وزیر اعظم کرسی کب چھوڑیں گے؟

وزیر اعظم کرسی کب چھوڑیں گے؟

تحریر: بخت شیر اسیر ٹوپی 

ہمارے صادق اور امین وزیر اعظم کو بات ٹالنے، بات سے مکرنے اور سوال کا جواب ہنسی میں دینے میں ملکہ حاصل ہے۔ اگر کوئی اینکر آپ کو اپنا کوئی وعدہ یاد دلانے کے لیے آڈیو کلپ بھی سنائے تو بھی ان کو ندامت اور شرمندگی محسوس نہیں ہوتی نہ ہی چہرے پر کسی قسم کی ندامت کے کوئی آثار دکھائی دیتے ہیں۔ اگر ایسے ثبوتوں کا آپ پر کوئی اثر نہیں ہوتا تو میرے ان چند ٹوٹے پھوٹے جملوں کا خاک اثر ہو گا۔ بہرحال یہ مشہور قصہ بطور مثال پیش کرنا چاہوں گا کہ یوسف کو جب بھائیوں نے کنویں میں پھینکا تو ایک قافلہ والے انہیں کنویں سے نکال کر اپنے ساتھ مصر لے گئے، وہاں پر آ پ پر بولی لگی۔ بڑے بڑے مالدار لوگ بولی میں حصہ لینے کے لیے جمع ہو گئے۔ اس مجمع میں ایک بوڑھی اماں بھی تھی جس کے ہاتھ میں تھوڑا سا کاٹن تھا۔ کسی نے پوچھا اماں جی آپ کیا کر رہی ہیں تو اماںنے جواب دیا کہ یوسف کو خریدنے آئی ہوں۔ اس شخص نے کہا کہ یوسف کو خریدنے کے لیے بڑے بڑے مالدار لوگ آئے ہیں اس تھوڑے سے کاٹن پر وہ تم تھوڑا خرید سکوگی۔ بوڑھی اماں نے جواب دیا جب قیامت کے دن اللہ پوچھے گا کہ میرے پیغمبر پر بولی لگی تھی تو تم کیا کر رہی تھی تو میں کہوں گی کہ اللہ میرے بس میں یہی تھا۔ صادق اور امین وزیر اعظم نے اقتدار کے لیے قوم کو جتنا جھوٹ پر جھوٹ بولا ہے اس سے ایک ضخیم کتاب بن سکتی ہے۔ مہنگائی ہو گی تو سمجھو کہ وزیر اعظم چور ہے، ملک میں روزانہ دس ارب روپے کی کرپشن ہو رہی ہے، ڈالر میں ایک روپے کا اضافہ ہوتا ہے تو قوم پر سو روپے کا قرض بڑھ جاتا ہے، قومیں سڑکوں سے نہیں بنتیں مضبوط اداروں اور تعلیم سے بنتی ہیں، جمہوریت کی جتنی خدمت ہمارے میڈیا اور ہمارے صحافیوں نے کی تو وہ کوئی نہیں کر سکتا، خودکشی کر لوں گا مگر آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاؤں گا، ہم سو دن میں معیشت ٹریک پر لے آئیں گے، پٹرول چالیس روپے لیٹر تک لائیں گے، ایک کروڑ نوکریاں دیں گے وغیرہ وغیرہ۔ اس حکومت نے بے روزگاری اور مہنگائی میں سابقہ تمام ریکارڈ تو ڑ دیے، جہاں تک روزانہ دس ارب روپے کرپشن کی بات ہے تو اس حکومت کو آئے ہوئے گیارہ سو دن ہو گئے، اس دوران قومی خزانہ میں کتنا پیسہ جمع کیا گیا؟ ٹیکس، بجلی، گیس، پیٹرولیم مصنوعات اور اشیاء خوردنی کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ اور پاکستانی روپے کے ساتھ کھلواڑ کس کے کہنے پر کیا جا رہا ہے؟ سیالکوٹ کھاریاں موٹر وے منصوبے افتتاح کے موقع پر وزیر اعظم کے ''سڑکوں کا جال بچھا کر ملک میں سیاحت کو فروغ  دینا  چاہتے ہیں'' بیان کا کیا مقصد ہے؟ میڈیا اور صحافیوں کی خدمت کا یہی صلہ ہے کہ میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی جیسا متنازعہ بل، جس پر عالمی اداروں نے بھی تشویش کا اظہا ر کیا ہے، لایا گیا۔ معشیت ٹریک پر لانے کا یہ نتیجہ نکلا کہ تین سال میں چار وزرائے خزانہ تبدیل کئے گئے۔ پٹرول چالیس کے بجائے 138 پر پہنچایا گیا۔ تین سالوں میں پندرہ ہزار ارب سے زیادہ قرضہ لیا گیا جس کی وجہ سے ملک کا بچہ بچہ ایک لاکھ تیس ہزار کے بجائے دو لاکھ کا مقروض ہو گیا۔ وزیر اعظم کا وہ بیان کیا ہوا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ احتجاج ہو گا تو کرسی چھوڑ دی جائے گی۔ صرف اسی ایک نکتے پر بات کرنا چاہوں گا۔ آپ لوگ کسی ایک دن کا اخبا ر اٹھا کر دیکھ لیجیے تو آپ کو جگہ جگہ احتجاج ہوتا نظر آئے گا۔ میں رواں ماہ کی آٹھ تاریخ کے اخبارات بطور مثال پیش کر رہا ہوں۔ اس کی پہلی خبر ہے کہ پشاور گڈز ٹرانسپورٹ کی پہیہ جام ہڑتال، گاڑیاں کھڑی کر دیں، مطالبات نہ مانے گئے تو ہڑتال کا دائرہ پورے ملک میں پھیلا دیں گے۔ دوسری خبر ہے کہ ٹی ٹی پی سے مذاکرات شہدائے اے پی ایس کے والدین کا احتجاج، حکمرانوں کو معافی دینے کا کوئی قانونی اور آئینی حق حاصل نہیں۔ تیسری خبر ہے کرونا ویکسین سے طالب علم کی حالت بگڑ گئی، طلباء کا احتجاج! چوتھی خبر ہے پی ڈی اے ملازمین کا احتجاجی مظاہرہ، تنخواہوں میں اضافے اور پلاٹ الاٹمنٹ میں تاخیری حربوں سمیت دیگر مطالبات کے حق میں پی ڈی اے آفس کے سامنے مظاہرہ، پانچویں خبر ہے آئل ٹینکر کے مالکان کا ہڑتال کا اعلان، تیل کی ترسیل مکمل بند کی جائے گی۔ چھٹی خبر ہے  نئے بھرتی پیرامیڈیکس تنخواہیں نہ ملنے پر سراپا احتجاج، جبکہ ساتویں خبر ہے اے این پی پشاور کے زیر اہتمام مہنگائی کے خلاف احتجاج، دیکھتے ہیں کہ صادق اور امین وزیر اعظم کہاں تک اپنی بات کی لاج رکھتے ہیں اور کرسی کب چھوڑ تے ہیں؟