عدم تشدد کا عالمی دن اور اس کے علمبردار – عبدالروف یوسفزئی

عدم تشدد کا عالمی دن اور اس کے علمبردار – عبدالروف یوسفزئی

ہر سال دنیا 2 اکتوبرکو عدم تشدد کے عالمی دن کے طور پر مناتی ہے۔ اس دن عدم تشدد کے بڑے علمبردارموہن داس کرم چند گاندھی/مہاتما گاندھی پیدا ہوئے تھے۔

گاندھی جی نے دنیا کی تحاریک کا دھارا تبدیل کر دیا، اس سے پہلے عدم تشدد کو کمزور اور بزدلی سمجھا جاتا تھا مگر جب انھوں نے عدم تشدد کے فلسفے کی طاقت سے اس وقت کی سپر پاور برطانیہ کو ہندوستان سے نکالنے پر مجبور کیا تو اقوام عالم کو جدوجہد اور مزاحمت کے لئے ایک نیا فلسفہ مل گیا۔

گاندھی جی کی سیاست میں عدم تشدد کے فلسفے کو ہی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل تھی اگرچہ ان کے بعض دوست سبھاش چندر بوس بھی اس وقت کانگرس کے بڑے لیڈروں میں سے ایک تھے لیکن جب انھوں نے بزور بندوق ہندوستان کو آزاد کرنے کا فارمولہ پیش کیا تو گاندھی جی اور سبھاش کے راستے جدا ہو گئے کیونکہ گاندھی جی کو عدم تشدد کی طاقت کا درست اندازہ تھا اور ان کو یہ بھی معلوم تھا کہ برطانیہ کے ساتھ مقامی لوگ جنگ نہیں لڑسکتے۔

ہندوستان کے انتہائی نارتھ ویسٹ بارڈر پران دنوں عبدالغفار خان المعروف باچاخان نے بھی اسی فلسفہ کو اپنی سیاست کا محور بنایا۔

اسی بنا پر ہندوستان میں باچاخان کو سرحدی گاندھی کا نام دیا گیا۔ دنیا بھرمیں مزاحمتی تحاریک جو اسلحہ کے بل بوتے پر لڑی جاتی ہیں وہ تقریباً فیل یا ختم ہوچکی ہیں جن میں حالیہ دور میں فلسطین، سری لنکن علیحدگی پسند تامل ٹائیگرز اور کشمیرکی آزادی کی جنگیں شامل ہیں۔ 9/11کے بعد جب القاعدہ اور طالبان کے خلاف دنیا نے جنگ کا آغاز کر دیا تو مقامی کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد بھی پس منظر میں چلی گئی اور ہندوستان نے فریڈم فائٹرز کے خلاف اپنا کیس بین الاقوامی فورمز پرکامیابی سے لڑا۔

اگرچہ موجودہ ہندوستانی حکومت اور گاندھی جی کی سیکولر اور بشر دوست پالیسیز میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ تحریک آزادی میں کانگریس کی قیادت پر بہت مظالم ڈھائے گئے تھے اور عوام کا تو قصہ خوانی، جلیانوالہ باغ، ٹکر، ہاتھی خیل بنوں سمیت کئی جگہوں پر قتل عام بھی ہوا تھا مگر گاندھی جی نے کبھی بھی تشدد پر لوگوں کو نہیں اکسایا جس کی وجہ سے ان کی موت کو سات دہائیاں گزرنے کے بعد بھی ان کے اور ان کی تعلیمات کے لاکھوں پیروکار ہیں۔

دوسری جانب موجودہ پاکستان اور اس وقت کے متحدہ ہندوستان میں باچاخان کی خدائی خدمتگار تحریک نے بغیر بندوق یا طاقت کے ایک ایسی قوت ابھر کر سامنے آئی جسے پاکستان سے پہلے اور بعد ایک مزاحمی علامت کے طور پر جانا گیا۔ باچاخان اور انکے ساتھیوں نے پرتشدد سوچ کو یکسر ختم کرنے کی کوشش میں بے شمار صعوبتیں برداشت کیں، جیلیں کاٹی، یہاں تک کہ قید و بند میں کئی افراد تشدد سے زندگی کی بازی ہار گئے لیکن باچاخان کی اسی عدم تشد کے فلسفے کی تربیت کی وجہ سے وہ جھکے نہیں، وہ بکے نہیں۔

آج عدم تشدد کے عالمی دن کے موقع پر اگر ان دو افراد کا ذکر نہ ہو تو زیادتی ہوگی۔ عدم تشدد کا یہ فلسفہ آج بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے اور جنگ و جدل سے بھرے اس ماحول کو آج ایک بار پھر عدم تشدد کے فلسفے ہی کے ذریعے امن و آشتی کا نمونہ بنایا جاسکتا ہے