ایک کلمہ دوسرا سرخ جھنڈا چھوڑ نہیں سکتا،شہید فضل حمید داوڑ کے آخری کلمات

ایک کلمہ دوسرا سرخ جھنڈا چھوڑ نہیں سکتا،شہید فضل حمید داوڑ کے آخری کلمات

پشاور(خصوصی رپورٹ) شہید فضل حمید داوڑ کو اکتوبر 2010میں اغواء کیا گیا تھا اور ٹھیک دو ماہ بعد 5دسمبر کو اُن کی گولیوں سے چھلنی لاش ملی تھی۔

شہید فضل حمید داوڑ کے ساتھ کئی اور ساتھی بھی اغواء کیے گئے تھے،وہ صحیح سلامت اپنے اپنے گھروں کو لوٹ آئیں لیکن فضل حمید داوڑ واپس گھر نہ لوٹ سکیں،صرف فضل حمید داوڑ کو ہی کیوں شہید کیا گیا تھا؟ فضل حمید داوڑ نے نام نہاد طالبان کے بہت ہی آسان شرائط سے انکار کیا تھا۔

اے این پی شمالی وزیرستان کے سابق صدر فضل حمید داوڑ کی باچاخان مرکز میں یادگار تصویر
فضل حمید داوڑ کی جوانی کی تصویر

طالبان نے شہید فضل حمید داوڑ کو اتنے آسان شرائط رکھے تھے کہ زندگی کے بدلے کیا لوگ اُن شرائط کو ایک نوکری کے عوض بھی مان لیتے ہیں۔اتنا آسان شرط کہ اب تو لوگ فیس بک کے دو لائن پڑھ کر بھی اُن شرائط کو قبول کرلیتے ہیں۔

بہت ہی آسان شرط تھا لیکن شہید فضل حمید داوڑ نے زندگی کے بدلے موت کو گلے لگالیا مگر طالبان کے اُس شرط کو ماننے سے انکار کیا۔ہوسکتا ہے بہت سے لوگ شہید فضل حمید داوڑ کو ناعاقبت اندیش بھی کہیں کہ کیوں اتنی آسان شرط کو قبول نہیں کیا۔

خیر طالبان کے شرط پر آتے ہیں،آخر فضل حمید داوڑ سے طالبان مطالبہ کیا کررہے تھے؟شرط یہ تھا کہ "عوامی نیشنل پارٹی چھوڑو اور صحیح سلامت واپس اپنے بچوں کے پاس چلے جائوں” شہید فضل حمید داوڑ کا جواب تھا کہ ایک کلمہ نہیں چھوڑ سکتا اور دوسرا اے این پی کا سرخ جھنڈا۔

آج کوئی شہید فضل حمید داوڑ کی اے این پی کو جانتا ہے؟شہید فضل حمید داوڑ نے اپنی جوانی کی زندگی جیلوں میں گزاری تھی۔فوجی آمروں کے خلاف عملی جدوجہد کی نتیجے میں شہید فضل حمید داوڑ کابل تک پہنچ گئے تھے اور اُن کو جلا وطن کیا گیا تھا۔

طالبان نے اس جواب کے بدلے اے این پی شمالی وزیرستان کے بوڑھے صدر کو تشدد کے ساتھ گولیوں سے چھلنی چھلنی کردیا۔آج کوئی اے این پی کے شہید فضل حمید داوڑ کو جانتا ہے؟

بڑھاپے میں بھی اپنی سرزمین اور اپنے وسائل پر اختیار کا نعرہ لگاتے لگاتے اُن دہشت گردوں کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہار گئے جن کو ختم کرنے کیلئے بقول امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ریاست پاکستان کو اربوں ڈالر دیے گئے ہیں