اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان کا 8روزہ دورہ سوات

اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان کا 8روزہ دورہ سوات

وزیر اعظم ملک کی تباہ حال معیشت کو دیکھ کر خود مستعفی ہوجائے ، عوامی نیشنل پارٹی اصولوں کے پابند کارکنان کی پارٹی ہے ،ڈسپلن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا
کالاباغ ڈیم اپنے منصوبہ سازوں کے ساتھ ہی دفن ہو چکا ،موجودہ دور میں پختونوں کو اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے،مختلف اجتماعات سے خطاب

سوات ( مراد باچا )عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر ایمل ولی خان نے بطور صوبائی صدر پہلی مرتبہ سوات8روزہ طویل دورہ کیا ۔اس دورے کے دوران انہوں نے سوات کی تمام تحصیلوں اور یونین کونسلوں کی سطح پر ورکروں اور بڑے اجتماعات سے خطاب کیا۔ناراض ورکروں کومنایا ، باچاخان اور ولی خان کے پرانے ساتھیوں و خدائی خدمتگاروں کے پرانے حجروں میں مقامی قائدین اور ورکروں سے ملاقاتیں کیں، انہوں نے سوات کے گیٹ وے بریکوٹ سے لے کر گجرگبرال تک باچاخان اور ولی خان کا پیغام پہنچایا اور پختونوں کو آپس میں اتحاد واتفاق پیداکرنے کی اپیل کرکے باچاخان کی یاد تازہ کی۔

اس 8روزہ دورے کے دوران صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری اور سابق ایم پی اے شیرشاہ خان،ضلعی صدر ایوب خان اشاڑے،جنرل سیکرٹری شاہی دوران خان، مرکزی نائب صدر حسین شاہ یوسفزئی ، سیکرٹری اطلاعات عبدالصبو ر خان، مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری بریگیڈیئرسلیم خان اور دیگر اہم رہنما ساتھ رہے،ایمل ولی خان نے 16ستمبر سے سوات دورے کا آغاز تحصیل بریکوٹ سے کیا جہاں پر انہوں نے کوٹہ ،بریکوٹ، شموزئی ، غالیگے ،ناٹ میرہ میں اجتماعات سے خطاب کیا جبکہ گورتئی میں میڈیا کو بریفنگ دی،اسی طرح انہوں نے مانیار میں اے این پی کے رہنما فقیر خان کے حجرے میں کارنر میٹنگ سے خطاب کیا۔

تحصیل بریکوٹ کے جلسوں سے خطاب کرتے ہو ئے ایمل ولی خان نے کہا کہ وزیر اعظم ملک کی تباہ حال معیشت کو دیکھ کر خود مستعفی ہوجائے ، عمران خان کے دورہ امریکا کے دوران کشمیر پر ڈیل ہوچکی ہے ، مینڈیٹ چوری کرنیوالوں کو پیغام دینا چاہتاہوں کہ منفی ہتھکنڈوں سے سیاسی جماعتوں کو ختم نہیں کیا جاسکتا ، پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف پارٹی قوانین کے مطابق کارروائی ہوگی ، عوامی نیشنل پارٹی اصولوں کیے پابند کارکنان کی پارٹی ہے ، دورے کا مقصد سوات میں تمام ناراض قائدین اور کارکنان کو منانا ہے ، تمام یونین کونسلز کے دورے کرکے کارکنان کو گلے لگا ئوں گا ، ان اجتماعات کے موقع پر تحصیل بریکوٹ صدر فضل اکبر خان اور دیگر ضلعی و مرکزی قائدین بھی موجود تھے ، صوبائی صدر نے دوسرے روز 17ستمبر کو تحصیل بابوزئی کا دورہ کیا اس دوران انہوں نے پنجیگرام، اوڈیگرام ،رحیم آباد،سابق ناظم ریاض خان کی رہائش گاہ پانڑ اور سابق صوبائی اسمبلی کے امیدوار عاصم خان کی رہائش گاہ پر اجتماعات سے خطاب کیا اورملاقاتیں کیں ۔

صوبائی صدر کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کی چھ سالہ مدت میں صوبے کو بے حد نقصان پہنچا ہے ۔صوبے کے حقوق اور وسائل پنجاب پر خرچ ہو رہے ہیں ۔پختونوں کو متحد کرنے کیلئے نکلا ہوں ، صوبے کے حقوق کے حصول اور پختونوں کے محرومیوں کے ازالے کیلئے عوام ہمارا ساتھ دیں ،کشمیریوں پر ہونے والے ظلم و بربریت کی شدید مذمت کرتے ہیں، آل پارٹیز کانفرنس میں اپوزیشن متفقہ طور پر فیصلہ کریں ہم مسائل کا حل جمہوری انداز میں چاہتے ہیں، میں نے پختونوں کے حقوق کے حصول کیلئے صوبہ بھر کے تمام اضلاع اور علاقوں کے دورے شروع کئے ہیں نہ ہی انتخابی مہم ہے اور نہ ہی اُمیدوار ہیں اس لئے کسی لالچ کے بغیر پختونوں کو حقوق کے حصول کیلئے متحد کرنا چاہتا ہوں۔

باچا خان اور ولی خان کا پیغام سوات سمیت تمام پختونوں کے گھر پہنچانا چاہتا ہوں ناراض کارکنان کو ساتھ ملا کرپختونوں کو بیدار کریں گے ۔ہمارے نفاق کیوجہ سے دوسرے فوائد حاصل کر رہے ہیں ان جلسوں میں خاتون رہنما سمیت سینکڑوں افراد نے مختلف پارٹیوں سے مستعفی ہو کر اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ،تیسرا روز18ستمبر تحصیل کبل کیلئے مخصوص تھا ،تحصیل کبل میں ایمل ولی خان نے شیرافضل خان کپتان کی رہائش گاہ برہ بانڈئی،اے این پی کے بانی رہنما عبدالرشید خان ،شہید ایم پی اے شمشیرعلی خان کی تاریخی حجرے ڈھیرئی،خدائی خدمتگارمرحوم سردار حسین باچاکے حجرے ہزارہ،سابق ناظم شاہ سید کی رہائش گاہ ڈاگے،حاجی محمد خان کے رہائش گاہ سرسینئی،خان نواب کے حجرے کھیتاڑ ،بخت بلند خان کے حجرے توتانوبانڈئی،تاج محمد خان آف کالاکلے کی حجرے میں جلسوں،کانرمیٹنگزسے خطاب کیا اور ملاقاتیں کیں۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات سے راہ فرار اختیار کر کے حکومت نے شکست تسلیم کر لی ہے ، پختون تاریخ کے تلخ دور سے گزر رہے ہیں ،آئندہ نسلوں کا مستقبل محفوظ بنانے کیلئے پختونوں کو آپس میں اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنا ہو گا، سوات شہداء کی سرزمین ہے جنہوں نے امن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے امن کا قیام یقینی بنایا ، انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے آج کے حکمران عوامی نمائندے نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار اور کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں ، ان کا کہنا تھاکہ ملک بالخصوص خیبر پختونخوا تباہی کے دہانے پر ہے، مہنگائی اور بے روزگاری نے عام آدمی کو جیتے جی مار دیا ہے، جبکہ ملک سے متوسط طبقے کا خاتمہ ہوتا جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ روپے کی بے قدری نے ملکی معیشت کھوکھلی کر دی ہے لیکن نااہل حکمرانوں نے صرف اپنی تجوریاں بھرنے پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے، غریب کیلئے دو وقت کی روٹی کمانا ناممکن ہوتا جا رہا ہے ، اے این پی نے اٹھارویں ترمیم کے ذریعے اپنے وسائل پر اختیار حاصل کیا ،لیکن موجودہ کٹھ پتلیوں نے وہ تمام وسائل پھر سے پنجاب منتقل کر دیئے، ہمارا صوبہ قدرتی وسائل سے مالامال ہے، حکمرانوں کی عوام دشمنی کے باعث تمام وسائل یہاں سے منتقل کئے جا رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے دور میں دہشت گردی اور سیلاب کا مقابلہ کیا لیکن اس کے باوجود عوام کی خدمت میں کوئی کسر نہ چھوڑی، انہوں نے جلسوں میں عوام کی بھرپور تعداد میں شرکت اور پذیرائی پر انہیں خراج تحسین پیش کیا،چوتھے روز یعنی19ستمبرکو ایمل ولی خان نے تحصیل مٹہ کا دورہ کیا اور انہوں نے لالکو میں ایک بڑے شمولیتی جلسے سے خطاب کے علاوہ مرحوم افضل خان لالا کے حجرے جالوگودر، بیدرہ،باماخیلہ ،برتھانہ میں بھی اجتماعات اور کانرمیٹنگزسے خطاب کیا ،اور شہداء کی قبروں پر پھول چڑھائے،تحصیل میں سن پوڑہ،چپریال،،گوالیرئی میں صوبائی صدر کا زبردست استقبال کیا گیا ،راستوں پر خصوصی دروازے بنائے گئے تھے،ہرطرف سرخ پرچم نظرآرہے تھے،ان دوروں کے موقع پر ایمل ولی خان نے کہا کہ پختون قوم کو اتحاد واتفاق کی ضرورت ہے،اگر ہم متحد رہے تو ہمارے مسائل حل ہوں گے،پنجاب،سندھ،بلوچستان میں ہمار ی پارٹی کے جھنڈے نہیں لہرا ئے جا تے لیکن ہم نے ان لوگوں کے جھنڈ ے یہاں پر لگائے ہیں ، مٹہ سوات کے پہاڑی علاقوں میں پرانی چراگاہوں پرحکومت نے پابندی لگائی ہے اور مقامی لوگوں کی زمینوں پر سیکشن فور لگا یا جارہا ہے جو یہاں کے مقامی افراد کے ساتھ ظلم کی انتہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجود ہ حکومت نے جوانتقامی سیاست شروع کی ہے ہم اس کابرابر بدلہ لیں گے ،اے این پی میں مفاد پرست ٹھیکیداروں کیلئے کوئی جگہ نہیں ،اس دوران ناراض ورکرز سرگرم ہوئے اور مختلف پارٹیوں کے لوگوں نے عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا ،دورے کا پانچواں دن 20 ستمبر تحصیل خوازہ خیلہ اور تحصیل چار باغ کے لئے مختص تھا جس میں انہوں نے عالم گنج،سابق ناظم سجاد شہید کے حجرے الہ آباد ،عدالت خان کے حجرے چارباغ،نواں کلی ،بخت شیر علی کے حجرے خوازہ خیلہ،مرحوم رہنماء درویش خان کے حجرے شین میں اجتماعات سے خطاب کیا،ورکروں سے ملاقاتیں کیں ،پارٹی جھنڈوں کی پرچم کشائی کی اور ور کرو ں پر زور دیا کہ وہ آپس میں ناراضگیاں ختم کرکے پارٹی کا پیغام گھر گھر تک پہنچائیں، دورے کے دو روز 21اور 22 ستمبر تحصیل بحرین کیلئے مختص کئے گئے تھے،21ستمبر کو صوبائی صدر نے مدین میں سابق ایم پی اے سید جعفرشاہ کے جلسے،مانکیال میں ورکرز کنونشن اور کالام میں ملک امیرسیدکے حجرے میں جلسے سے خطاب کیا اور دیرینہ کارکنوں سے ملاقاتیں کیں۔

انہوں نے کہا کہ پختون قوم کیساتھ ظلم اور زیادتی ایک سازش کے طور پر ہو رہی ہے پختونوں کو اپنے وسائل اور حقوق نہیں مل رہے ،سوات اور بونیر میں پھر سے دہشت گردی کی افواہیں چل رہی ہے ،خیبر پختونخوامیں جنگلی اراضیات پر حکومت نے قبضہ کیا ہوا ہے جبکہ یہ قوم کی ملکیت ہے حکومت فی الفور یہ اراضیات قوم کے حوالے کرے ،انہوں نے کہا کہ سوات ایکسپریس وے کو دریائے سوات کے کنارے تعمیر کیا جائے تاکہ غریب پختون عوام کے گھر مسمار نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ جہاں بھی منصوبے بنائے جاتے ہیں پختون قوم پر ظلم کیا جاتا ہے اور یہ ایک منظم سازش کے طور پر ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ میں اپیل کرتاہوں کہ پختون قوم متحد ہو جائے اور اپنے مٹی کے تحفظ اور آنے والے نسل کے تحفظ کے لئے عوامی نیشنل پارٹی کا ساتھ دیں ،22ستمبر کو ایمل ولی خان نے دیگر سرگرمیوں کے علاوہ کالام سے اتروڑ تک جلوس کی قیادت کی اور جلسے سے خطاب کیا اس دوران انہوں نے گجرات میں بے دردی سے قتل ہونے والے مسکین زادہ کے لواحقین سے فاتحہ خوانی کی اور گجر گبرال میں آخری جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایکشن ان ایڈ آف سول پاور آرڈیننس لاپتہ افراد کے معاملے کو تقویت دینے کیلئے نافذ کیا گیا ہے، اے این پی ایسا کوئی قانون بننے نہیں دے گی جس میں عام آدمی کو اٹھا کر غائب کرنے کی پالیسی اختیار کی جانے والی ہو، سلیکٹڈ گورنر خیبر پختونخوا نے خاموشی سے آرڈیننس نافذ کر کے صوبائی اسمبلی پر حملہ کیا ہے ،کشمیر سے متعلق آرٹیکل370کے خاتمے پر واویلا کرنے والوں نے صوبے میں عوام دشمن قانون نافذ کر کے شہریوں کی جانیں داؤ پر لگا دیں ۔

ایمل ولی خان نے کہا کہ ملک بھر خصوصاً خیبر پختونخوا میں لاپتہ افراد کا معاملہ گھمبیر صورتحال سے دوچار رہا اور اب اس بات کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ طاقتور اداروں کو قانونی چھتری فراہم کر کے شہریوں کو غائب کرنے کا لائسنس جاری کر دیا گیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ کالاباغ ڈیم اپنے منصوبہ سازوں کے ساتھ ہی دفن ہو چکا ہے ، انہوں نے کہا کہ سوات کا دورہ انتہائی کامیاب رہا اور چھ روزہ دورے کے دوران ہم نے باچا خان اور ولی خان کے نظریات و سوچ و فکر کی ترجمانی کرنے کی کوشش کی ہے، انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں پختونوں کو اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے،ملک نازک دوراہے پر کھڑا ہے اور ایسی صورتحال میں پختونوں کے مسائل کا حل باہمی اتحاد میں مضمر ہے، ا ے این پی نے ہمیشہ عوام کی خدمت کو اپنا شعار بنائے رکھا اور اس مقصد کیلئے ہم اقتدار کے محتاج نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تبدیلی کے نام پر آنے والے صوبے کا پرانا نظام بھی لے ڈوبے اور نیا نظام بھی نہ دے سکے ، صوبے میں کرپشن مافیا کا راج ہے اور آئے روز میڈیا میں ان کی کرپشن کہانیاں قوم کے سامنے آ رہی ہیں دورے کا ساتوں دن 23ستمبرسیر وتفریح کیلئے مختص تھا جنہوں نے مہوڈنڈ کا دورہ کیا ،رات کیلئے ضلعی صدر ایوب خان کی رہائش گا ہ آئے۔ اگلے دن یعنی 24ستمبر کو ایوب خان کے شہیدبھتیجوں کی قبروں پر پھول نچھا و رکئے اور8روزہ دورے کا اختتام سابق ایم پی اے رحمت علی خان کے تاریخی حجرے ڈھیرئی میں سوات پریس کلب کے صحافیوں کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور سوات کے تین بڑے مسائل کی نشاندہی کی جن میں ایکسپرس وے کی زرعی اراضی پر تعمیر ،قوم کی ملکیتی جنگلات پر حکومتی قبضہ اور مسکین زادہ کا بیدردی سے قتل شامل ہیں انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ کی باتیں کرنے والوں نے ہمیں دیوار کیساتھ لگا دیا ہے ، ڈرامہ باز حکومت روز روز کوئی نیا ڈرامہ رچانے میں مصروف ہے کہا کہ موجودہ حکومت بلدیاتی الیکشن کرانے سے گریزاں ہے کیونکہ وہ سمجھتی ہے کہ اگر بلدیاتی الیکشن ہوا تو اس میں ان کو شکست ہو گی انہوں نے کہا کہ حکومت نے جس بلدیاتی سسٹم کو متعارف کیا ہے ہم وہ نہیں مانتے کیونکہ جس بلدیاتی سسٹم میں ضلعی حکومت نہیں ہو گی وہ کس طرح کامیاب ہو سکتا ہے انہوںنے کہا کہ اس بلدیاتی سسٹم کے خلاف عدالت سے رجوع کریں گے اس کے ساتھ ہم جلد بلدیاتی الیکشن کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد نہیں ہو رہا ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے کھل کر کہا کہ وفاقی حکومت صوبہ خیبرپختونخوا کو بجلی رائلٹی کے پیسے نہیں دے سکتی جس پر صوبائی حکومت نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے ۔

انہوں نے اعلان کیا کہ ہم صوبے کے حقوق کے حصول کیلئے مزاحمتی تحریک چلائیں گے انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں کی پی ٹی آئی حکومت میں یہ واویلا کیا جا رہا تھا کہ وفاق ہمیں بجلی کی رائلٹی نہیں دے رہا اس وقت وفاق میں ن لیگ کی حکومت تھی ،انہوں نے ورکروں کے نام پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اسی جذبے اور جوش کیساتھ پارٹی کا پیغام لوگوں تک پہنچانے کا سلسلہ جاری رکھیں ،پریس کانفرنس کے بعد صوبائی صدر نے ڈھیرئی میں شہید ایم پی اے ڈاکٹر شمشیر علی خان ان کے والد خان بابا کی قبروں پر پھول چڑھائے اور کانجو میں سینئررہنما حاجی حمید خان کے ساتھ ملاقات اور فاتحہ خوانی کی اور سوات سے رخصت ہوگئے ،صوبائی صدر کے دورہ سوات کو اے این پی کے ورکرز انتہائی کامیاب قرار دے رہے ہیں ۔ اس دورے کے دوران پارٹی کارکنان کے درمیان اختلافات کو تقریباً ختم کردیا گیا ، سابق صوبائی وزیرواجدعلی خان اور ضلعی صدر کے درمیان پیدا ہونیوالی غلط فہمی کو بھی دور کردیا گیا جس کے بعد تمام کارکنان نے مشترکہ طور پر پارٹی کی خدمت اور پختونوں کے حقوق کیلئے ایک ساتھ جدوجہد کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ صوبائی صدر سوات کے بعد اس وقت صوابی کے تنظیمی دورہ پر ہے اور سیاسی و سماجی حلقے ان کے اس فیصلے کو سراہتے ہیں کہ خان عبدالولی خان کے بعد ایمل ولی خان ہفتہ دس دن ایک ایک ضلع میں گزار کر پارٹی کو مزید فعال کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں۔