افغانستان میں جنگ بندی، اک خواب جو تشنہ تعبیر ہے

افغانستان میں جنگ بندی، اک خواب جو تشنہ تعبیر ہے

افغانستان میں گزشتہ چار دہائیوں سے زائد عرصہ سے جاری جنگ کے حوالے سے تمام تر تحفظات اور خدشات کے باوجود ایک اور نہایت ہی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اس حوالے سے روس کی میزبانی میں منعقدہ کانفرنس میں روس، چین اور پاکستان کے ساتھ ساتھ امریکا نے بھی افغانستان کے متحارب فریقوں سے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ یہ پیشرفت اس حوالے سے بھی اہم ہے کہ واشنگٹن نے پہلی مرتبہ روس میں منعقدہ اس اجلاس میں علاقائی امن مذاکرات میں شرکت کے لیے اپنا ایک سینئر عہدیدار بھیجا۔ ماسکو امن کانفرنس کا مقصد دوحہ میں افغان حکومت اور طالبان کے مابین تعطل کے شکار مذاکرات میں جان ڈالنا ہے۔ اس تعطل کی بنیادی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ افغان حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ طالبان نے تشدد کو روکنے کے لیے عدم سنجیدگی پر مبنی رویہ اختیار کیا۔ کانفرنس کے اختتام پر جاری کردہ مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اس موڑ پر ہمارے چاروں ممالک نے فریقین سے بات چیت کرنے اور ایک امن معاہدے پر دستخط کرنے کا مطالبہ کیا جو افغانستان میں چار دہائیوں سے جاری جنگ کا خاتمہ کرے گا، متحارب فریقین سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ وہ تشدد کی روک تھام کریں اور طالبان موسم بہار اور موسم گرما میں پر تشدد کارروائیاں نہ کرنے کا اعلان کریں۔ محولہ بالا ممالک کی جانب سے امن سمجھوتے کے بعد افغانستان کے ساتھ معاشی و سیاسی امداد یا تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ واشنگٹن کی درخواست پر ترکی کی قیادت میں اس طرح کی ایک اور کانفرنس کے انعقاد کی تیاریاں بھی آخری مراحل میں ہیں۔ ماسکو کانفرنس میں اس اہم پیش رفت کے بعد اپریل کے اوائل میں متوقع اس کانفرنس سے اب ساری امیدیں وابستہ ہیں تاہم افغان طالبان کی جانب سے دوحہ امن معاہدے کی پاسداری بالخصوص معاہدے میں طے شدہ شیڈول کے مطابق بیرونی افواج کے انخلاء پر اصرار اور اس ضمن میں غیرلچکدار رویے کے اظہار کی وجہ سے ماضی کی طرح حالیہ کوششیں بھی بے نتیجہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ امریکی انتخابات کے بعد نئی انتظامیہ کی جانب سے دوحہ معاہدے پر نظرثانی کے اعلان پر افغان طالبان کا نہایت سخت موقف سامنے آیا تھا جس میں ایک بڑی جنگ کی دھمکی دی گئی تھی۔ بدقسمتی سے افغانستان میں یہ جنگ روزاول کی طرح آج بھی جاری و ساری ہے اور آئے روز نا صرف افغان سیکورٹی فورسز اور حکومتی تنصیبات کو بم دھماکوں اور خودکش حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے بلکہ مساجد، تعلیمی درسگاہوں اور اس طرح کے دیگر عوامی مقامات پر بھی دہشت گردانہ کارروائیوں کے ذریعے معصوم و بیگناہ افغان شہریوں کا بھی خون بہایا جا رہا ہے۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ سب یکطرفہ طور پر ہو رہا ہے بلکہ افغان طالبان یا دیگر عسکریت پسند کیخلاف کابل انتظامیہ بھی وقتاً فوقتاً ااپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئی ہے۔ دونوں صورتوں میں مگر خون افغان عوام کا ہی بہہ رہا ہے اور نقصان بھی بنیادی طور پر افغانستان کو ہی اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں، اور ہمارے اس موقف کی تائید امریکہ سمیت تمام عالمی قوتیں اور اس مسئلے سے جڑے تمام فریق بھی کر رہے ہیں کہ جنگ حل کی بجائے مزید مسائل کا باعث بنتی ہے اور اب کی بار اگر افغانستان میں جنگ کی آگ پھر بھڑکتی ہے تو یہ نا صرف افغانستان اور اس خطے کو بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ اس لئے افغان حکومت اور اس مسئلے کے دیگر سٹیک ہولڈروں کی طرح افغان طالبان کو بھی اپنے موقف میں لچک دکھانا ہو گی بصورت دیگر افغانستان میں امن کا قیام ایک خواب ہی رہے گا۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب تمام فریق، بشمول افغان طالبان، جنگ بندی کے خواہاں اور اس پر متفق بھی ہیں تو پھر کون ہے جو اس جنگ کو جاری رکھنا چاہتا ہے؟ اس سوال پر خصوصاً افغان حکومت، طالبان اور افغان عوام کو غور کرنا چاہئے۔