیشن کی حکمت عملی کی کوئی واضح سمت نظر آئی۔

 

صحافت

سیاست اور صحافت کا چولی دامن کا ساتھ ہے، سیاست کی بات ہو اور صحافت کا ذکر نا کیا جائے تو بات کیسے مکمل ہو سکتی ہے۔ ایک بات واضح ہے کہ  آج کی دنیا صحافت کے بغیر نامکمل ہے۔ صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے اور ایک صحافی کے کندھوں پر بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور وہ ذمہ داری ہے قوم کی صحیح سمت میں رہنمائی کرنا لیکن سوال بنتا ہے کہ آیا صحافی کو یہ ذمہ داری ادا کرنے دیا جاتا ہے؟ اس حوالے سے پاکستان کی بات کرتے ہیں، ایک بین الاقوامی تھنک ٹینک کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں پاکستان صحافت کیلے پانچواں خطرناک ترین ملک تصور کیا جاتا ہے جس کی بنیادی وجہ صحافیوں کو کئی طرح کے تھریٹس ہیں۔2021  کی اگر بات کیجئے تو انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اس سال پاکستان میں تین صحافی اپنی جان کھو بیٹھے ہیں۔ اس کے علاوہ گزرے ہوئے سال میں پاکستان میں کئی صحافیوں کو ان کی آوازِ سچ کی وجہ سے مشکل میں ڈال دیا گیا۔ ان میں قابل ذکر ابصار عالم صاحب، اسد علی طور اور سینئر صحافی حامد میر شامل ہیں۔ ٹوئٹر پر تواتر سے سچ سامنے لانے کی وجہ سے 20 اپریل2021  کو ابصار عالم صاحب پر ایک پارک میں گولی چلائی گئی مگر وہی ہوا کے مارنے والے سے بچانے والی ذات بڑی تھی۔ صحافی اور بلاگر اسد علی طور کو مئی کے مہینے میں تین نامعلوم افراد نے ان کے گھر میں گھس کر اسلام آباد جیسے محفوظ ترین شہر میں شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ دو دن بعد نیشنل پریس کلب کے سامنے ان سے اظہار ہمدردی کیلئے صحافتی تنظیموں نے ایک سیشن کا اہتمام کیا جس سے خطاب کرتے ہوئے سینئر صحافی حامد میر نے کچھ راز اگلنے کی دھمکی دی تو ان کو بھی پاکستانی ٹی وی سکرین اور اخبارات سے ہٹا دیا گیا حامد میر تب سے تادم تحریر پاکستان میں صحافت سے آؤٹ ہیں مگر ان کی صحافت واشنگٹن پوسٹ اور ڈی ڈبلیو اردو کے ذریعے جاری و ساری ہے۔

 

دوسری طرف2021  میں سرکاری سطح پر میڈیا کا گلا گھونٹنے کیلئے پاکستان میڈیا ڈویلوپمنٹ اتھارٹی کے نام سے ایک کالا قانون پاس کروانے کی کوشش کی گئی جس سے پاکستان میں صحافت مزید مشکلات سے دوچار ہو گی۔2021  میں جہاں سرکاری سطح پر صحافت کو نقصان پہنچانے کی بھر پور کوشش ہوئی وہاں کچھ سینئر صحافیوں کی وفات نے صحافت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ ان میں سینئر صحافی اور افغان امور کے ماہر سمجھے جانے والے رحیم اللہ یوسفزئی، سی آر شمسی اور محمد ضیا الدین شامل ہیں جو گزرے سال ہم سے بچھڑ گئے، ہماری صحافت میں شائد ہی ان صحافیوں کی جگہ کوئی پُر کرے۔ مختصراً ہم کہہ سکتے ہیں کہ2021  پاکستان میں صحافت کیلے اچھا سال ہرگز نہیں رہا۔

 

مہنگائی اور بے روزگاری: 

مہنگائی اور بے روزگاری کے لحاظ سے2021  کافی مشکل رہا۔ ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت نے ہر چیز کو پر لگا دیئے، اگر ڈالر 10 فیصد تک بڑھتا ہے تو مارکیٹ میں ہر چیز کی قیمت50  فیصد تک بڑھ جاتی ہے، اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا، گھی اور آٹے کی قلت تو کبھی چینی مارکیٹ سے غائب، کبھی ٹماٹر آسمان سے باتیں کرتے دکھائی دیئے تو کبھی پٹرول بم عوام کا منتظر رہا۔ ایک رپورٹ کے مطابق2021  میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح سب سے زیادہ رہی۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق حکومتی اخراجات میں آمدنی کے مقابلے میں زیادہ اضافہ ہو رہا ہے اور حکومت آمدنی کے مطابق خرچ کرنے کی بجائے اخراجات پورے کرنے کیلے نئے نوٹ چھاپنے شروع کر دیتی ہے، جو مہنگائی کی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔

 

2021 میں اگر بے روزگاری کی بات کریں تو کورونا وائرس کی وجہ سے لگائے گئے لاک ڈاؤن میں تمام کاروباری مراکز بند ہونے سے بے روزگاری کی شرح میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ امریکہ میں سب سے زیادہ افراد بے روزگار ہوئے جن کی تعداد کوئی 24 لاکھ بتائی جا رہی ہے۔ پاکستان میں2019  میں بے روزگاری کی شرح4  اعشاریہ5  فیصد تھی جو2020  میں بڑھ کر6  اعشاریہ 9 فیصد تک بڑھ چکی مگر2021  میں اس میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا اور اب یہ شرح11  اعشاریہ1  ہے۔ خطے کے دیگر ممالک میں2021  میں بے روزگاری کی شرح کچھ یوں رہی: سنگاپور1  اعشاریہ9  فیصد، بھوٹان2  اعشاریہ 4، مالدیپ اور نیپال3  اعشاریہ9  فیصد رہی، انڈیا میں5  اعشاریہ3  فیصد، کوریا3  اعشاریہ7 ، چین4  اعشاریہ7 ، سری لنکا12  جبکہ  بنگلہ دیش میں مہنگائی کی شرح4  اعشاریہ2  فیصد رہی۔ معاشی ماہرین کے مطابق اگر بے روزگاری کی شرح یہی رہی تو2022  میں پاکستان میں بے روزگاری مزید3  سے5  فی صد تک بڑھ سکتی ہے جو کہ پاکستان کیلئے ایک انتہائی تشویشناک صورت حال ہو گی۔

 

خارجہ پالیسی:2021  میں افغانستان میں پولیٹیکل ڈویلپمنٹ کے بعد پوری دنیا کے ممالک کی خارجہ پالیسی پر بالعموم اور خطے کے ممالک کی خارجہ پالیسی پر بالخصوص بہت بڑا اثر ہوا۔ افغانستان اس وقت پوری دنیا کی توجہ کا مرکز ہے اور پاکستان کا اس میں بڑا اہم کردار ہے۔ پاکستان نے افغانستان میں پیدا ہونے والے انسانی بحران پر او آئی سی کے وزرائے خارجہ کانفرنس منعقد کروا کر ایک سفارتی کامیابی ضرور سمیٹی ہے لیکن دوسری طرف افغان طالبان کی وکالت پر امریکہ اور ویسٹ ہم سے دور ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ آخر ہماری حکومت خارجی محاذ پر ایک توازن برقرار کیوں نہیں رکھ سکتی، ہمیں خارجہ پالیسی میں توازن لانے کی ضرورت ہے جو2021  میں ہمیں نظر نہیں آئی۔

 

 2021وہ سال رہا جس میں ہمارے وزیر اعظم نے دوٹوک الفاظ میں امریکہ کو ''ایبسلوٹلی ناٹ'' کہا، اس وجہ سے بھی امریکہ ہم سے دور چلا گیا۔ 2021 میں ہمارے وزیر اعظم امریکی صدر بائیڈن کی کال کا انتظار کرتے کرتے تھک گئے، سال ختم ہوا تو انہوں نے روسی صدر پیوٹن کو کال کر دی لیکن کال نہ ہوئی تو صرف عمران خان کو! بائیڈن اگر ہمارے وزیر اعظم کو کال نہیں کر رہا تو سمجھ میں آتا ہے کہ چلو ہم نے اس کو براہ راست ''ایبسلوٹلی ناٹ'' کہا مگر شی جن پنگ نے اب تک ہمارے وزیر اعظم کو کال کیوں نہیں کی؟ یہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ روس کے ولادی میر پیوٹن نے ایک دو بار کال ضرور کی ہے مگر کھلے عام ملنے سے انکاری ہے، کیوں انکاری ہے؟ یہ بھی ہمارے لئے اچھا شگون نہیں ہے۔ امریکہ ہم سے ناراض ہے اور چین، روس اور ایران کھل کر ہمارے موقف کا ساتھ نہیں دے رہے، ہم تو درمیان میں پھنس کر رہ گئے ہیں یعنی نا ادھر کے ہوئے نا ادھر کے! 

 

یہی2021  میں ہماری خارجہ پالیسی رہی جس میں کوئی بہت بڑی کامیابی نظر نہیں آ رہی کیوں کہ ہماری خارجہ پالیسی کی ماضی کی طرح کوئی سمت واضح نہیں ہوئی۔ کھیل اور امن و امان  پاکستان میں امن قائم ہو چکا تھا، ہماری کرکٹ بحال ہو چکی تھی، باہر کی ٹیمیں پاکستان آ رہی تھیں جس سے پاکستان کا ایک اچھا امیج دنیا کے سامنے ابھر رہا تھا مگر ستمبر2021  میں نیوزی لینڈ اور انگلینڈ نے پاکستان کرکٹ پر دھاوا بول دیا۔ نیوزی لینڈ نے کھیلنے کیلئے پاکستان آ کر بالکل عین موقع پر سیکورٹی کا بہانہ بنا کر دورہ ملتوی کر دیا جس نے پاکستان کرکٹ کو بہت بڑا نقصان پہنچایا اور ہمارے سیکورٹی اداروں کو بھی مشکوک بنا دیا۔ اس کی دیکھا دیکھی انگلینڈ نے بھی طے شدہ سیریز کو سیکورٹی کا بہانہ بنا کر ختم کر دیا۔ پے در پے دو ممالک کی جانب سے ہماری سیکورٹی کو ناکافی قرار دینے سے ایک غیریقینی صورت حال پیدا ہوئی کہ شائد پاکستان کرکٹ کیلئے دوبارہ نوگو ایریا بننے جا رہا ہے مگر ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بہترین کارکردگی کی بدولت پاکستان نے باقی ممالک کو اپنی جانب مبذول کرانے میں بڑی حد تک کامیابی حاصل کی ہے۔ ورلڈ کپ کے اختتام پر ویسٹ انڈیز کی ٹیم پاکستان کے دورے پر آئی جس سے ایک اچھا تاثر ابھر کر سامنے آیا اور ایک پیغام بھی گیا کہ نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے دورے سیکورٹی کی وجہ سے منسوخ نہیں کئے گئے بلکہ ہماری کرکٹ کو نقصان پہنچانے اور سیکورٹی اداروں کو دنیا کی نظر میں مشکوک بنانے کیلئے ایک بھونڈی سازش رچائی گئی مگر وہ اس میں ناکام ہوئے اور ہماری کرکٹ اور ادارے اس میں سرخرو ہوئے۔ 

 

امن و امان کے حوالے سے اگر بات کیجئے تو2021  میں تحریک لبیک پاکستان کے دھرنوں کی وجہ سے امن و امان بری طرح متاثر رہا۔ تحریک لبیک والوں نے اپنے کچھ مطالبات منوانے کیلئے کے پورا پنجاب بلاک کر کے رکھ دیا جس سے بحران کی ایک کیفیت پیدا ہوئی۔ کئی دنوں تک پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب ان کی دہشت کی وجہ سے یرغمال بنا رہا جس سے امن و امان کی فضا بڑی حد تک خراب رہی۔ دوسری طرف 2021 میں افغانستان میں سیاسی تبدیلی کے بعد خیبر پختونخوا میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے کو ملا جس سے ملک کا امن و امان متاثر ہو رہا ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ 2021 جو اب گزر ہی گیا کسی بھی لحاظ سے ہم دعوی نہیں کر سکتے کہ یہ سال پاکستان کے لیے بہت اچھا ثابت ہوا البتہ کچھ شعبوں میں ہم نے بہتری ضرور دکھائی لیکن مزید بہتری کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔

 

اگر ہم1947  سے لے کر2021  تک کی تاریخ نکال کر دیکھ لیں تو ہم کو پاکستان کی تاریخ میں شائد ہی کوئی ایک سال بھی ایسا ملے جو ہنگاموں، دھرنوں اور خودکش حملوں سے خالی ہو۔ اللہ سے آپ بھی دعا کریں اور میں بھی دعاگو ہوں کہ پاکستان میں ایک سال ایسا بھی آئے جو ہنگاموں، خودکش دھماکوں، دھرنوں اور سیاسی اختلافات سے خالی ہو اور اس میں صرف اور صرف ترقی اور خوش حالی ہی ہو، اللہ کرے۔ آمین!