محنت کار زبوں حالی کا شکار کیوں 

محنت کار زبوں حالی کا شکار کیوں 

تحریر: سید ظفر علی شاہ باچا 
شہروں، قصبوں، سڑکوں اور گلی کوچوں کی صفائی سنیٹری ورکرز کی مرہون منت ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود یہ لوگ معاشرے کی حقارت آمیز رویئے کا شکار رہتے ہیں۔ جس طرح ان کا کام مشکل اور خطرناک ہے اسی طرح ان کی زندگی کا ہر پہلو بھی ہمیشہ سے مسائل کا شکار ہوتا ہے۔ ایسا گند جسے لوگ صرف دیکھ کر ناک پر رومال رکھ لیتے ہیں یہ سنیٹری ورکرز اپنے ہاتھوں سے اسے اٹھاکر ٹھکانے لگاتے ہیں۔ اگر گٹر اور سیوریج لان کی صفائی کو دیکھا جائے تو یہ نہایت خطرناک کام ہے کیونکہ سیوریج میں آرگینک اجزا موجود ہوتے ہیں اور ان کے آپس میں ملنے سے ہائیڈروجن سلفائیڈ، امونیا اور کاربن مونوآکسائڈ جیسی خطرناک گیسیں خارج ہوتی ہیں اور سیورمین گٹر کے اندر اِن گیسوں سے براہ راست تعلق میں آتے ہیں جو جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔ یہ گیسیں جلد اور سانس کی بیماریوں کا باعث بھی بنتی ہیں۔ کچھ سینیٹری ورکرز کی بینائی کمزور ہو جاتی ہے، کچھ کے بال وقت سے پہلے سفید ہو جاتے ہیں اور کچھ ہیپاٹائٹس اے اور بی جیسی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔لوگ اکثر گھر کا کوڑا کرکٹ، تولیے، خالی بوتلیں اور لوہے کے ٹکڑے نالیوں میں پھینک دیتے ہیں۔ اِس کے علاوہ ہسپتالوں اور فیکٹریوں سے نکلنے والا فضلہ بھی سیور میں پہنچ جاتا ہے۔ اکثر اوقات گٹر میں انہیں شیشے کا ٹکڑا، سوئی اور بلیڈ زخمی کر دیتا ہے۔ یہ حادثات ان کے روز کا معول بن چکے ہیں۔صفائی کے کام کے دوران سینیٹری ورکرز کے حادثات اور اموات کے بارے میں درست اعدادوشمار موجود نہیں جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انہیں کبھی اہمیت ہی نہیں دی گئی۔ شہری منصوبہ بندی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے موجودہ سیوریج نظام کی دیکھ بھال صرف اور صرف ہاتھ سے کام کرنے والے سنیٹری ورکرز کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ پائپوں، سیورز اور مین ہولز کی مخصوص پیمائش اور ساخت کے باعث مشینوں کے ذریعے اِن کی صفائی ناممکن ہے شاید یہی وجہ ہے کہ ورکرز صفائی کا کام ہاتھ سے کرنے پر مجبور ہیں جبکہ معاشرے نے بھی لاشعوری طور پر طے کر لیا ہے کہ صفائی کا کام صرف ایک مخصوص طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد ہی کریں گے بلکہ معاشرے کے ساتھ ساتھ ریاست بھی اپی پالیسیوں کے سبب اس طبقے کے استحصال میں شریک ہے۔ یہی وہ طبقہ ہے جن کی وجہ سے ہمارے اردگرد کا ماحول صاف و شفاف ہے اور ہم ناک پہ رومال رکھے بغیر گھوم پھر سکتے ہیں۔  معاشرہ اگرچہ ان ورکرز کو عزت و احترام دینے میں عار محسوس کرتا ہے لیکن حکومت کا فرض ہے کہ دیگر شہریوں کی طرح انہیں بھی بنیادی حقوق دیے جائیں اور ان کی حوصلہ افزای کیلے مناسب رسک الائونس جاری کیا جائے۔ بلدیاتی اداروں کو چاہیے کہ انہیں حفاظتی سامان فراہم کریں۔ ان کی صحت و زندگی کی حفاظت کیلے ہیلمٹ، سیفٹی بیلٹ، آکسیجن سلنڈر، دستانے، بوٹ اور  ماسک فراہم کرے جبکہ کام کیلے مناسب اوزار کی فراہمی یقینی بنائے۔ ان کی صحت کا خیال رکھتے ہوئے انہیں مفت طبی سہولیات دی جایں۔ تب ہی کہیں جا کر صفائی کا حقیقی خواب پورا ہوگا اور اس کے ساتھ ساتھ غیرب مزدور کار طبقہ بھی محنت سے کام کرے گا۔