نوجوان نسل کی شخصیت سازی اور ریجنل یوتھ سمٹ کا انعقاد

نوجوان نسل کی شخصیت سازی اور ریجنل یوتھ سمٹ کا انعقاد

  سید رسول بیٹنی

سوشیالوجی کے مطابق افراد کا اجتماعی ڈھانچہ معاشرہ کہلاتا ہے۔ اجتماعی زندگی کی خوب صورتی کے لیے کچھ کلیدی صفات کی ضرورت ہوتی ہے خصوصا نوجوان نسل کا ان صفات سے متصف ہونا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ اگر معاشرے کے نوجوانوں میں ان صفات کا خیال نہ رکھاجائے تو اجتماعی زندگی مختلف پریشانیوں، الجھنوں اور مختلف مصیبتوں کی آماجگاہ بن جاتی ہے اس کے ساتھ ہی نوجوانوں کو اپنی زندگی میں عقل وجذبات کے درمیان توازن قائم رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ جوانی میں جوش وجذبات کی کثرت ہوتی ہے اگر جذبات اور جوش کو شریعت کے تابع نہ کیا جائے تو بہت نقصان ہوتا ہے اور آگے چل کر یہی جذبات انسان کو مجرم بنا دیتے ہیں۔ تعلیم یافتہ نوجوان معاشرے پر بھرپور اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں، مگر آج کل اگر بغور جائزہ لیا جائے تو ہم واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں پڑھے لکھے تعلیم یافتہ نوجوان تین قسم کے معاشرتی مسائل کا شکار ہیں جن میں منشیات کی جانب راغب ہونا، ذہنی تناو یعنی نفسیاتی مسائل اور بے راہ روی کا رجحان نمایاں ہے۔

 

ضم شدہ اضلاع کی نوجوان نسل کو منفی سرگرمیوں سے بچانے اور انکے اذہان کو مثبت و تخلیقی سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے کیلئے جامعہ پشاور کے شعبہ کریمنالوجی اور اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار امیگریشن (آئی او ایم) کے پراجیکٹ کمیونٹی ریزیلنس ایکٹویٹی نارتھ کے زیر اہتمام چار روزہ "ریجنل یوتھ سمٹ" کا انعقاد کیا گیا۔

 

جامعہ پشاور کے باڑہ گلی کیمپس میں ترتیب شدہ ریجنل یوتھ سمٹ کا عنوان یوتھ ایمپاورمنٹ اینڈ لیڈرشپ ڈویلپمنٹ رکھا گیا تھا جس میں قبائلی اضلاع خیبر، اورکزئی،کرم اور نارتھ وزیرستان سے تعلق رکھنے والے 180 طلبا وطالبات، اکیڈمیاں، ڈویلپمنٹ سیکٹر اور میڈیا کے نمائندوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ پروگرام کا مقصد نوجوان نسل کی تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارنے و اپنی اہمیت سے آگاہ کرنا تھا تا کہ معاشرے میں جرائم کی شرح میں کمی لائی جائے۔ اس کے علاوہ ایک پر امن معاشرے میں نوجوان نسل کا کردار،سماجی کارکنان کو انسانی خدمات کے حوالے سے آپس میں اتفاق رائے ، روابط اور ہم آہنگی پیدا کرنا اور اس کے ساتھ ساتھ فاٹا انضمام کے بعد قبائلی اضلاع کے اندر نوجوان نسل کو درپیش مشکلات کو حل کرنے پرغور کرنا تھا۔پروگرام کے افتتاحی سیشن کے مہمان خصوصی وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت و تجارت عبدالکریم تھے انہوں نے اس موقع پر شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل کسی بھی ملک وقوم کا حقیقی سرمایہ اور اثاثہ ہوتے ہیں۔قوموں کی تاریخ میں نوجوان نسل کا کردار نہ صرف مثالی رہا ہے بلکہ ملکوں کی ترقی میں نوجوان ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کے جدید دور میں نوجوان نسل کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ بہتر تعلیم وتربیت حاصل کرلیں تاکہ وہ کل ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔

 

موجودہ حکومت نوجوانوں کے لیے بہت سارے انٹرسٹ فری لون اور دیگر پیکج دے رہی ہے تاکہ وہ بہتر طریقے سے اپنے لیے کاروبار شروع کرسکیں، اس موقع پر انہوں نے جامعہ پشاور اور کمیونٹی ریزیلنس ایکٹویٹی نارتھ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام سے قبائلی نوجوانوں کو نہ صرف کام کرنے کا موقع ملے گا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ معاشرے میں ایک چینجر کے طور پر بہترین ماحول کو جنم دینگے جہاں پر امن معاشرے کو تقویت ملے گی۔جامعہ پشاور کے ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر زاہد انور نے اپنے خطاب میں نوجوان نسل کو ملک کا قیمتی سرمایہ قرار دیدیا۔ ان کو ایک ایسے تعلیمی اور تخلیقی سمت کی طرف لانا ہے تاکہ وہ منفی سرگرمیوں میں اپنی توانائی صرف کرنے کی بجائے تعمیری اور تخلیقی سرگرمیوں میں مشغول ہوسکیں اور مملکت خداداد کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ طالب علم نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ کھیل کود، ثقافی تقریبات اور تنقیدی مباحثوں میں بھی شرکت کیا کریں تاکہ آپ لوگ ہر طرح کے حالات اور واقعات کا مقابلہ کر سکیں۔

 

انہوں نے کہا کہ اس جیسے ورکشاپس اور تحقیقی سرگرمیوں کے ذریعے پاکستان کی بہتر مستقبل کیلئے رہنما اور سکالرز پیدا کرنا مقصود ہیں جو کہ بنیادی طور پر معاشرے کی ترقی و امن کی بحالی اور علاقائی سالمیت کے لئے اپنے اپنے حلقوں میں بھرپور کام کرسکیں۔(آئی او ایم) کے ڈسٹرکٹ لیڈر ضلع خیبر عرفان خان نے کہا کہ ایسی سرگرمیوں سے نوجوان نسل تعمیری اور تخلیقی سوچ کی طرف متوجہ ہوگی اور اپنے معاشرے کی ترقی میں بھی اپنا کردار ادا کرینگے جس سے لوگوں کے درمیان امن اور بھائی چارے کی فضائ کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں نوجوانوں کی ذمہ داریاں بہت زیادہ ہیں۔ یہاں غریبی، بیروزگاری، تعلیمی پسماندگی وغیرہ ایسے مسائل ہیں جہاں سماج بہبود کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ان تمام مسائل کے پیش نظر اس شعبے کی اہمیت بتدریج بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پشاور یونیورسٹی کے شعبہ کریمنالوجی اور انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار امیگریشن (آئی او ایم) کے پراجیکٹ کمیونٹی ریزیلنس ایکٹویٹی نارتھ کے زیر اہتمام قبائلی نوجوان نسل کیلئے ترتیب شدہ تربیتی پروگرام "یوتھ ایمپاورمنٹ اینڈ لیڈر شپ ڈیویلپمنٹ" قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے طلبائ وطالبات کے لئے بے حد مفید رہا کیونکہ پروگرام کے تمام سیشنوں میں شرکا نے خوب حصہ لیا اور ایک دوسرے کے تجربات سے انہیں بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ مثبت سماجی رویوں کو سماجی تبدیلی میں بدلنا ایک چیلنج ہے جس کیلئے ہم تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں لیکن بدقسمتی سے دہشت گردی کی لہر نے قبائلی نوجوانوں کو کافی زیادہ نقصان پہنچایا اور انکے ذہنی نشوونما پر گہرے اثرات چھوڑے۔ انہوں نے کہا کہ اب قبائلی اضلاع میں امن بحال ہوچکا ہے جس کا سب زیادہ فائدہ وہاں کے نوجوان نسل کو ہی ملے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پراجیکٹ کے پہلے مرحلے میں قبائلی اضلاع خیبر ، کرم، اورکزئی اور شمالی وزیرستان کے طلبائ و طالبات کو تربیت فراہم کی گئیں اور پھر بعد میں ان شرکائ نے اپنی اپنی کمیونٹی میں آگاہی سیشنز کا انعقاد کیا اور اس کے ساتھ ساتھ لوگوں میں بنیادی حقوق اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ اور صحت مند معاشرے کے قیام کے لیے قبائلی اضلاع کے لوگوں میں شعور اجاگر کیا گیا۔چار روزہ ریجنل یوتھ سمٹ کے اندر جامعہ پشاور کے مختلف شعبہ جات کے اساتذہ کرام نے نوجوان طلبائ وطالبات کے ساتھ مختلف سیشنز میں امن کی اہمیت،معاشرے کے ترقی میں نوجوان نسل کا کردار،مثبت تنقیدی سوچ،سوشل ویلفیئر ایڈمنسٹریشن،صنفی تشدد ،یوتھ ڈیولپمنٹ،کرائم اینڈ کریمنل جسٹس سسٹم اور معاشرتی ترقی کے مختلف موضاعات پر لیکچرز دئیے گئے۔ جامعہ پشاور کے شعبہ کریمنالوجی کے چیئرمین ڈاکٹر بشارت حسین کے مطابق موجودہ وقت میں نوجوانوں کو تخلیقی کاموں میں اپنے آپ کو مشغول کرنا ہوگا جس کیلئے سماجی بہبود ایک موزوں اور عملی شعبہ ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ شعبہ سماجی بہبود بیک وقت کئی حوالوں سے اپنی ایک منفرد اہمیت رکھتا ہے کیونکہ سماجی بہبود اگر ایک طرف معاشی ترقی پر زور دیتا ہے تو دوسری طرف انسانی حقوق کو پامال کرنے سے روکتا بھی ہے۔ ڈاکٹر بشارت نے کہا کہ وہ خطے جو جنگ یا دوسرے قدرتی آفات سے متاثرہ ہیں تو وہاں نوجوانوں کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو رنگ، مذہب،نسل،فرقہ پرستی سے آزاد ہوکر کام کرنا ہوگا اور ایک پر امن معاشرے اور انسانیت کے ترقی کیلئے کوشاں رہنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سماجی بہبود کا مکمل تصور اورتوجہ انسانی مسائل پر مرکوزہے،اس کی بنیاد ہی عوام کی فلاح و بہبود کے جذبے پر مشتمل ہے۔ اگر نوجوان نسل کی اہمیت کا باریک بینی سے مطالعہ کیا جائے تو تب اس کی ہمہ گیریت اور وسعت کا اندازہ ہوتا ہے اور اس بات کا بھی پتہ چل جاتا ہے کہ ایک پائیدار معاشرے کی تعمیر کے لیے نوجوان نسل ایک منظم انداز میں انسان کے نفسیاتی ،سماجی اور معاشی مسائل پر قابو پانے کی کوششوں میں کیسے مصروف عمل رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماجی بہبود ایک ایسا پیشہ ہے جو مکمل طور پر انسانوں کے مجموعی مسائل کی شناخت اور حل کرنے پر یقین رکھتا ہے اس لیے اس کو ایک ایسے مدد گار پروفیشن کے طور پر دیکھا گیا ہے جو انسانی ضرورتوں کو اپنے دائرہ کار میں لاتا ہے۔

 

انہوں نے بتایا کہ اس تربیتی پروگرام سے قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے نوجوان طلبائ وطالبات میں قائدانہ صلاحیتیں ابھر کر سامنے آئینگی جو ان کو فیصلہ سازی میں مدد دے گی تاکہ وہ معاشرے میں تخلیقی سرگرمیوں کو پروان چڑھائیں اور مثبت سوچ کو اپنا کر معاشرے کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کی شخصیت سازی نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ ریجنل یوتھ سمٹ میں شریک ضلع خیبرسے تعلق رکھنے والے نوجوان اعجاز علی آفریدی نے بتایا کہ اس تربیتی پروگرام سے مجھے "یوتھ ایمپاورمنٹ اینڈ لیڈر شپ ڈیویلپمنٹ" کے بارے میں تفصیل کے ساتھ آگاہی ملی۔ ہم نے اس تربیت میں تنقیدی سوچ کی اپنائیت،سیلف ڈیویلپمنٹ اور سوشل ایکشن پروجیکٹس کے بارے میں سیکھا۔ پروگرام کے پہلے مرحلے میں ہمیں تربیت دی گئی اور مختلف آگاہی سرگرمیوں کے اسائنمنٹس دئیے، ہمارے گروپ نے وادی تیراہ میں سماجی سرگرمیاں ترتیب دی تھیں تاکہ قبائلی اضلاع کے لوگ اپنے حقوق سے باخبر ہو جائیں۔ جامعہ پشاور کے شعبہ فلاسفی کے چیئرمین ڈاکٹر شجاع احمد نے شرکاکو تنقیدی سوچ کی اپنائیت ،منطق اور دلیل کے ساتھ بحث کرنے پر لیچکر دیا جس میں انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ ہمیشہ مسائل کو پرکھنے کی کوشش کریں اور منطق کی بنیاد پر حل کرنے کیلئے اقدامات اٹھائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ہماری حکومت اور ریاستی ادارے نوجوانوں کی بات تو بہت کرتے ہیں اور دعوی کیا جاتا ہے کہ ان کو اپنی مختلف پالیسیوں کی مدد سے قومی ترقی کے دھارے میں شامل کیا جائے گا لیکن عملی طور پر ہماری حکومتی پالیسیوں کے عملی نتائج میں ہمیں نوجوان طبقہ کے حقیقی بنیاد پر مبنی مسائل کی وہ عکاسی نہیں ہوتی جو ہونی چاہیے تھی۔ ریجنل یوتھ سمٹ کے آرگنائزر اور جامعہ پشاور کے شعبہ سوشل ورک کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد ابرار نے بتایا کہ اس تربیتی پروگرام کا اصل اور بنیادی مقصد قبائلی اضلاع کے نوجوانوں کی شخصیت سازی کرنا تھا تاکہ وہ اپنے معاشرے کی مسائل کو پہچان سکیں اور انکی حل کیلئے مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر عملی اقدامات اٹھائیں۔ انہوں نے شرکائ کو "مستقبل کے رہنما" کے موضوع پر لیکچر دیا اور سوشل ایکٹویزم کے بارے میں بتایا کہ قبائلی نواجوان نسل بھی باقی پاکستان کے نوجوانوں کی طرح اپنی حقوق کے متعلق شعور حاصل کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی سرگرمیوں سے نوجوان نسل تعمیری اور تخلیقی سوچ کی طرف متوجہ ہوگی اور اپنے معاشرے کی ترقی میں بھی اپنا کردار ادا کریگی جس سے لوگوں کے درمیان امن اور بھائی چارے کی فضائ کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں سوشل ورک کی ذمہ داریاں بہت زیادہ ہیں۔یہاں غریبی، بیروزگاری، تعلیمی پسماندگی وغیرہ ایسے مسائل ہیں جہاں سوشل ورک کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ان تمام مسائل کے پیش نظر اس شعبے کی اہمیت بتدریج بڑھ رہی ہے۔ اس پروگرام سے نہ صرف جامعہ پشاور کے طلبائ و طالبات کو اپنے علاقوں میں کام کرنے کا موقع ملا بلکہ اس کے ساتھ انہوں نے قبائلی نوجوانوں میں شعور اور کمیونٹی کی بہتری کے لیے بہترین کردار نبھایا، انکا کہنا تھا کہ جامعہ پشاور دیگر بین الاقوامی اداروں کے ساتھ ملکر بہترین معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریگا۔

 

ضلع کرم سے تعلق رکھنے والی سدرہ بتول کا کہنا تھاکہ اس چار روزہ ورکشاپ سے قبل مجھے معلوم نہیں تھا کہ ہم نوجوان اتنی اہمیت کا حامل ہے۔ ورکشاپ میں ڈیویلپمنٹ سیکٹرز کے ریسرچرز نے سماجی بہبود کے حوالے سے اپنی اپنی مشاہدات اور تجربات شئیر کئے جس سے نوجوان طلباو طالبات کو تحقیق کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس تربیت سے نوجوانوں کو اپنے مسائل کی نشاندہی اور انکی حل بارے آگاہی ملے گی جو کہ علاقے میں امن کی دوبارہ بحالی میں کام آئیگی۔ ماہرامور نوجوانان اور جامعہ پشاور کے شعبہ ریجنل سٹڈیز کے چیئرمین زاہد علی نے "ریجنل یوتھ سمٹ" پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ایک بڑی سیاسی طاقت نوجوان طبقہ ہے کیونکہ کسی بھی معاشرے کی ترقی کا بنیادی نکتہ نوجوان نسل کی ترقی سے جڑا ہوتا ہے اور کوشش کی جاتی ہے کہ ریاستی و حکومتی سطح پر زیادہ سے زیادہ مواقع اور سازگار ماحول کو یقینی بناکر ان کی ترقی کو ممکن بنانا جا سکے لیکن یہ سب کچھ اسی صورت میں ممکن ہوتا ہے کہ جب ریاستی و حکومتی سطح پر نوجوان طبقہ ان کی سیاسی ترجیحات کا حصہ ہوتا ہے۔ سیاسی ترجیحات سے مراد یہ ہوتی ہے کہ حکومتی سطح پر نوجوانوں کے لئے وسائل کی منصفانہ تقسیم ہو اور نوجوانوں میں پڑھے لکھے، ناخواندہ، شہری اور دیہی لڑکے اور لڑکیاں، معذور، خواجہ سرا اور کمزور طبقات شامل ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ عمومی طور پر ہماری سیاسی قیادت اور سیاسی جماعتیں نوجوان طبقہ کو اپنے سیاسی حق میں ایک بڑے سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ نوجوان طبقہ سیاسی سطح پر اہل سیاست کے ہاتھوں سیاسی استحصال کا بھی شکار ہوتا ہے۔