امن کی خاطر جان دینے والے شہید بشیر بلور کو بچھڑے سات برس بیت گئے

امن کی خاطر جان دینے والے شہید بشیر بلور کو بچھڑے سات برس بیت گئے

تحریر:ساجد ٹکر

دنیا کے وجود میں آنے کے بعد کرہ ارض پر ان گنت لوگ گزرے ہیں۔ کہیں مضبوط بادشاہتیں قائم ہوئیں تو کہیں سلطنتیں۔ کسی نے طاقت کے نشے میں کھوپڑیوں کے مینار بنائے تو کسی نے حکومت کے زعم میں زندگیاں تاراج کیں۔ لیکن تاریخ میں اگر اچھے ناموں کے ساتھ زندہ ہیں تو وہ جنہوں نے انسانیت کی قدر کی اور اسی کی خاطر جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ ایسے لوگ اگرچہ چند ہی ہیں لیکن اپنی قربانیوں، اعلیٰ سوچ اور اپنے انسانی اقدار کی وجہ سے زندہ و تابندہ ہیں۔ ایسے لوگ اپنے لیے نہیں بلکہ اپنی قوموں اور لوگوں کے جیتے ہیں اور وقت آنے پر پیچھے نہیں ہٹتے بلکہ سینہ تان کر سب سے پہلے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ تاریخ کی ان بے مثال ہستیوں میں سے ایک عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما شہید بشیر بلور بھی شامل ہیں

رہبر تحریک خان عبدالولی خان کیساتھ شہید بشیر احمد بلور اور غلام احمد بلور کا گروپ فوٹو

پشاور کی مردم خیز زمین سے تعلق رکھنے والے شہید بشیر بلور 1943 ء میں پشاور کے ایک کاروباری، سیاسی اور سماجی گھرانے میں حاجی بلور دین کے گھر پیدا ہوئے ۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم پھولوں کے شہر پشاور سے ہی حاصل کی۔ بی اے کی ڈگری تاریخی ایڈورڈز کالج اور یونیورسٹی آف پشاور سے ایل ایل بی کی ڈگری لی تھی۔60 کے عشرے کے آخری سالوں میں وکالت سے بھی وابستہ رہے اور تا دم مرگ ہائی کورٹ بار کے ممبر رہے۔ شہید بشیر بلور 1970 ء میں عملی طور پر سیاست میں آئے اور زندگی کی آخری سانس تک باچاخان کے افکار اور ولی خان کے اصولوں کے پیروکار رہتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی سے وابستہ رہے۔ انہوں نے پہلی بار عام انتخابات میں صوبائی اسمبلی کے اس وقت کے حلقہ ون سے 1988 ء میں حصہ لیا تھا لیکن کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔

شہید بشیراحمد بلورکا خاندان کے ہمراہ فائل فوٹو

لیکن اپنے لوگوں کے لئے دل میں اپنے جذبے اور پیار کی بدولت اس کے بعد جب بھی الیکشن لڑا تو کامیابی نے ان کے قدم چومے اور یہی وجہ ہے کہ وہ 1990ء ، 1993ء ، 1997ئ، 2002ء اور 2008 ء کے انتخابات میں مسلسل پانچ مرتبہ کامیاب ہوئے اور کوئی بھی ان کا مقابلہ نہ کر سکا۔ ان کی یہ کامیابی پشاور کے لوگوں کا ان پر غیر متزلزل اعتماد تھا جو کہ ان کی شہادت کے بعد اور بھی بڑھا ہے۔ سیاست کے میدان میں اپنی بصیرت اور سنجیدگی کی بنیاد پر شہید بشیر بلور دو مرتبہ اے این پی کے صوبائی صدر اور انتظامی تجربے کی بنیاد پر جب بھی اے این پی کی حکومت آئی ہے تو وزیر اور اپنی شہادت کے وقت بھی سنیئر وزیر ہی تھے

شہید بشیر احمد بلور میاں افتخار حسین اور سید عاقل شاہ کیساتھ، فائل فوٹو

2008 ء میں جب اے این پی کو عوام نے ووٹ کی طاقت پر اسمبلیوں میں پہنچایا اور ان کی حکومت بنی تو صرف حکومت کا چیلنج درپیش نہیں تھا بلکہ ملک میں دہشتگردی کا عفریت پورے جوبن میں تھا۔ خیبر پختونخوا میں تو یہ صورتحال تھی کہ سوات میں ریاستی رٹ کو چیلنج کیا گیا تھا۔ ایسے میں اے این پی حکومت نے قیام امن کی خاطر کمر کس لی۔ اے این پی کے رہنمائوں، کارکنوں اور وزیروں پر حملے ہوتے رہے۔ ان کو دھمکیاں ملتی رہیں، لیکن اے این پی کھڑی رہی۔ مرکزی صدر اسفندیار ولی خان پر خودکش دھماکہ ہوا تو غازی میاں افتخار حسین کے اکلوتے بیٹے کو بھی شہید کر دیا گیا۔ اسی طرح اے این پی کے سینکڑوں کارکنوں کا نشانہ بنایا گیا۔ خود بشیر بلور پر ان کی وزارت میں تین حملے ہوئے جن میں وہ بچنے میں کامیاب ہوگئے لیکن 22 دسمبر 2012 ء کی شام ان کی زندگی کی آخری شام ثابت ہوئی اور انہوں نے اپنی قوم اور امن کی خاطر اپنے نو ساتھیوں سمیت قصہ خوانی میں ڈھکی کے علاقے میں موت کو گلے سے لگا لیا۔ اگر چہ ان کو خطرات تھے لیکن وہ چونکہ خدائی خدمتگار باچا خان کے افکار کے والی اور سیاست میں اصول کے دیوتا خان عبدالولی خان کے فلسفے کے پیروکار تھے اس لئے انہوں نے کبھی بھی اپنی جان کی پرواہ نہیں کی اور خطرات کے سامنے ڈٹے رہے اور بالآخر اپنی پارٹی، اپنے فلسفے، نظریئے، وطن اور قوم کیلئے جان کی بازی لگائی اور کچھ اس ادا سے جیت گئے کہ دشمن بھی ان کو داد دئیے بغیر نہ رہ سکے۔ آج ان کو گزرے سات سال ہو چکے ہیں لیکن وہ ہر دل میں زندہ ہیں، ان کی بہادری، انسانیت اور اصول کے قصے زبان زد عام ہیں

شہید بشیراحمد بلور باچاخان کی 18ویں برسی پر منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کررہے ہیں

اپنی بے پناہ بہادری پر اگر وہ عوام کے دلوں میں زندہ ہیں تو حکومت پاکستان نے بھی دہشتگردی سے جوانمردی کے ساتھ مقابلہ کرنے پر ان کو ہلال شجاعت سے نوازا ہے

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

شہید بشیر بلور تو اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے راہی عدم ہوگئے لیکن اپنے پیچھے بہادری اور قربانی کی ایک بے مثال تاریخ اور ماضی چھوڑ گئے جس پر دنیا بھر میں امن پسند رہتی دنیا تک فخر کرتے رہیں گے۔ شہید بشیر بلور کی سیاسی وراثت ان کے جوانسال بیٹے ہارون بلور کو ملی جو احسن طریقے سے اس کو آگے لے کر جانے میں لگے تھے لیکن شاید ان کو بھی اپنے شہید بابا کے پاس جانے کی جلدی تھی۔ بشیر بلور کی شہادت کے صرف ساڑھے پانچ سال بعد ان کے بیٹے اور صوبائی سیٹ کے امیدوار ہارون بلور کو سال 2018 ء جولائی کے مہینے میں رات کو گیارہ بجے پشاور میں یکہ توت کے علاقے میں عام انتخابات سے صرف دو ہفتے پہلے خودکش دھماکے میں شہید کر دیا گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ ایک شہید دوسرے شہید کو بلا رہا تھا۔ ہارون بلور شہید بھی اپنے شہید بابا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی مٹی اور قوم کی خاطر شہید ہونے والوں میں شامل ہوگئے

شہید بشیر احمد بلور کے شہادت کے موقع پر پہنے کپڑے

اے این پی اپنے ہر شہید کو سر کا تاج سمجھتی ہے اور اس لئے ان کے دن پورے جذبے کے ساتھ مناتی ہے۔ بشیر بلور کی شہادت کی مناسبت سے ہر سال 22 دسمبر کو باچا خان مرکز میں اس سال بھی ایک بڑے پروگرام کا انعقاد کیا گیا ہے جس میں صوبے بھر سے اے این پی کے کارکن اور مرکزی اور صوبائی رہنما شرکت کریں گے اور امن کے شہید کو گلہائے عقیدت پیش کریں گے

شہید بشیر بلور وہ تھے جن کی بہادری اور قربانی کو تاریخ بھی جھک کر سلام کرتی ہے۔ جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا ہے کہ تاریخ میں چند ہی لوگ ایسے ہیں جو نہ صرف تاریخ کے اوراق میں بلکہ خلق خدا کے دلوں میں بھی جگہ پیدا کرکے امر ہوچکے ہیں اور یہ صرف باتوں سے نہیں بلکہ ان لوگوں نے عملی طور پر اپنی اقوال اور دعوئوں کا بھی مظاہرہ کیا ہے۔ کون ظالم ہوگا جو یہ سن کر روئے نا کہ بشیر بلور شہید نے اپنی بیوی سے کہا تھا کہ حالات خراب ہیں اور اگر وہ نشانہ بنے اور زندگی کی جنگ ہار گئے اور اگر نشان ان کی پیٹھ پرہوں توان کا چہرہ مت دیکھنا اور جب ان کی شہادت کے بعد ان کے جسم پر نشانات دیکھے گئے تو سارے سینے پر تھے۔ مطلب ایک شہید نے اپنا وعدہ پورا کیا تھا۔

پشتو زبان کے معروف شاعر ساحر آفریدی کے دو شعر ہیں

کلہ محبت او کلہ کرکہ وہ
ستا د دیدنونو مزہ زکہ وی
وخت کہ چرتہ راغے درنہ جار بہ شم
ہسی د یاداشت خبرہ سپکہ وی

ایسا لگتا ہے کہ یہ اشعار خاص بشیر بلور کی سوچ اور فکر کی غمازی کے لئے ہی لکھے گئے تھے۔ واقعی انہوں نے جب وقت آیا تو اپنے لوگوں پر جان قربان کر دی۔ ان کی قربانی ہی کا نتیجہ ہے کہ آج وہ ہر دل میں زندہ ہیں اور اے این پی کو اپنے اس عظیم شہید پر فخر ہے

بشیر احمد بلور اب ہم میں نہیں رہے لیکن ان کا جذبہ قربانی، جذبہ خدمت اورانکی اصولی سیاست اب بھی پاکستانی عوام اور بالخصوص پشتونوں کیلئے مشعل راہ ہیں۔ انکے وہ جذباتی و حقیقت پسندانہ الفاظ کہ’’تمہارے خودکش جیکٹس ختم ہوجائیں گے لیکن ہمارے سینے ختم نہیں ہوں گے‘‘ اور واقعاً ایسا ہی ہوا کیونکہ انہوں نے اپنی جان کی قربانی دے دی لیکن دہشت گردی کی عفریت کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ یہی نہیں بلکہ اپنے جواں بیٹے کو بھی ایسی تربیت دی جنہوں نے سیاست کے میدان میں اپنے شہید باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جان کا نذرانہ پیش کیا لیکن کبھی اپنے اصولوں اور سیاسی نظریات سے پیچھے نہیں ہٹے۔ بشیر بلور صرف پشاور نہیں پختون قوم کا فخر ہیں اور رہیں گے، یہی وجہ ہے کہ جب ان کے فرزند ہارون بلور کو شہید کیا گیا اور انکی زوجہ محترمہ ثمرہارون بلور سیاسی میدان میں نکلی تو انہیں بھی پشاوریوں نے سر کا تاج بنادیا اور صوبے کی تاریخ میں دوسری بار کسی خاتون رکن ا سمبلی کو جنرل سیٹ پر کامیاب کرایا گیا۔ یہ دونوں اعزاز عوامی نیشنل پارٹی ہی کے نام ہیں جنہوں نے پہلے بیگم نسیم ولی خان اور پھر ثمرہارون بلور کو جنرل نشست پر اپنا امیدوار نامزد کیا

شہید بشیر احمد بلور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کیساتھ، فائل فوٹو

رب کریم سے یہی دعا ہے کہ شہید بشیربلور کے مشن کو پورا کرنے کیلئے ہر پشتون کو وہ ہمت و حوصلہ دے تاکہ ان کا ادھورا مشن کامیابی سے ہمکنار ہو اور اس د ھرتی پر ایک حقیقی امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے شہید امن بشیر بلور کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان جیسے رہنمائوں ہی کی وجہ سے اس دھرتی پر امن قائم ہے کیونکہ جب وہ حیات تھے تو انہوں نے دہشت گردوں کو للکارتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے خودکش جیکٹس ختم ہو جائیں گے لیکن ہمارے سینے ختم نہیں ہوں گے اور انہوں نے اس بات کو عملی طور پر سچ ثابت کر دکھایا۔ ان کی قربانی ہی کا ثمر ہے کہ آج خیبرپختونخوا کے عوام پرامن زندگی گزار رہے ہیں۔ خصوصاً پشاور شہر اور پشاوریوں کے لئے ان کی خدمات لائق تحسین ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر وزیر کی حیثیت سے انہوں نے ہمیشہ پارلیمانی اصولوں اور آئین و جمہوریت کی مضبوطی میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے وقت وہ سینئر وزیر تھے اور اس سے پہلے بھی وہ مسلسل صوبائی اسمبلی میں عوامی نیشنل پارٹی کی نمائندگی کرتے رہے۔ صوبائی خود مختاری اور صوبائی حقوق کے لئے جدوجہد تاریخ میں سنہرے الفاظ سے لکھی جائے گی۔ ایسے لیڈر صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں جو عوام کی بات کر کے عوام ہی کے درمیان رہتے ہوئے مسائل کا ادراک اور ان کے حل کے لئے عملی کوششیں کرتے ہیں۔بلاشبہ ان کا خلاء پُر نہیں کیا جا سکے گا

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان شہید بشیر بلور جنازے کے بعد میت پر پھول پیش کررہے ہیں

اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹر ی و ڈپٹی اپوزیشن لیڈر سردار حسین بابک نے شہید امن بشیر بلور کی برسی کے حوالے سے کہا ہے کہ بشیر بلور ایک نڈر اور بہادر لیڈر ، معاملہ فہم انسان تھے۔ بشیر بلور اپنے حلقہ پشاور اور تمام صوبے کے مسائل پر کمانڈر رکھنے والے لیڈر تھے۔ شہیدبشیر بلور ایک منجھے ہوئے سیاستدان اور مقبول ترین عوامی نمائندے تھے۔ اسمبلی میں بڑی تیاری کے ساتھ آتے تھے اور مسائل کو حل کرنے کیلئے ایک جامع سوچ رکھتے تھے۔ ا ن کی شخصیت متاثر کن تھی ۔ پارٹی کی پالیسیوں اور فیصلوں کے حوالے سے بڑے واضح تھے۔ پارٹی کو فروغ دینے اور سخت سے سخت ترین حالات کا مقابلہ کرنے والے لیڈر تھے۔