یومِ تکبیر۔۔۔طا قت و سلامتی کا استعارہ

یومِ تکبیر۔۔۔طا قت و سلامتی کا استعارہ

تحریر: مولانا محمد طارق نغمان گڑنگی

28 مئی 1998 جمعرات کا دن تھا اور سہ پہر3  بج کر40  منٹ پر یکے بعد دیگرے  چاغی کے پہاڑوں میں  پانچ ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان نے ہمسایہ اور دشمن ملک بھارت کی برتری کا غرور خاک میں ملا دیا۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان ایٹمی قوت رکھنے والا دنیا کا ساتواں اور عالم اسلام کا پہلا ملک بن گیا۔
چاغی میں ہونے والے دھماکوں کی قوت بھارت کے 43 کلو ٹن کے مقابلے میں50  کلو ٹن تھی ۔ بھارت نے11  مئی 1998کو فشن (ایٹم بم) تھرمو نیوکلیئر (ہائیڈروجن) اور نیوکران بموں کے دھماکوں کے بعد پاکستان کی سلامتی اور آزادی کیلئے خطرات پیدا کر دیئے تھے اور علاقہ میں طاقت کا توازن تبدیل ہونے سے بھارت کے جارحانہ عزائم کی تکمیل کی راہ ہموار ہو گئی تھی جسے روکنے کیلئے پاکستانی عوام کے علاوہ عالم اسلام کے پاکستان دوست حلقوں کی طرف سے سخت ترین دباؤ ڈالا جا رہا تھا کہ پاکستان بھی ایٹمی تجربہ کر کے بھارت کو منہ توڑ جواب دے۔ ملک خداداد کے اس اقدام کو امریکہ اور یورپ کی تائید حاصل نہ تھی۔ یہی وجہ تھی کہ امریکی صدر کلنٹن، برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اور جاپانی وزیراعظم موتو نے پاکستان پر دباؤ ڈالا کہ پاکستان ایٹمی دھماکہ نہ کرے ورنہ اس کے خلاف سخت ترین پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔

 

دوسری طرف بھارت کی معاندانہ سرگرمیوں کی صورتحال یہ تھی کہ بھارت نے ایٹمی دھماکہ کرنے کے علاوہ کشمیر کی کنٹرول لائن پر فوج جمع کر دی تھی۔ اس طرح پاکستان بھارت جنگ کا حقیقی خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ بھارتی وزیر داخلہ اور امور کشمیر کے انچارج ایل کے ایڈوانی نے بھارتی فوج کو حکم دیا کہ وہ مجاہدین کے کیمپ تباہ کرنے کیلئے آزاد کشمیر میں داخل ہو جائے جبکہ بھارتی وزیر دفاع جارج فرنینڈس نے تو یہاں تک ہرزہ سرائی کی تھی کہ بھارتی فوج کو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس کر دیا جائے گا۔ یہ سب کچھ پاکستان کے خلاف جارحانہ اقدامات کی تیاریاں تھیں۔ یہ درست ہے کہ بھارت نے ایٹمی دھماکے کر کے ایک آزاد اور خودمختار ملک کی حیثیت سے اپنے حق کا استعمال کیا مگر یہ بات بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ بھارت کے ایٹمی دھماکوں کا واضح مقصد صرف اور صرف پاکستان کو خوفزدہ کرنا تھا اور ایک طاقتور ملک ہونے کا ثبوت دے کر پاکستان سمیت پورے خطے کے ممالک پر اپنی برتری جتانا تھا۔ اس کے حکمرانوں اور سیاستدانوں کا پاکستان کے بارے میں لہجہ ہی بدل گیا تھا۔ اس سلسلے میں عالمی شہرت یافتہ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے دہلی سے ایک خبر جاری کی جس میں بھارتی دفاعی ماہرین کی طرف سے واجپائی حکومت کی طرف سے دھماکوں کو ایک جراتمندانہ اقدام قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارت عالمی دباؤ کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ بھارت کے تکبر اور غرور کا یہ عالم تھا کہ اس کے سائنسدانوں کی طرف سے یہاں تک کہا گیا کہ کمپری ہینسو ٹیسٹ بین ٹریٹیCTBT  بھارت کیلئے نہیں کمزور ممالک کیلئے ہے مگر خدا کو اس ارض وطن پر دشمنان اسلام کے عزائم کی کامیابی کسی صورت گوارا نہ تھی جس کے چپے چپے پر ابھی تک پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ کے نعروں کی گونج سنائی دے رہی تھی۔

 

بیسویں صدی کے ساتویں اور آٹھویں عشرے میں رونما ہونے والے عالمی سطح کے حالات و واقعات کا تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو جوہری صلاحیتوں سے بہرہ ور کرنے کا جو خواب دیکھا تھا بھارت کے پہلے ایٹمی دھماکے نے اسے مستحکم ارادے میں بدل کر رکھ دیا اور اس دن سے وہ پاکستان کو اس منزل تک پہنچانے کی راہ پر ڈالنے کی جدوجہد میں سرگرم عمل ہو گئے۔

 

بھٹو نے 1966 میں تجدید اسلحہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر بھارت نے ایٹم بم بنا لیا تو چاہے ہمیں گھاس کھانا پڑے، ہم بھی ایٹم بم بنائیں گے۔ یہ بات قومی مفاد میں نہیں کہ ہمارے پاس بندوق تو موجود ہو لیکن کارتوس نہ ہو۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 1973 سے فرانس کی ایک فرم اور حکومت سے ری پراسیسنگ پلانٹ کے حصول کے بارے میں مذاکرات شروع کر رکھے تھے۔
مشہور عالمی جریدے نیوز ویک نے اپنے16  جون 1975 کے شمارے میں امریکی کانگریس کے ارکان کے حوالے سے یہ خبر شائع کی تھی کہ پاکستان فرانس سے ایٹمی مشینری خریدنے کا معاہدہ کرنے والا ہے۔ بھارت کے ایٹمی دھماکے کے بعد ملک کے بعض سائنسدانوں کو بلا کر انہوں نے بھارتی سائنسدانوں کے آگے نکل جانے کا احساس دلایا۔ اس وقت ایٹمی توانائی کمیشن کے سربراہ خود بھٹو تھے۔ اس کا چارج انہوں نے31  دسمبر 1971 کو خود سنبھالا تھا۔ فرانس سے ری پراسیسنگ پلانٹ کی خرید کے معاہدے کی تمام شرائط کو تسلیم کرنے کے بعد سب سے بڑا مسئلہ300  ملین ڈالر کے اس منصوبے کیلئے سرمائے کا حصول تھا۔ لیبیا، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور عراق کی طرف سے بھرپور مالی تعاون کی پیشکش پر انہوں نے غلام اسحاق خان، آغا شاہی، عزیز احمد، اے جی این قاضی اور منیر احمد کو خصوصی مشن پر ان ممالک میں بھیجا۔

 

امریکی حکومت نے27  مئی کی رات کو اسلام آباد میں متعین امریکی سفیر سائمنز سا جونیئر کو وزیراعظم ہاؤس بھیجا جنہوں نے اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو صدر کلنٹن کا اہم پیغام اور بعض تجاویز پیش کیں جبکہ اسی روز سی این این کی واشنگٹن سے ٹیلی کاسٹ ہونے والی ایک خبر کو اخبارات نے نمایاں طور پر شائع کیا۔ اس خبر کی سرخی یہ تھی کہ پاکستان نے دھماکہ کرنے کیلئے ایٹم بم زیرزمین پہنچا دیئے۔ دھماکہ کسی وقت بھی ہو سکتا ہے۔ تیار کئے گئے بنکروں میں کنکریٹ ڈالی جا رہی ہے۔
28 مئی 1998کو محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان مرحوم کی نگرانی اور دوسرے قومی سائنسدانوںکی معیت میں جب میاں نواز شریف نے ایٹمی دھماکے کئے تو پورا ملک خوشی و مسرت سے جھوم اٹھا۔ عوام نے شکرانے کے نوافل ادا کئے۔ امریکہ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو ایٹمی دھماکے کرنے سے روکنے کیلئے اپنی کوششیں آخری وقت تک جاری رکھیں مگرسابق  وزیراعظم نواز شریف نے ملکی سلامتی اور قومی خودمختاری پر کسی قسم کی سودے بازی سے صاف انکار کر دیا۔ دھماکے کرنے کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف نے ریڈیو اور ٹیلیویژن پر اپنی تاریخی تقریر کی اور انہوں نے بجا طور پر یہ بات کہی کہ ہم نے بھارت کا حساب بیباک کر دیا۔ بزدل دشمن ایٹمی شب خون نہیں مار سکتا۔ دفاعی پابندیاں لگیں تو پاکستان ایٹمی طاقت بن گیا۔ اقتصادی پابندیاں لگیں تو بھی سرخرو ہوں گے۔

 

یہاں پر محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان مرحوم کا ذکرنہ کیا جائے تو ناانصافی ہو گی جنہوں نے ملک خداداد کو ایٹمی طاقت دی۔ پاکستانی ایٹم بم کے خالق ڈاکٹر عبد القدیر خان یکم اپریل1936  کو موجودہ بھارت کے شہر بھوپال میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستان آ گئے تھے اور انہوں نے کراچی میں سکونت اختیار کر لی تھی،1960  میں کراچی یونیورسٹی سے میٹالرجی  میں ڈگری حاصل کی، بعد ازاں پندرہ برس یورپ میں رہنے کے دوران مغربی برلن کی ٹیکنیکل یونیورسٹی، ہالینڈ کی یونیورسٹی آف ڈیلفٹ اور بیلجیئم کی یونیورسٹی آف لیون میں پڑھنے کے بعد 1976 میںسابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی درخواست پر  واپس پاکستان لوٹ آئے۔ انہوں نے ہالینڈ سے ماسٹرز آف سائنس جبکہ بیلجیئم سے ڈاکٹریٹ آف انجینئری کی اسناد حاصل کیں۔ آپ نے31 مئی 1976 کو انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز میں شمولیت اختیار کی۔ بعد ازاں اسی ادارے کا نام یکم مئی1981  کو جنرل ضیاالحق نے ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز رکھ دیا۔ یہ ادارہ پاکستان میں یورینیم کی افزودگی میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ریسرچ لیبارٹریز نے نہ صرف ایٹم بم بنایا بلکہ پاکستان کے لئے ایک ہزار کلومیٹر دور تک مار کرنے والے غوری میزائل سمیت کم اور درمیانی رینج تک مارکرنے والے متعدد میزائل تیار کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ 

 

پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے اور اس کا دفاع ناقابل تسخیر بنانے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا انتہائی اہم کردار تھا۔11 مئی 1998 میں پاکستان نے بھارتی ایٹم بم کے تجربے کے بعد کامیاب تجربہ کیا۔ بلوچستان کے شہر چاغی کے پہاڑوں میں ہونے والے اس تجربے کی نگرانی ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ہی کی تھی۔14  اگست1996  کو اس وقت کے صدر مملکت فاروق لغاری نے پاکستان کے سب سے بڑا سِول اعزاز نشانِ امتیاز سے نوازا، اس سے قبل انہیں1989  میں ہلال امتیاز سے بھی نوازا گیا تھا۔ سعودی مفتی اعظم نے عبد القدیر خان کو اسلامی دنیا کا ہیرو قرار دیا اور پاکستان کے لیے خام حالت میں تیل مفت فراہم کرنے کا فرمان جاری کیا۔

 

مغربی دنیا نے پروپیگنڈا کے طور پر پاکستانی ایٹم بم کو اسلامی بم کا نام دیا جسے ڈاکٹر عبد القدیر خان نے بخوشی قبول کر لیا۔ پرویز مشرف دور میں پاکستان پر لگنے والے ایٹمی مواد دوسرے ممالک کو فراہم کرنے کے الزام کو ڈاکٹر عبد القدیر نے ملک کی خاطر سینے سے لگایا اور نظربند رہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ایک سو پچاس سے زائد سائنسی تحقیقاتی مضامین بھی لکھے ہیں۔ محسن پاکستان، پاکستان کے عظیم ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر خان پہلے پاکستانی ہیں جنہیں3  صدارتی ایوارڈز سے نوازا گیا۔ 1993 میں کراچی یونیورسٹی نے ڈاکٹر عبد القدیر خان کو ڈاکٹر آف سائنس کی اعزازی سند سے نوازا۔14  اگست 1996 میں صدر پاکستان فاروق لغاری نے ان کو پاکستان کا سب سے بڑا سِول اعزاز نشانِ امتیاز دیا جبکہ 1989 میں ہلال امتیاز کا تمغہ بھی ان کو عطا کیا گیا۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان نے سیچٹ(sachet)  کے نام سے ایک فلاحی ادارہ بنایا جو تعلیمی اور دیگر فلاحی کاموں میں سرگرم عمل ہے۔ محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان پاکستان کے دفاع اور سلامتی کی ایک قابلِ فخر تاریخ اور جدوجہد کا نام تھا، ان کی زندگی پاکستان سے محبت کی کہانی ہے، اسلام اور پاکستان ہی ان کا مطمح نظر رہا ہے۔ ان کی تمام زندگی پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے میں صرف ہوئی، پاکستان اور قوم ہمیشہ ان کی احسان مند رہے گی۔ 

 

الحمدللہ! آج28  مئی کو یومِ تکبیر منایا جا رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آج سے 24 سال قبل جب یہ دھماکے کئے گئے تو بھی دن جمعرات کا تھا اور آج جبکہ قوم اس دن کو منا رہی ہے تو بھی جمعرات کا دن ہے۔ یہ یومِ تفاخر ہے اور ہماری قومی تاریخ کا انمٹ باب ہے۔ اللہ تعالی ہمارے ملک پاکستان کو اندرونی بیرونی خطرات سے محفوظ رکھے۔ آمین!