غلطیوں پر غلطیاں کرنا زمہ دار کون ؟ 

غلطیوں پر غلطیاں کرنا زمہ دار کون ؟ 

 عبدالرزاق برق

سابق وزیراعظم عمران خان اس ملک کے پہلے سابق وزیراعظم اورسیاستدان ہیں کہ انہوں نے پہلی دفعہ غلطیوں پرغلطیاں کرکے اس بات کا اعتراف بھی کرچکے ہیں کہ ان سے موجودہ حالت میں غلطیاں سرزد ہوئی ہیں اور یہ بھی ملک میں  پہلی دفعہ ہوا ہے کہ لفظ غلطی ان کے طرف سے سب سے زیادہ استعمال میں لایا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ لفظ غلط کہنا کب اورکیسے سابق وزیراعظم نے کس موقع پرکہا ہے ؟ اس بارے میں سب سے پہلے سابق وزیراعظم آج یہ کہہ رہے ہیں کہ سابق آرمی چیف جنرل باجوہ کی مدت میں توسیع دینا ان کی غلطی تھی، دوسری غلطی کے بارے میں کہہ رہے ہیں کہ ایم اکیوایم کے فروغ نسیم کو وفاقی وزیرقانون بنا کر بڑی غلطی کی، تیسری غلطی کوانہوں نے اس طرح تسلیم کیا ہے کہ جسٹس قاضی فائزعیسی کے خلاف ریفرنس بھجنا ان کا غلط فیصلہ تھا، چوتھی غلطی کا اعتراف خان صاحب نے یہ کیا ہے کہ یوکرین جنگ کے دوران روس جانا غلطی تھی؟ اسی طرح کل عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کوامریکہ کا رجیم چینج آپریشن قراردیتے تھے آج وہ کہہ رہا ہے نہیں وہ امریکہ کے ساتھ دوستی کے خواہاں ہیں۔ سابق وزیراعظم نے یہاں تک کہا ہے کہ ان کے ساتھ ڈبل گیم کی جارہی تھی اور ان کے پاس اس وقت بھی اطلاعات تھیں کہ انہیں ہٹانے کا فیصلہ ہوچکا ہے ہمارے سابق وزیراعظم کی طرف سے غلطیوں پرغلطیاں کرنے کے بارے میں پہلاسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگران کے پاس یہ معلومات تھیں کہ انہیں ہٹانے کا فیصلہ ہوچکا ہے توہمارے سابق وزیراعظم نے یہ غلطی کیوں کی کہ وہ سات ماہ خاموش رہے تھے، کیوں عوام کو یہ نہیں بتایا کہ امریکہ بہادر میرے ساتھ یہ گیم کھیل رہا ہے، بجائے یہ کہ عوام کو اپنے خلاف شازش بتائی جائے انہوں نے دنیا کے ایک سپرپاور ملک امریکہ کوموردالزام ٹھرایا اور پھر امریکہ اورپاکستان کے درمیان تعلقات میں رخنہ کیوں ڈالاگیا ؟ سابق وزیراعظم سے ان کی غلطیوں اورغلطیاں کرنے کے بارے میں دوسراسوال یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ جس جسٹس قاضی فائزعیسی کے خلاف ریفرنس بجھا تھا کیا قاضی فائزعیسی کے خاندان کے کرب اور ازیتوں کا مدوا ہو پائے گا؟ اگرچہ عمران خان اپنی سیاسی غلطیوں کی تصحیح کی بجائے اپنی غلطیوں کوبارباردھرا رہے ہیں جو ان کی سیاسی ناپختگی قراردی جاسکتی ہے مگر سوال یہ ہے کہ ہمارے سابق وزیراعظم جن سیاسی غلطیوں کااعتراف کررہے ہیں اس کا ذمہ دار کسے قرار دیا جا سکا ہے؟ میرے خیال میں ہمارے سابق وزیراعظم کی طرف سے غلطیاں کرنا اوراس کا اعتراف کرنے کا زمہ دارسب سے پہلے ہماری اسٹبلیشمنٹ ہے کیوں ایسے بندے کو عوام پر مسلط کیا گیا جس کو سیاست کرنا نہیں آتی اور بعد میں یہ کہے  کہ فلانا کام کرنا مجھ سے غلطی ہوئی، دوسرا یہ کہ اس کا ذمہ دار پاکستان کے وہ عوام ہیں جنہوں نے پاکستان کی تاریخ میں سابق وزیراعظم کوسب سے زیادہ ووٹ دیئے جب عمران خان پاکستان کی سیاست کرنے میں غلطیاں کرتے ہیں تو عوام نے ان کو کیوں زیادہ ووٹ دیئے ہیں؟ کیا ہمارے وہ عوام جنہوں نے پی ٹی آئی کے لئے جان و مال کی قربانی دی تھی ان کو معلوم نہیں تھا کہ پی ٹی آئی کے سربراہ ہمارے لیے نیا پاکستان نہیں بنا سکتے تو پھر اپنا وقت اورپیسے کیوں ضائع کئے گئے۔ سابق وزیراعظم نے جو غلطیوں پر غلطیاں کی ہیں ان کے ذمہ دار وہ لاکھوں عوام ہیں جنہوں نے حالیہ دنوں تین ماہ پی ٹی آئی کے ساتھ لانگ مارچ اورایک ایسے دھرنے میں شرکت کی جس کا نہ ماں معلوم تھا نہ باپ۔ ہمارے عوام لانگ مارچ میں ان امیدوں کے ساتھ شامل کر لئے گئے کہ ہم نیا پاکستان بنائیں گے ہم اپنی مرضی کے آرمی چیف لائیں گے اور پی ڈی ایم کی حکومت سے نئے انتخابات کی تاریخ لیں گے، کیا پی ٹی آئی نئے انتخابات کرانے کے لئے حکومت سے انتخابات کی تاریخ حاصل کر سکی؟ کیا پی ٹی آئی کی مرضی کا آرمی چیف اس لانگ مارچ کے زریعے مقررکیا گیا؟ تو پھرکیوں لاکھوں لوگوں اور حکومت کے خزانے سے کروڑوں روپے اور قیمتی وقت اس تین ماہ میں ضائع کئے گئے کیا پی ٹی آئی میں ایسے لوگ نہیں کہ عمران خان کو سمجھاتے کہ جناب کیوں فالتو میں لوگوں کے قیمتی وقت اورحکومت کے پیسے ضائع کرتے ہو، کیا جو لاکھوں عوام لانگ مارچ میں شامل تھے ان کے عزیزوں نے ان لاکھوں لوگوں کو کیوں نہیں سمجھایا کہ جن درختوں کے سائے میں آپ نہیں بیٹھ سکتے اس درختوں کو لگانے کی کیا ضرورت ہے، عمران خان کی موجودہ غلطیوں کی ذمہ دار اس کے وہ دوست اوررفقا ہیں وہ کیوں عمران خان کو مشورہ نہیں دیتے کہ فلاں  کام کرنے میں غلطیاں نہیں کرنی چاہئے آج اگرآپ فلاں  کام کرتے ہوں کل غلط نہ ہوجائے توایسے کام پہلے سے ہی نہیں کرنے چاہئیں، آج ہمارے ایک سیاستدان عمران خان کی غلط سیاست کے بارے میں کہتے ہیں کہ ہم نے ان کیمرہ بریفنگ میں جنرل باجوہ پر واضح کیا تھا کہ وہ عمران خان کی صلاحیت تو بتائیں جب آرمی چیف اس ملک کا آرمی چیف تھا اس وقت یہ بات عوام کے سامنے نہیں کہتے کہ عمران خان کی صلاحیت کیا ہے؟ اب اگرآج جنرل باجوہ آرمی چیف نہیں رہے تو عمران خان کی صلاحیت کے بارے میں عوام کوبتانا کوئی معنی نہیں رکھتا، ہمارے سابق وزیراعظم نے توماضی میں غلطیوں پرغلطیاں کیں مگر آج ایک دفعہ پھر ملک کی دو صوبائی اسمبلیوں کو توڑنے کی سب سے بڑی غلطی کرنے کوششیں کی جا رہی ہیں اور اگر اسمبلیوں کو توڑنے کا یہ عمل کیا تو یہ ان کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی ہوگی کیونکہ پنجاب کے وزیراعلی چوہدری پرویزالہی اورخیبر پختونخوا کے وزیر اعلی محمودخان اسمبلی توڑنے میں مخلص نہیں اور اپنی اسمبلی توڑنے کی حمایت نہیں کررہے۔ یہ اس لئے کہ پختون خوا حکومت کو خدشہ ہے کہ اگراسمبلی تحلیل کردی گئی تو جن ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سے عوامی حمایت حاصل ہونے کی توقع ہے وہ پورے نہیں ہوسکیں گے جن دوصوبوں کی حکومتیں ختم کرکے تحریک انصاف عام انتخابات کی راہ ہموارکرنا چاہتی ہے ان صوبوں میں اسمبلی توڑنا خود تحریک انصاف کے لئے مشکل ثابت ہوسکتا ہے اب اگرخان صاحب ملک کی رواں سیاست میں اورغلطیاں نہ کریں تو انہیں چاہئے کہ ڈاکٹروںکے مشورے کے مطابق کہ چارمہنے تک مکلمل آرام کریں اور اگروہ دو اسمبلیوں کوتوڑنے کے لئے بضد ہیں تویہ سودا ان کے لئے بہت  مہنگا پڑے گا اصل میں عمران خان کویہ ڈر ہے کہ اگلے سال تک ان کی مقبولیت میں کمی ہوجائیگی اور نو ماہ کے دوران پی ڈی ایم کی حکومت عوام کے لئے کوئی دودھ اور شہدکی نہر نہیں بہائیگی اوراگلے آٹھ ماہ کے دوران عوام کوکچھ نہیں دے سکیں گے اور اسحاق ڈار ملکی معشیت نہیں سدھار سکے گا نہ ہی آئی ایم ایف یاکوئی دوست ملک ان کی مدد کریگا۔ انہوں نے عوام پرمزیدٹکس لگانا ہیں جس کے بغیر ان کا گزارا نہیں، ملکی پیداوار میں مزیدکمی ہوگی تیل گیس کاشارٹ فال مزید بڑھے گا۔