میں نے کہا تو برا مان گئے

میں نے کہا تو برا مان گئے


                                                                کریم خان
آج تک ہمارے کسی مذہبی راہنما یا مذہبی پیشوا نے ٹی وی پہ انٹریو دیتے ہوئے کسی حسینہ سے کہا کہ بیٹا سر پہ دوپٹہ اوڑھ لو تب میں آپ کے سوالوں کا جواب دوں گا؟ آج تک ہمارے کسی مذہبی لیڈر نے یہ آواز اٹھائی کہ عورتوں کے لیے علیحدہ یونیورسٹی قائم کی جائے تاکہ اس یونیورسٹی سے لیڈی ڈاکٹر، نرس، پروفیسر اور لیکچرار باپردہ مستفید ہو سکے۔ آج تک ہمارے کسی مذہبی راہنما یا عالم، مفتی نے یہ کہا کہ ھسپتال میں ڈیلیوری کے وقت وارڈ میں مرد اور بواسیر کا آپریشن فیمیل کا مرد ڈاکٹر کیوں کرتے ہیں؟ آج تک ہمارے کسی مذہبی راہنما، مذہبی سیاسی پارٹی کا لیڈر خود محاذ پہ یا اس کا بیٹا، بھائی مجاہد بن کر لڑا ؟ میدانِ عمل میں کودا؟ کیا ہمارے پیارے نبی حضرت محمدۖ خود جہاد پہ نہیں گئے؟ کیا انہوں نے خود تلوار نہیں اٹھائی؟ کیا ان کے دندان مبارک جنگ میں شہید نہیں ہوئے؟ یہاں ہمارے مذہبی راہنما، جہاد کی تلقین کرنے والے مجاہد اور امیر بن بیٹھے۔ راہ چلتے کسی غریب کے ساتھ کیمروں کی روشنیوں میں تصویر کھنچوا کے حقوق العباد کے علمبردار بن بیٹھے۔ اپنے مدرسوں کے طالب علموں کو اکٹھا کر کے چوراہوں اور راستوں کو بند کر کے عوام کے خیر خواہ بن بیٹھے۔ جب اپنی کرسی سرکتی ہوئی نظر آئی تو اسلام پہ وار سمجھ بیٹھے۔ پہلے انہیں دین اسلام پہ یلغار نظر نہ آیا؟ یہ بے حیائی، یہ عیاشیاں، ملک میں جا بجا زناکاریاں نہ دکھائی دیں؟ جب خود اقتدار یا وزارت میں تھے تو ہوش میں نہ تھے۔ اپنی اے سی کی گاڑیاں، حفاظت کے لیے محافظ اور بڑے بڑے بنگلوں کی تزین و آرائش کی فکر تھی۔ جب یہ سب کچھ چھننے لگا تو اسلام یاد آیا۔ کبھی ملا عمر کبھی کسی صحابی اور کبھی کسی درویش کی طرز زندگی یاد نہ رہی۔ تجھے دیکھا، تجھے سمجھا، تجھے ہر بار پرکھا۔ ماسوائے اقتدار کے ہوس کے کچھ نہ دیکھا۔ رہنے دے تیری اس طرح سے اسلام کی خدمت، اتار دے اپنے چہرے سے یہ نقاب کہ بچہ بچہ جان چکا کہ ماسوائے چند وازرتوں کے طلب کے سوا کچھ اور نہیں، اِس ملک پہ حکمرانی کی آرزومندی کے سوا کچھ اور نہیں۔ اتار یہ لبادہ اور اعلان کر دے کہ میں بھی اِس ملک کی دیگر سیاسی پارٹیوں کے قائدین کی طرح ایک سیاسی پارٹی کا قائد ہوں۔ مان جاؤ کہ میرا مشن بھی حصولِ اقتدار ہے۔ خدمتِ دین، خدمتِ خلق کے لیے اور ہیں ناں، جنہیں نہ تقریروں کی ضرورت ہے اور نہ ہی فوٹو شیشن کی خواہش، وہ تو خاموشی سے اپنا کام کیے جا رہے ہیں۔ وہ خود تو ہیں خاموش لیکن ان کا عمل اِس ملک کے کونے کونے میں چیخ  چیخ کر لوگوں کو متوجہ کر رہا ہے۔ ان پہ اعتماد ایسا کہ دینے والوں کی لائنیں لگی ہوتی ہیں۔ چھوڑ دے جنونیوں کے لشکر کو تیار کرنا، چھوڑ دے اپنے آپ پر یہ صادق و آمین کا لیبل لگانا، نہ بنا اِس ملک کے معصوم بچوں کو اپنا آلہ کار، نہ ورغلا اِن ناپختہ ذہنوں کو، جو کہتا ہے اس پہ عمل کر خود، جو مسلمان ہے، تو اپنے آپ میں اوصافِ مسلمان دکھا۔ کبھی اِدھر کبھی ادھر، کبھی یہ اچھا کبھی وہ اچھا، کیا یہ کردار ہے کوئی؟ قول کا سچا، کردار کا اعلی، وعدوں کا پابند، جذبہِ وطن پرستی سے آراستہ، عوام کا ہمدرد، دکھ درد کا احساس رکھنے والا، اِس ملک کے ذرے ذرے کا محافظ، کوئی ایسا راہبر دلا دے یا ربا! اب تو بہت رسوا ہو چکے، بہت آپس میں لڑ چکے، بہت مفاد پرست دیکھ چکے، اب تو کوئی جیدار ملا دے یا ربا! ایمان ہے کہ محمدۖ  خاتم النبین ہیں، لیکن تو نے ایمان افروزوں کا سلسلہ تو بند نہیں کیا، کوئی ایماندار قائد دلا یا ربا!