عورت کی ترقی، قوم کی ترقی

عورت کی ترقی، قوم کی ترقی

عدنان حسین شالیزئی

عورت آزادی مارچ کی حمایت کی پاداش میں مجھ سے بار بار سوشل میڈیا کے مختلف ذرائع سے اور عمومی زندگی میں بھی کہا جاتا ہے کہ میں پہلے عورت آزادی مارچ میں اپنے گھر کی خواتین کو لے جاؤں۔ پھر دوسروں کو عورت آزادی مارچ کی حمایت یا مخالفت نہ کرنے کا کہوں۔ اول تو ایک وسیع موضوع کو کسی کی ذات تک محدود کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

دوئم یہ کہ میں عورت آزادی مارچ کے تمام مطالبات کوendorse کرتا ہوں اور میری خواہش ہوگی کہ میرے گھر کی خواتین بھی اپنے حق کیلئے آواز اٹھائیں اور گھروں سے باہر نکلیں۔ سوئم یہ کہ صدیوں سے پشتون معاشرے کا حصہ رہنے والی خواتین ایک دو سال کے عرصے میں قائل نہیں ہو سکتیں، انہیں وقت دینا چاہیے اور ان سے مکالمہ کرنا چاہیے۔ عورتوں کے حقوق کی تبلیغ کرنی چاہیے۔ تب ہی پشتون معاشرے کی عورت اپنے حقوق کیلئے صدا بلند کر سکے گی۔ یہ تب ہی ممکن ہوگا جب ہم عورت کے حقوق سے خود کو باخبر رکھیں گے، عورت کے مسائل کو ایک عورت کی نظر سے دیکھیں گے اور ترقی یافتہ معاشروں کا تجزیہ اور مشاہدہ کریں گے کہ کس طرح وہاں کی عورت نے ترقی، آبادی اور خوشحالی میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔

ایک اور بات یہ کہ جب مرد حضرات جلیلہ حیدر، حمیدہ نور، حمیدہ ہزارہ، ثنا اعجاز، لائبہ یوسفزئی، عارفہ صدیق، نغمہ خان، وڑانگہ لونی، نرگس خٹک، آئینہ درخانئی اور اس طرح کی دیگر عورتوں کے ساتھ تصاویر بناتے ہیں، قومی مسائل اور وسائل پر مذکورہ خواتین کے موقف کی تائید کرتے ہیں لیکن یہی خواتین جب ہمارے گھر کی خواتین کو باہر نکالنے، انہیں زندگی کے دیگر شعبوں میں جگہ دینے یا وراثت میں حصہ دینے کی بات کرتی ہیں تو مرد حضرات تذبذب کا شکار ہو کر روایتی منافقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے چپ ہو جاتے ہیں۔

اگر اسلامی طور سے دیکھا جائے تو امہات المومنین میں سے حضرت عائشہ خود سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتی تھیں۔ وہ باقاعدہ مردوں کے ہجوم سے مخاطب ہوتی تھیں۔ حضرت عائشہ نے باقاعدہ فوج کی قیادت بھی کی ہے۔ اسی طرح اپنے وقت کی بزنس وومن، کاروبار سے منسلک حضرت خدیجہ نے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو سفینہ کے ذریعے شادی کی پیشکش کی جسے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرمایا۔ پچھلے دنوں منظور پشتون نے بھی اپنی بیگم کو قومی سیاست کا حصہ بنانے کا اعلان کیا۔ مذکورہ اعلان کے بعد کئیوں کو سانپ سونگھ گیا ہے۔ نام نہاد ترقی پسند حضرات سوشل میڈیا پر بڑی بڑھکیں مارتے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن ان کا اپنے گھر کی خواتین کے ساتھ وہی متعصبانہ، پرتشدد اور مردانہ برتری پر مبنی رویہ ہوتا ہے۔ ایک اور منافقت سے بھرپور بات کی نشاندہی کرتا چلوں کہ کئی ترقی پسند اور سیاست سے وابستہ افراد نے کھلم کھلا پشتون قوم کیلئے عورت آزادی مارچ کے انعقاد کو غیر ضروری عمل اور وقت کا ضیاع قرار دیا ہے اور عورت آزادی مارچ کو دشمن کی طرف سے ایک ”حربہ” گردانا ہے۔ بقول ان کے مذکورہ مارچ پشتون قوم کو Detrack کرنے کیلئے استعمال ہو رہا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پشتون قوم کی عورت مرد کی طرح غلام نہیں ہے یا پشتون عورت دوہری غلامی کی چکی میں نہیں پس رہی؟ کیا پشتون عورت کو ریپ کا، کم عمری اور زبردستی کی شادی کا، ماں باپ اور بھائی و شوہر کی طرف سے مار پیٹ کا خطرہ درپیش نہیں ہے؟ کیا پشتون عورت سکول، کالج، بازار اور کام کی جگہ پر محفوظ ہے؟ کیا پشتون عورت گھر میں رہ کر دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک کی عورت کا مقابلہ کر سکتی ہے؟ اسلام میں عورت کو کام کرنے کی اجازت ہے۔ کیا ہم اپنی عورت کو کاروبار کرنے کی اجازت دیتے ہیں؟ اسلام نے ہر عورت پر تعلیم کا حصول فرض کیا ہے۔ ہم میں سے کتنے لوگ عورت کو تعلیم کی سہولت فراہم کرتے ہیں؟ الغرض، پشتون عورت پشتون قومی سوال کا حصہ ہے۔

ہمیں ماننا ہوگا کہ پشتون قوم میں عورت کو ایک گائے کی طرح گھر میں باندھ کر رکھا جاتا ہے جو کہ غیر انسانی اور غیر اسلامی فعل ہے۔ پشتون سماج میں عورت کو مرضی کی شادی کا اور وراثت میں حصہ تک نہیں دیا جاتا ہے ۔ بیوہ عورت کی مرضی کے بغیر اس کی شادی اس کے دیور سے کرا دی جاتی ہے۔ پشتون سماج میں عورت کی تضحیک کا سلسلہ فی الفور بند ہونا چاہئے۔ پشتون عورت کو سیاسی اور سماجی سرگرمیوں کا حصہ بنانا چاہیے ۔ یہی ترقی و خوشحالی کا راستہ ہے جس کیلئے پشتون وطن کے ہر فرد کو چاہے وہ مرد ہو یا عورت، اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔