مرا کون؟

مرا کون؟

تحریر: ڈاکٹر سردارجمال

ہر زندہ چیز ایک نہ ایک دن موت سے ضرور دوچار ہو جائے گی۔ زندگی کا مطلب ہے موت۔ وہ اس لئے کہ مرتے ہیں وہ جو زندہ ہوتے ہیں۔ زندگی موت کے لئے ایک بہانا بنایا گیا ہے۔ جو مرے ہیں وہ کھبی نہیں مرتے۔ موت ہمیشہ زندہ بستی میں آتی ہے۔ قبرستان میں کبھی موت نہیں آتی مگر یہ یاد رکھنا چاہئے کہ موت دو شکلوں میں ایک انسانی کو آتی ہے۔ ایک سنگل موت جبکہ دوسری قسم کو ڈبل موت کہا جاتا ہے۔ سنگل موت وہ ہے جس میں بندہ جسمانی طور چلا جاتا ہے جبکہ روحانی طور اس دنیا میں باقی رہ جاتا ہے۔ قرآن سنگل موت کے تحت مرے ہوئے بندے کو شھید کے نام سے یاد کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ شھید وہ ہے جس کو رزق ملتا ہے۔ رزق دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک مادی رزق یعنی روٹی، چاول اور پانی وغیرہ جبکہ رزق کی دوسری قسم روحانی ہوتی ہے یعنی مرنے کے بعد شھید کو جو روحانی خوراک ملتی ہے وہ ان کے اچھے کردار اور اچھے کارنامے ہوتے ہیں۔ مرنے کے بعد مردے کو اچھے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے اور اس کی بدولت مرے ہوئے بندے کے درجات بلند کئے جاتے ہیں۔ موت کی دوسری قسم یعنی ڈبل موت وہ ہوتی ہے جس میں بندے کی جسمانی اور روحانی دونوں طرح کی موت واقع ہو جاتی ہے یعنی جسم اور روح دونوں کو اس دنیا سے جانا ہوتا ہے۔ مرنے کے بعد کوئی ان کا نام نہیں لیتا اور ایسا لگتا ہے کہ ادھر کوئی آیا ہی نہ تھا۔ سنگل موت پر مرے ہوئے انسانوں میں ایک شھید عثمان کاکڑ بھی ہیں۔ بظاہر تو وہ اس دنیا سے چلے گئے مگر مرنے کے بعد وہ اور بھی مقبول ہو گئے۔ لوگ ان کے پیچھے روتے ہیں اور ان کو اچھے ناموں سے یاد کرتے ہیں۔ ان کی موت ان کے نظریے کی گواہی دے رہی ہے کہ وہ جو کچھ کر رہے تھے اور جو کچھ بول رہے تھے وہ بالکل درست تھا۔ ان کی سوچ اور افکار کی گواہی بچوں، جوانوں، بوڑھوں اور عورتوں سب نے دی ہے۔ وہ بچپن، لڑکپن اور جوانی سے لے کر موت تک اپنی سوچ اور اپنی فکر سے سچے اور پکے رہے۔ وہ قوم پرست لیڈر تھے اور ہمیشہ اپنی قوم کے مسائل اور ان کا حل بتاتے رہے۔ ان کی حق گوئی کی آواز گلی کوچے، حجرے اور عوامی ہجوم سے اٹھ کر پارلیمان تک گونجتی رہی۔ وہ مظلوم پشتون کا رونا روتے رہے۔ وہ پشتون قوم کے لئے امن، تعلیم، روزگار اور سکون مانگتے رہے۔ وہ پشتونوں کے وسائل پر پشتونوں کا اختیار مانگتے رہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہ تنگ نظر اور معتصب پشتون قوم پرست نہ تھے، وہ ہر مظلوم انسان کے لئے آواز اٹھاتے تھے خواہ وہ بلوچ ہو، سرائیکی، ہزارہ، سندھی اور یا پھر پنجابی، یہی وجہ تھی کہ ان کی موت پر ان تمام اقوام سے تعلق رکھنے والے لوگ پشتونوں جیسے روئے اور رو رہے ہیں۔ عثمان کاکڑ کیسے مرے؟ کس نے مارا؟ کیوں مارا؟ ان تمام سوالات کے جوابات ان کی پارلیمان کی تقریر میں واضح ہیں۔ بعض لوگ سوال اٹھاتے ہیں اور اپنے سوال میں سارا ملبہ محمود خان اچکزئی پر ڈالنا چاہتے ہیں کہ وہ قاتل کا نام کیوں نہیں لیتے اور قاتلوں کے خلاف ایف آئی آر کیوں نہیں کاٹتے؟ تو ان اور ان جیسے دوسرے سوالات کے جوابات بالکل واضح ہیں یعنی قاتل کا نام تو وہ اپنی شھادت سے پہلے لے چکے ہیں، رہی بات ایف آئی آر کاٹنے کی تو وہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ قاتل کے خلاف ایف آئی آر کاٹے۔ یہ ہمارے ہاں کوئی نئی بات نہیں ہے کہ قاتل معتبر چلا آ رہا ہے اور ازل سے لے کر ابد تک ”تفتیش جاری ہے“ کا وِرد ہوتا رہا ہے۔ اس بارے ایک وزیر صاحب خوب عرض کر رہا تھا کہ جس کے قاتل نامعلوم ہوں تو اس کی ذمہ دار ریاست ہوتی ہے مگر یہ سنہرے کلمات ہمارے سیاسی حضرات اقتدار سے پہلے عرض کرتے رہتے ہیں۔ اقتدار میں آ کر کل حلال والی بات بن جاتی ہے۔ مرنا تو ہے! ہر کسی کو، مگر عثمان کاکڑ جیسی موت ان لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو مخلوق خدا سے محبت رکھتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو انسان دوست ہوتے ہیں۔ اللہ سے محبت ان کی مخلوق سے محبت ہے اور جو لوگ اللہ کی مخلوق سے محبت کرتے ہیں تو وہ زندگی اور اپنی موت دونوں مخلوق کے لئے پیش کر دیتے ہیں، وہ الگ بات ہے کہ ظالم طاقت کے نشے میں مست ہو کر سوچتا ہے کہ میں نے ایک انسان دوست کی جان لے کر اس کو فنا کر دیا لیکن یہ سب جاہل پن کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ تاریخ کو اگر اٹھا کر دیکھا جائے تو قومی مقتول ہمیشہ دلوں پر راج کرتا رہا ہے جبکہ قاتل کا کوئی نام و نشان باقی نہیں رہتا۔ کیا قاتل اب بھی خوش فہمی میں رہے گا کہ عثمان کاکڑ کو ختم کیا گیا؟ نہیں بالکل نہیں! یہ غلط فہمی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ وہ تو مزید ابھر کر سامنے آیا ہے۔ وہ تو مزید چمکتا گیا اور وہ تو مزید دلوں پر راج کرتا گیا۔ مرا تو وہ جس نے عثمان کاکڑ کو مار ڈالنے سے ان کو مزید تقویت دی۔ کاکڑ صاحب کے جنازے میں تو13  لاکھ غمخواروں نے آنسو بہائے لیکن دوسری طرف مجھے یقین ہے کہ قاتل کے جنازے میں 13  بندے بھی اکٹھے نہیں ہوں گے بلکہ دیار غیر میں لاوارثوں کی طرح بے یارومددگار پڑا رہے گا۔  ہاں! اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ قاتل دیکھتا ہو گا کہ ایک لاش دلوں پر حکومت کر رہی ہے جبکہ دوسری طرف قاتل، طاقت کے باوجود چھپا ہوا ہے اور ڈر کے مارے عوام کا سامنا نہیں کر سکتا ہے۔ اب وہ ضرور خود کلامی کی حالت میں ہو گا اور اپنے آپ کو طعنے دیتا ہو گا کہ جیتنے کے باوجود میں ہارا اور ساتھ یہ بھی اپنے آپ سے پوچھتا رہے گا کہ مرا کون، میں یا عثمان کاکڑ؟