یوسف مستی خان

یوسف مستی خان

شاہ محمد مری 

یوسف مستی خان نے تقریباً اسی وقت کراچی میں سیاست شروع کردی تھی جس وقت میں نے سبی کی سیاست شروع کی تھی۔ وہ ولی خان کی پارٹی میں تھے اور مجہے حالات نے سی آر اسلم کا ساتھ دینے والوں میں رجسٹر کیا۔ میں نے کبھی پوچھا نہیں کہ انہیں بعد کی زندگی میں ولی خان اور پھر بعد میں شیر باز مزاری کی فیوڈل پارٹیوں میں رہنا کیسا لگتا تھا۔ مگر جب ان پارٹیوں کے نہ رہنے کی بدولت وہ ایک بار تاریخ کے اِس جبر سے چھوٹے تو پھر زبردست ہوگئے۔ 

ضیا کا دور روپوشیوں یا مختصر دورانیے کی جیلوں میں سے ہو کر گزرگیا ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب اس کی پارٹی ٹوٹی اور یہی وہ زمانہ تھا جب میری پارٹی بھی ٹوٹی۔ میں البتہ اپنی پارٹی کا نام ، اس کا پرچم، اس کا ہفت روزہ اخبار اور اکثریتی دھڑا بچانے کے لیے آسمان کا مشکور رہا۔ بزنجو صاحب کا سایہ سروں پہ سے اٹھ گیا تو بزنجو صاحب کی ڈھیلی آرگنائزیشن والی پارٹی بھی ٹوٹ گئی۔ یوں ایک ٹکڑے کی صدارت یوسف مستی خان کے حصے میں آئی ۔ کچھ ہی عرصہ بعد میری سوشلسٹ پارٹی ،لال بخش رند اور مستی خان کی پارٹیوں کے مابین ادغام کا فیصلہ ہوا۔ ایک منشور کمیٹی بنی جس میں میں اپنی پارٹی کی نمائندگی کر رہا تھا ۔ اس کمیٹی کی ایک آدھ میٹنگ کراچی میں ہوئی اور وہیں یوسف جان سے بھرپور شناسائی ہوئی اور ہم نیشنل ورکرز پارٹی کے پرچم تلے ایک ہی پارٹی میں کام کرنے لگے ۔ یہ سن 1999ء تھا۔ 

اس پارٹی میں سامراج دشمنی ، قومی حقوق کی سیاست اور محکوم طبقوں اور عورتوں کی جدوجہد کو باہم ملا کر چلنے کا فیصلہ ہوا۔ اب یہ پارٹی قوم پرست بھی تھی، یہ ورکنگ کلاس کی پارٹی بھی تھی اور اسے عورتوں کے حقوق کے لیے بھی جدوجہد کرنا تھی۔ ہم دونوں ہماری نئی پارٹی کی اس بات سے مکمل طور پر متفق تھے کہ پاکستان جیسے ملک میں قومی سوال کو طبقاتی اور طبقاتی سوال کو قومی سوال سے کاٹ کر دیکھا نہیں جاسکتا کیونکہ ایک جینوئن قومی سوال اپنے مواد میں بین الاقوامی ہوتا ہے اور طبقاتی سوال اپنی ساخت میں قومی ہی رہتا ہے۔ 

ہم اکٹھے ایک ہی پارٹی میں سیاست کرنے لگے۔ اس کے سابقہ تجربات کے برعکس اب یہ کوئی مین سٹریم بورژوا پارٹی نہ تھی بلکہ یہ ایک لحاظ سے کیڈر پارٹی تھی۔ یہاں سٹڈی سرکلیں ہوتی تھیں، ایک نظریاتی اخبار موجود تھا جس کا پڑھنا ہر ممبر کے لیے لازم تھا اور وقت پے اس کی کانگریسیں ہوتی تھیں جن میں باقاعدہ سیاسی ، تنظیمی اور مالی امور کی لکھی ہوئی رپورٹیں پیش ہوتیں ۔ ان رپورٹوں پے باقاعدہ بحثیں ہوئیں اور پھر پارٹی میں باقاعدہ نئی قیادت چنی جاتی ۔ یہ سارے ایسے کام تھے جو یوسف جان کی سابقہ ساری بورژوا پارٹیوں میں نہیں ہوتے تھے۔ 

یہاں عمومی خواہش تھی کہ محنت کو عظمت حاصل ہو، محنت کا استحصال ختم ہو، ملک کے آئین کی بنیادی ری سٹرکچرنگ ہو، فیڈریشن کی تشکیل کرنے والی یونٹوں کو ملک میں عملی طور پر بااختیار بنا کر ملکی امور میں برابر کا حصہ دار بنایا جائے ۔ ہر یونٹ کے کلچر، زبان اور اپنے قدرتی وسائل پر اس کے حتمی اختیار کا حق حاصل ہو۔ یوسف اس تحریک کا اٹوٹ حصہ تھے۔ انہیں قریب سے جاننے والے جانتے ہیں کہ انہیں دولت اور اقتدار کی حرص نہیں تھی۔ اب اس نئی پارٹی میں تو وہ پاور پالٹیکس کے امیدوار بھی نہ رہے تھے۔ انہوں نے اپنی سیاسی تقدیر لوئر کلاسز کی طویل اور صبر آزما تحریک کے ساتھ جوڑ لی اور بقیہ ساری عمر ثابت قدم رہے۔ وہ بلوچ قومی خود اختیاری کے حق کے ساتھ تھے۔ انہوں نے مارشل لاء ، دائیں بازو اور پھر بھٹو یا عمرانی پاپولزم کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ انہوں نے بلوچستان، پنجاب ،سندھ اور خیبر پختونخوا کے کسانوں، مزدوروں کی تحریکوں کو جوڑنے میں اپنی ساری صلاحیتیں استعمال کیں۔ اپنا ٹائم ، اپنی قوت  اور پیسہ سارے کا رخ اسی طرف کر دیے۔ 

یوسف کا خاندان اصل میں ایرانی بلوچستان کے چابہار کاگورگیژ تھا۔ مستی خان تو ان لوگوں کا خاندانی نام ہے ۔ یہ لوگ انیسویں صدی کے وسط میں روزگار کے لیے کراچی شفٹ ہوئے تھے۔ بات بنی نہیں تو ان لوگوں کا بزرگ برما چلا گیا ۔ وہاں رئیل سٹیٹ کا کام کیا ۔ اس وقت انگریز وہاں ریلوے لائن بچھا رہے تھے  تو انہوں نے پتھر لانے کا کاروبار شروع کیا۔ اس طرح وہ اچھا خاصا پیسہ بنانے میں کامیاب ہوئے۔ وہ سرمایہ داروں میں شمار ہونے لگے اور یوں وہ لوگ واپس کراچی لوٹے۔ 

یوسف 16جولائی 1944کو کراچی کے اسی کاروباری گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپر کلاس کے ایک بہت بڑے تعلیمی ادارے برن ہال ایبٹ آباد سے مڈل تک تعلیم حاصل کی ۔ اس کے بعد کراچی کے مشنری سکولوں میں تعلیم پائی۔ 1968میں کراچی سے گریجوئیشن کی ۔ تعلیم کے بعد اپر مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھنے والے یوسف پاکستان برما شیل میں ایک سنیئر عہدے پہ فائز لوئے جس میں مزید ترقی کے کافی امکانات تھے مگر وہ بھٹو دور میں اسے چھوڑ کر سیاست میں آ گئے تھے ۔ یوسف کی کمٹمنٹ بہت مضبوط تھی۔ رفتار حالات کے مطابق کبھی تیز کبھی سلو، مگر وہ رہے محکوم و مجبور عوام کے ساتھ ہی۔ کتنے جھکڑ چلے ، سیٹو، سنٹو، بنگال کی آزادی ، رنگ برنگے مارشل لاء ، افغان انقلاب اور اس کاردِ انقلاب، مرگِ سوویت یونین، نائن الیون۔۔۔ مگر مستی خان کی سیاسی آنکھوں پر سے مارکس ازم کی عینک نہ ہٹی۔ وہ بہت زیادہ اکیڈمک شخص نہ تھے، انہیں بس موٹی موٹی باتوں کا خوب اچھی طرح علم تھا۔ انہی باتوں کو اپنی سیاست کے پلو میں باندھے وہ پوری زندگی بتا گئے۔ 

یوسف مستی خان جیسے اچھے مقرر کے لیے خود کو پبلک جذبات کے بہائو میں بہنے نہ دینا کتنا مشکل ہوتا ہے ۔ انہوں نے اب وہ راستہ اختیار کیا تھا جہاں عاقل و بالغ زندگی کا ایک لمحہ ضائع کیے بغیر عوام میں شعور پیدا کرنا تھا، اسے منظم بنانا تھا ، اس کے ناز اٹھانے تھے، اسے دائیں بائیں انتہا پسندی کی طرف جانے نہ دینا تھا، جلسہ کرو جلوس کرو، جیل جائو، تشدد سہو، بیوی بچوں کو ان کی قسمت کے حوالے کر کے انہیں غربت، مشقت کی زندگی پہ ڈالو  اور پھر مرجائو۔ سنگت یوسف نے نہ دولت بنائی نہ بادشاہی لی ۔ بس ایک آدرش ، ایک نظریہ، ایک ستھرا ضمیر ، عوامی خدمت کا اعمال نامہ اور پھر موت۔ وہ عام عوام کے ایک فرد کی طرح جئے اور ایک عام بہادر و زیرک و ثابت قدم اچھے آدمی کی حیثیت سے مرے۔ وہ زندگی بھر کانپے لرزے جھجکے بغیر اپنے کاز کے ساتھ وفادار رہے۔ سردار زادگی سے دور تھے، سندھ کے اندر ان کی جاگیریں نہ تھیں۔ انہوں نے ایک طرف اولاد کو پڑھایا اور دوسری طرف اپنی سیاسی ورکر والی ساکھ برقرار رکھی۔ 

ہم دونوں تقریبا تیرہ برس تک اکٹھے سیاست کرتے رہے جس کے بعد میں پیچھے اپنی کہونٹی ہی سے بندھا رہ گیا اور اس توکل بھرے شخص نے 2012میں بے شمار اور گوناگوں پارٹیوں ، گروہوں اور افراد سے ایک اور انضمام میں چھلانگ لگا دی۔ یوسف اس انضمامیت کا عہدیدار بنا اور پھر اس کا مرکزی صدر ہوا۔ انہیں کینسر ہوگیا۔ مگر بجائے اپنی سیاست کی مونچھوں کو نیچے گرانے کے وہ اپنے دل کی باتیں دھڑ لے سے بیان کرنے لگے۔ اب انہیں ملکی آئین، قانون، اگر مگر، تھانہ کچہری ، شوکاز نوٹس ، جواب طلبی کسی چیز کی پرواہ نہ تھی ۔ دل اور ہونٹوں کی ہارمنی حتمی ہو گئی ۔ ضمیر اور اظہار یکساں ہو چکے تھے ۔ شعلہ بیانی بھی تھی اور بلوچستان کی قومی اور طبقاتی مسئلے میں جان بھی تھی۔ اس لیے خوب بولے، ہرپلیٹ فارم پہ بولے اور بالآخر 29 ستمبر2022کو جگر کے اسی کینسر کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہار گئے۔

یوسف جان دوستوں سنگتوں کی ایک بڑی تعداد کے علاوہ تین بیٹوں اور تین بیٹیوں کو سوگوار چھوڑ گئے۔ 78برس میں سے 24 برس طفلی اور جوانی کے نکا لیں تو پورے 50برس انہوں نے سامراج دشمنی، جمہوریت اور آخری کئی سال تو خالص سوشلزم کے لیے تج دیئے ۔ ایسا سوشلزم جس میں صرف محکوم طبقوں ، محکوم قوموں اور محکوم جینڈرز کے حقوق کا تین نکاتی منشور تھا۔ اس نے قدیم آبادیوں کے باشندوں کے حقوق کے لیے ان کا زبردست ساتھ دیا، ان کی قیادت کی اور انہیں منظم کیا۔ وہ اس کی خاطر بحریہ ٹان جیسے ڈائنو ساروں سے ٹکرا گیا۔ یوسف سچ کے ساتھ کھڑے رہے اور ڈٹ کر کھڑے رہے۔ وہ اپنی شعلہ بیانی کے ساتھ یہ کام بھرے بازار میں ، چوک چورا ہے پہ، گوادر کے ماہی گیروں کے جلسے میں، دانشوروں کے اجتماع میں اور پارٹی میٹنگوں میں کرتے رہے ۔ حلق اور خلقت کے ساتھی تھے وہ ۔ یوسف مستی خان ان لوگوں میں سے ایک ہیں جو اپنی زندگی کے آخر میں کہہ سکے ہوں کہ شادم از زندگیِ خویش کہ کارے کر دم ان کی وفات سے عوام ، باالخصوص مزدور کسان ،ماہی گیر، معدنی کارکن اور چرواہوں کے اتحاد کو نقصان ہوا۔ محکوم قوموں بالخصوص بلوچ قوم کی پروگریسو تحریک کو جھٹکا لگا۔ بلند آہنگ میں حق بولنے والا ایک گلا بند ہوگیا۔ کچھ برس زندہ رہتے تو بڑی کامیابی تو نہ دیکھ پاتے لیکن اپنی جدوجہد سے کچھ مزید مطمئن ہوجاتے۔ مظلوموں کے پلڑے میں کچھ مزید مٹھاس ڈال پاتے۔ چند مزید ذہن حقیقت آشنا ہوجاتے ، عمومی اونگھ کی گہرائی کو چند جھٹکے لگتے۔۔۔ اور شاید کچھ اور راہی ہمراہی اختیار کرتے۔ مگر حریص طبقہ ابھی زندہ ہے اور اس پہ اعتبار نہ کرنے والا نچلا طبقہ بھی زندہ ہے لہذا جدوجہد زندہ ہے ، جدوجہد کی شاہراہ زندہ ہے ۔ یوسف جان !  آپ نے ہماری راہ کے اچھے خاصے کانٹے چنے تھے۔ آپ اچہے آدمی تھے۔