کیا لاک ڈاؤن نہیں لگے گا؟

کیا لاک ڈاؤن نہیں لگے گا؟

وزیر اعظم عمران خان نے ملک بھر میں ایک بار پھر مکمل لاک ڈاؤن کے نفاذ کا خدشہ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں کسی صورت لاک ڈاؤن کر کے اپنی معیشت کو تباہ نہیں کرنا، بغیر سوچے سمجھے لاک ڈاؤن لگانے سے بھارت کو نقصان اٹھانا پڑا، سندھ حکومت بھی مکمل لاک ڈاؤن لگانے سے قبل یومیہ اجرت کمانے والے کا سوچے۔ اتوار کو عوام کے ساتھ براہ راست ٹیلی فونک گفتگو کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے اس امر پر زور دیا کہ بچوں اور ٹیچرز کو ویکسین لگوانے تک سکول نہیں کھلنے چاہئیں، (کیونکہ) کورونا سے مکمل تحفظ کا واحد راستہ  ویکسینیشن ہی ہے، (اس لئے) حکومت کوشش کر رہی ہے کہ ویکسین کم نا ہوں (لیکن) عوام بھی ماسک کا استعمال یقینی بنائیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کو مزید وسعت دی جا رہی ہے، جمع شدہ ڈیٹا کی بنیاد پر ہم ضرورت مند خاندانوں کو براہ راست سبسڈی دیں گے۔ عوام سے ٹیلی فونک رابطے اور براہ راست ان سے گفتگو اور ان کی شکایات سننے کے اس عمل پر کسی قسم کا کوئی سوال اٹھائے بغیر، ہم سمجھتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان کا مکمل لاک ڈاؤن نافذ نا کرنے کا یہ فیصلہ نا صرف عام غریب یا یومیہ اجرت پر کام کرنے والے طبقات کے لئے خوش آئند ہے بلکہ بڑے بڑے صنعتکاروں یا کاروباریوں سے لے کر عام دکاندار تک اس اقدام کا خیر مقدم کریں گے تاہم ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بھی محض قیاس آرائی نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے کہ تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق اور ملک میں جاری طرز حکمرانی سمیت موجودہ حالات سے تھوڑی بہت واقفیت رکھنے والے قریب قریب سبھی افراد کو یہ خدشہ ضرور لاحق رہتا ہے کہ ماضی کی طرح اب کی بار بھی اس فیصلے پر کسی بھی وقت ایک اور یوٹرن لیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا قوم میں آہستہ آہستہ عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جا رہا ہے، ہمیں نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ملک کا حاکم ملک کو درپیش سنجیدہ مسائل و چیلنجز سے متعلق ایسے انداز میں گفتگو کرتے ہیں جیسے وہ سربراہِ حکومت نہیں بلکہ کسی ٹی وی شو میں بیٹھے پینل کا ایک حصہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ٹیچر اور بچوں کو ویکسین لگوائے بغیر سکول نہیں کھولنے چاہئیں کی تلقین کی بجائے کیا یہ موجودہ حکومت کی ذمہ داری نہیں کہ وہ یہ امر یقینی بنائے کہ ٹیچرز اور بچوں ہی نہیں بلکہ ان اداروں میں کام کرنے والے سبھی افراد یا ملازمینوں کی ویکسینیشن سے قبل کوئی بھی تعلیمی یا تدریسی ادارہ نہیں کھلے گا؟ یقیناً یہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے لیکن افسوس کہ برسرزمین حقائق حکومت کے بیشتر دعوؤں کی نفی کرتے ہیں۔ عوام سے ٹیلی فون پر براہ راست گفتگو کے دوران بھی وزیر اعظم نے حسب سابق و حسب عادت ماضی کی حکومتوں پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ انہوں نے صرف کرپشن ہی نہیں کی بلکہ اداروں کو بھی تباہ کیا، (اور آج) نیب نے تاریخ میں پہلی بار بڑے بڑے ناموں ہاتھ ڈالا (جبکہ) سابق حکومتیں اپنے لوگ تعینات کر کے نیب کو اپنی ایماء پر چلا رہی تھیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وزیر اعظم کے طرز سیاست اور ملک کو درپیش اہم چیلنجز سمیت اپوزیشن کی تمام قیادت کے حوالے سے مستقل طور پر ان کے اس طرز گفتگو کا ہی نتیجہ ہے کہ ان کے بارے میں یہ تاثر اب قوی ہوتا جا رہا ہے کہ حکومت میں آئے ہوئے انہیں تین سال کا عرصہ ہو گیا ہے تاہم وہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز دکھائی دینے کے بجائے کنٹینر پر کھڑے، ماضی قریب کے ملک کے مقبول ترین سیاسی رہنماء لگتے ہیں۔