33 فیصد پاسنگ مارکس کیوں؟

33 فیصد پاسنگ مارکس کیوں؟

تحریر: سید ظفر علی شاہ باچا

ہر چیز کو جانچنے کا ایک معیار ہوتا ہے جس سے کسی چیز کے اچھا یا برا ہونے کا پتہ چلتا ہے۔ اسی طرح تعلیمی میدان میں بھی طلبا کی قابلیت جانچنے کیلئے معیار مقرر کیا گیا ہے لیکن ہمارے ملک میں یہ معیار تاج برطانیہ کی جانب سے1858  میں مقررکردہ معیار کے تحت چلا آ رہا ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں میٹرک کا پہلا امتحان 1858 میں ہوا اور برطانوی حکومت نے یہ طے کیا کہ برصغیر کے لوگ ہماری عقل سے آدھے ہوتے ہیں اس لیے ہمارے ہاں پاسنگ مارکس 65 ہیں تو برصغیر والوں کے لئے 32.5 ہونے چاہئیں۔ اساتذہ کی کیلکولیشن میں مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے پھر دو سال بعد 1860 میں پاسنگ مارکس 33 کر دیے گئے اور ہم2021  میں بھی وہی فارمولا برقرار رکھتے ہوئے اپنے بچوں کی ذہانت کو33  نبمروں سے جانچ رہے ہیں، یعنی ہم نے مان لیا ہے کہ ہر حال میں ہم انگریز کے مقابلے میں آدھی عقل کے مالک ہیں۔ یہ تصور اس لیے بھی دیا گیا ہے کہ برصغیر کے لوگ33  فیصد تک ہی محدود رہیں اور زیادہ مطالعے اور تحقیق میں نہ پڑیں۔ ہمارے نظام تعلیم میں امتحانات کو خاص اہمیت حاصل ہے، اداروں اور والدین کا فوکس بھی امتحانات پر رہتا ہے جبکہ شعبہ تعلیم کے ارباب اختیار اپنے تعلیمی نظام کے موثر ہونے کا فیصلہ بھی امتحانی نتائج کی بنیاد پر کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ جس ادارے کے بچے امتحانات میں اچھے نمبر حاصل کرتے ہیں وہی بہتر قرار پاتے ہیں۔ ان تعلیمی جائزوں یا امتحانات کے نتائج نے ہمارے پورے ابتدائی اور ثانوی نظام تعلیم کو متاثر کرتے ہوئے تعلیم کے اصل مقاصد پر پردہ ڈال دیا ہے۔ بچوں کی تربیت پر توجہ نہیں دی جاتی جبکہ بچوں کو ہر وقت امتحانات اور گریڈز کے خوف میں مبتلا رکھا جاتا ہے۔ اس غلط روایت کے تحت جب بچے والدین کی توقعات پر پورا نہیں اترتے تو وہ خود کو ناکام تصور کرتے ہیں جبکہ معاشرہ بھی اس کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے اسے فیل اور ناکارہ تصور کرنے لگ جاتا ہے۔ معاشرے کی جانب سے ان منفی رویوں سے بچے کی شخصیت پر جو اثرات مرتب ہوتے ہیں وہ تمام زندگی دھل نہیں پاتے اور وہ باصلاحیت ہوتے ہوئے بھی اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار نہیں لا پاتا۔ ان امتحانات کی بنیاد پر حاصل کردہ نتائج سے ہم کیسے کسی بچے کی قابلیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں اور کسی بچے کو کیونکر کم تر یا نالائق قرار دے سکتے ہیں جبکہ عملی زندگی کے مختلف شعبوں میں کئی کامیاب افراد موجود ہیں جنہوں نے طالب علمی کے زمانے میں کبھی بھی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا ہو گا لیکن جب عملی زندگی میں آئے تو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا گئے۔ ہم ابھی تک روایتی انداز سے نظام تعلیم کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور جدت کی جانب قدم اٹھانے سے گریزاں ہیں۔ یہ تو بھلا ہو پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا جنہوں نے جدید طریقہ تدریس کو فروغ دیا اور اداروں میں بچوں کی دلچسپی کیلئے تعلیمی ماحول بہتر بنایا۔ نجی اداروں نے کلاسز کا اندرونی نظام بہتر بنانے کیلئے ملٹی میڈیا اور دیگر جدید طرز کی مہارتوں کو شامل کیا جس سے بچوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں معاونت حاصل ہوئی۔ تعلیم کا مقصد بچے کے رویوں کی بہتر تشکیل ہے تاکہ وہ معاشرے کی اقدار کے مطابق اچھا فرد بن سکے اور اپنی خداداد صلاحیتوں کا ادراک کرتے ہوئے ان سے بھرپور استفادہ کر سکے، یہی تعلیم و تربیت اسے عملی زندگی میں کامیاب انسان بنانے میں مفید ثابت ہوتے ہیں۔ ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے بچوں کے لئے ہم نصابی سرگرمیوں کا اہتمام بھی کیا جائے تاکہ ان کی سوچنے سمجھنے اور اظہار کی صلاصیت میں بہتری آئے۔ ملک و قوم کی ترقی کی خاطر اس فرسودہ نظام کو بدلنا ہو گا اور طریقہ تدریس کو موثر بنانے کیلئے جامع حکمت عملی اپنانا ہو گی۔ آج بھی اگر ہم اس بات پر مصر ہیں کہ ہم دیگر اقوام سے عقل میں پیچھے ہیں تو یہ نادانی ہے۔ بہتر مستقبل کی خاطر33  کے فارمولے کو بھلا کر معیار کم از کم45  فیصد تک لانا ہو گا ورنہ ہمارے بچے دور جدید کے تقاضوں کو پورا نہیں کر پائیں گے اور ان کی صلاحیتیں اور کوششیں بھی محدود ہوکر رہ جائیں گی۔