یاسر شاہ ٹیسٹ سکواڈ سے باہرکیوں؟

یاسر شاہ ٹیسٹ سکواڈ سے باہرکیوں؟

تحریر: علی حسن ٹکر

دنیائے کرکٹ کے مختلف ادوار میں ہر ٹیم کو ٹیسٹ کرکٹ میں ایک نہ ایک ہیرا ضرور ملا ہے جس نے اپنی صلاحیتوں کی بدولت نہ صرف دنیائے کرکٹ پر راج کیا ہے بلکہ اپنا، ملک اور قوم کا نام بھی روشن کیا ہے۔
یہ وہی کھلاڑیہ ہوتے ہیں جو آخری دم تک لڑنے کا حوصلہ، ہمت، مہارت، عزم اور تجربہ رکھتا ہے اور اسکی بنیاد پر وہ ہمیشہ کے لئے زندہ رہتے ہیں ٹیسٹ کرکٹ میں گیند بازی کے شعبے میں چند ایسے نام  ہیں جو ہمیشہ سنہرے حروف سے لکھیں جائیں گے جن میں جمی اینڈرسن، اسٹورٹ براڈ، وسیم اکرم، ڈیل اسٹین، شین وارن، مرلی دھرن، اشون اور یاسر شاہ شامل ہیں۔اسی طرح اور بھی بے شمار نام ہیں لیکن ٹیسٹ کرکٹ میں سے اگر لیگ اسپنر کا نام خارج کیا جائے اور اس پر تذکرہ نہ ہو تو یہ بحث نا مکمل ہوگی۔ٹیسٹ کرکٹ فارمیٹ میں لیگ اسپنرز کو زیادہ اہمیت دینے کی وجہ یہ ہے کہ انہیں وکٹ لینے والے بالرز اور اٹیک آپشن کہا جاتا ہے کیونکہ ٹیسٹ کرکٹ میں ہر ٹیم مخالف ٹیم کی 20 وکٹیں لے کر میچ پر غلبہ حاصل کرنا چاہتی ہے تاکہ وہ اس منظر نامے کے لیے کارآمد ثابت ہوں۔موجودہ دور میں جہاں دیگر تمام ٹیمیں مختلف لیگ اسپنرز آزما رہی ہیں کیونکہ ان کے پاس تجربہ کا کوئی آپشن دستیاب نہیں ہے اس لیے وہ نوجوانوں کو آگے لا رہے ہیں۔لیکن اس دوران پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ ان کے پاس یاسر شاہ جیسا کھلاڑی ایک ریکارڈ ہولڈر اور ریکارڈ توڑنے والا دستیاب ہے اور انتخاب کے لیے مکمل طور پر فٹ بھی ہے۔وہ ایک ایسا بالر ہے جس کی مہارتوں اور خوبیوں کا موازنہ آسٹریلوی لیجنڈ لیگ اسپنر شین وارن کے علاوہ کسی اور سے نہیں کیا جا رہا ہے جو جادوگر باولر کے طور پر مشہور ہیں۔نہ صرف مہارت بلکہ ان دونوں لیگ اسپنرز کی کچھ ناقابل فراموش اور ناقابل یقین گیند بازی کا بھی موازنہ کیا جا رہا ہے  یہاں تک کہ کچھ عظیم ترین گیندوں کو Ball of the decade  اور Ball of the century کہا گیا ہے یاسر شاہ کے نام پر ریکارڈز ان کی کارکردگی کے لیے خود بولتے ہیں کیونکہ وہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں 100وکٹیں لینے والے مشترکہ طور پر دوسرے تیز ترین بالر ہونے کے ساتھ ساتھ تیز ترین 200 وکٹیں لینے والے باولر بھی ہیں۔انہیں کارکردگیوں ہی کی بنیاد پر ملنے والے ایوارڈز اور پذیرائی بھی ان کی کارکردگی کی عکاسی کرتی ہے کیونکہ انہیں 2017 میں پی سی بی کے ٹیسٹ پلیئر آف دی ایئر کے اعزاز سے نوازا گیا تھا اس کے ساتھ ہی انہیں 2019 میں صدر مملکت کی طرف سے پاکستان کے تیسرے سب سے بڑے سول ایوارڈ ستارہ امتیاز سے بھی نوازا گیا تھا۔ اب 2022 میں وہی یاسر شاہ جو اب بھی بغیر کسی جواز اور وضاحت کے اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے انگلینڈ کے خلاف ہوم سیریز کے لیے اعلان کردہ ٹیسٹ اسکواڈ سے باہر کر دیا گیا ہے۔اس دوران یاسر شاہ کے مقابلے ہی کے عمر کے کھلاڑی زاہد محمود کو ترجیح دی گئی کہ وہ اس حقیقت کو نظر انداز کر رہے ہیں کہ یہ سیریز ٹیسٹ چیمپئن بننے کے پاکستان کے سفر کے لیے کتنی اہم ہے اور شاہ اپنے تجربے اور صلاحیت سے ٹیم میں جو موجودہ ھوم سیریز کے لئے کتنے کار آمد ثابت ھوسکتے اس کا تذکرہ ماہرین کرکٹ بہت پہلے ہی سے کرچکے ہیں۔پھر بھی اگر ہم یاسر شاہ اور زاہد محمود کی گیندبازی، مہارت اور صلاحیتوں کی بنیاد پر دونوں کھلاڑیوں کا تجزیہ کریں تو ان میں یاسر اب بھی ہر لحاظ سے ان سے کہیں بہتر ہے کیونکہ شاہ کے پاس اپنے روایتی لیگ اسپن کے علاوہ ٹاپ اسپن، فلپر، گوگلی کی شکل میں زیادہ ورائٹی اور مہارت حاصل ہے اور انہیں مہارتوں اور تجربہ سے مخالف ٹیم کو کسی بھی وقت مشکل میں ڈال سکتا ہے۔پاکستان کرکٹ میں کم از کم مزید 4 سال قوم کی خدمت کرنے کی صلاحیت رکھنے والے کچھ ایسے عظیم کھلاڑیوں کے کیریئر کو ختم کرنے کی واقعی بری عادت ہے اور موجودہ منظر نامہ یاسر شاہ کے لیے بھی ایسا ہی لگتا ہے کیونکہ وہ اچھی فارم میں ہونے کے باوجود فٹنس کے معیار پر پورا اترتے ہیں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔آخر میں اگر پی سی بی ٹیم سے ڈراپ ہونے کا یہ کہہ کر دفاع کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ طویل مدتی اور مستقبل کے کھلاڑی کی تلاش میں ہیں تو انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ زاہد محمود کی عمر  34 سال ہے جبکہ یاسر شاہ کی عمر 36 سال ہے۔ دونوں کے پاس کرکٹ کا تقریبا ایک جتنا وقت رہ گیا ہے جب کہ یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ایک اور 36 سالہ اسپنر نعمان علی بھی اسی وقت موجودہ ٹیم کا حصہ ہیں جو کہ کرکٹ ماھرین کے لئے اس لئے حیران کن ہے کہ اسی سکواڈ میں یاسر شاہ باھر ہے۔تو سوال یہ ہے کہ اگر وہ اپنی عمر کی وجہ سے ڈراپ ہوا ہے تو کیا عمر کا معیار صرف ایک کھلاڑی کے لیے ہے یا باقی تمام کھلاڑیوں کے لئے بھی یہ معیار اور پیمانہ کیوں نہیں۔۔؟؟دوسری اہم بات یہ ہے کہ زاھد محمود کو ڈومیسٹیک کرکٹ کی کارکردگی کی بنیاد پر ترجیح دی گء ہے تو اس سے اتفاق اس لئے نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ڈومیسٹک میں تو عباس، میر حمزہ، عثمان صلاح الدین اور کامران غلام برسوں سے کارکردگی دکھا رہے ہیں ان کو کیوں نظر انداز کیا جارہا ہے۔ دوسری بات یہ کہ آپ کو ٹیم میں پریشر کھلاڑی ساتھ رکھنا پڑتا ہے جس کی مثال شاہین آفریدی ہے وہ کارکردگی دکھاتا ہے یا نہیں لیکن اسکی ٹیم میں موجودگی ہی مخالف ٹیم کو پریشر میں رکھنا ہے کیونکہ کرکٹ تو نام ہی پریشر گیم کا ہے اور یہی خاصہ ٹیسٹ کرکٹ میں یاسر شاہ کا بھی ہے کہ اس کا مخالف ٹیم کے بیٹسمینوں پر ھمیشہ ایک نفسیاتی دباو یا اثر ھوتا ہے جو کہ میرا نہیں خیال کہ یہ پریشر انگلینڈ کے تجربہ کار کھلڑیوں پر زاھد محمود ڈال سکے کیونکہ اسکا تجربہ، مھارت، صلاحیت اور عزم کسی بھی صورت یاسر شاہ کے برابر نہیں ھوسکتا کیونکہ یاسر شاہ ایک لیجنڈ ہے اس جیسے ٹیسٹ کرکٹر لیجنڈ عبدالقادر کے بعد ابھی تک پاکستان میں ایک ہی پیدا ھوا ہے اور اسکا نام ہے یاسر شاہ جسکا موازنہ مھارین یجنڈ شین وارن سے بھی  کرتے ہیں جس نے لیگ اسپنر کی حیثیت سے دنیائے کرکٹ پر راج کیا ہے۔