ینگ ڈاکٹرز نے ڈسٹرکٹ و ریجنل ہیلتھ اتھارٹیز نظام مسترد کردیا

ینگ ڈاکٹرز نے ڈسٹرکٹ و ریجنل ہیلتھ اتھارٹیز نظام مسترد کردیا

پشاور(سٹاف رپورٹر) ینگ ڈاکڑز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کے صدر ڈاکٹر اسفندیار بیٹنی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت ڈاکٹروں کو درپیش مسائل حل کرنے میں مکمل ناکام ہوچکی ہے،کورونا وباء اور دیگر ہنگامی واقعات میں ڈاکٹروں کی قربانیوں کے باوجود حکومت ڈاکٹر وں اور دیگر طبی عملے کی قربانیوں کا احساس کرنے کی بجائے غیر سنجیدہ رویہ جاری رکھی ہوئی ہے۔

 

پشاور پریس کلب میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے ترجمان ڈا کٹر فیصل بارکزئی اور ایسوسی ایشن کے دیگر عہدیداروں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت فی الفور ڈسٹرکٹ اور ریجنل ہیلتھ اتھارٹیز کا نظام نافذ کرنے سے باز آجائے، ڈاکٹر کمیونٹی اور محکمہ صحت کے دیگر عملے نے متفقہ طور پر مجوزہ ڈی ایچ اے /آر ایچ اے نظام کو مسترد کردیا ہے، اس کے باوجود حکومت کسی نہ کسی شکل میں نئے نظام کے نفاذ کے لئے کوششیں کر رہی ہے، اس کی تازہ ترین مثال چارسدہ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں پیش آنے والا واقعہ ہے.

 

محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام موجودہ نظام کو عوام کی نظروں میں مشکوک بنا کر ڈی ایچ اے،آر ایچ اے کیلئے راستہ ہموار کرنے کی دانستہ کوشش کر رہے ہیں.

 

انہوں نے کہا کہ کورونا وباء کے دوران حکومت ڈاکٹروں کیلئے 100فیصد کورونا الاونس کا اعلان کیا تھا لیکن ڈیڑھ سال گرزنے کے باجود ڈاکٹر بغیر کورونا الاونس کے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر کرونا مریضوں کا علاج کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے جان بوجھ کر ڈاکٹروں کو پراونشل سلیکشن بورڈ سے ڈراپ کر کے ان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کردی ہے.

 

انہوں نے مطالبہ کیا کہ چار سال سے زیر التواء پروموشنز کے کیسز کے حوالے سے حکومت فوری اقدامات اٹھائے ، ینگ ڈاکٹرز کے رہنماؤں مطالبہ کیا کہ ایڈہاک میڈیکل افسران کی مستقلی اور حسب وعدہ 10 اگست سے پہلے پہلے این او سی بیسڈ انڈکشن کا نوٹیفیکیشن جاری کرے، ینگ ڈاکٹرز نے چارسدہ ہسپتال میں پیش آنے والے واقعے پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتال ایم ایس محکمہ صحت کے حکام کی آشیرباد سے جان بوجھ کر ایسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ ہسپتالوں کی نجکاری کے حکومتی منصوبے کیلئے راہ ہموار ہو سکے۔

 

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے رہنمائوں نے نیشنل لائسنسنگ امتحان کو بھی خلاف قانون قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔