”اپنی آزادی“ کا دفاع اور بنیادی سوال

”اپنی آزادی“ کا دفاع اور بنیادی سوال

ہر سال کی طرح امسال بھی یوم پاکستان پورے جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا اگرچہ اس بار خراب موسم ضرور آڑے رہا جس کی وجہ سے مسلح افواج کی پریڈ کو دو دن کے لئے ملتوی کرنا پڑا۔ جمعرات کو اسلام آباد میں یومِ پاکستان پریڈ میں حسب سابق پاک افواج کے ساتھ ساتھ دوست ممالک کے فوجی دستوں نے بھی حصہ لیا اور اور نظم و نسق کے ساتھ ساتھ مختلف فوجی مہارتوں کا مظاہرہ کیا گیا۔ اس موقع پر حسب معمول و حسب روایت ملک و قوم کے دفاع اور اس سلسلے میں ہر طرح کی قربانی دینے کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا۔ تقریب سے اپنے خطاب میں صدر مملکت نے عظیم الشان پریڈ کے انعقاد پر افواج پاکستان کو قوم کی جانب سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم دفاعی صلاحیت میں خود مختاری حاصل کر چکے ہیں، جنگ ہو یا اندرونی خلفشار، دہشت گردی ہو یا قدرتی آفت، عوام اور افواج نے وطن کی حفاظت میں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے آپریشن ردالفساد میں دہشت گردی کے نیٹ ورک کو نیست و نابود کیا، ضرب عضب میں پاک فوج کی دہشت گردی کیخلاف کامیابی کی دنیا معترف ہے۔ کورونا وباء کا ذکر کرتے ہوئے صدر مملکت نے دعوی کیا کہ کم وسائل کے باوجود کورونا وباء کا سامنا کیا (اور) ہم بہت جلد اس وباء پر قابو پالیں گے تاہم احتیاط لازم ہے۔ ویسے تو صدر عارف علوی کی باقی پوری تقریر کو ایک روایتی بیان ہی قرار دیا جا سکتا ہے کہ اپنے دفاع اور کسی بھی قسم کی ممکنہ جارحیت کے بھرپور جواب دینے کی اپنی اہلیت و صلاحیت سے دشمن کو خبردار کرنے، امن کی خواہش کو پاکستان کی کمزوری ناسمجھنے، اور سب سے بڑھ کر کشمیر سے متعلق ہمارا دیرینہ موقف اور چین کے حوالے سے ہمارے قومی جذبات و احساسات کا تذکرہ گویا مستقل بنیادوں پر ہوتا رہتا ہے جس پر ہم کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے گریز ہی کریں گے تاہم دوران تقریر انہوں نے جنوبی ایشیاء کی قیادت پر تعصب اور انتہاپسندی کی سیاست چھوڑنے کے لئے جو زور دیا ہے اس کا ہم نا صرف خیرمقدم کرتے ہیں بلکہ یہ بھی ضرور کہیں گے کہ سربراہ ریاست کو یہ نصیحت موجودہ حکومت کے سربراہ کے بھی گوش گزار کر لینی چاہیے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ جس طرح کے تعصب کا، خصوصاً اپوزیشن قیادت کے حوالے سے، موجودہ حکمران مظاہرہ کرتے ہیں ماضی میں اس کی مثال دینے سے قاصر ہے۔ اسی طرح افواج پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں اور مہارت بلاشبہ پوری قوم کے لئے باعث افتخار ہے تاہم اس سلسلے میں بعض حلقوں کی جانب سے جو سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جو آراء پیش کی جا رہی ہیں اور جس قسم کی تجاویز دی جا رہی ہیں انہیں پاک فوج یا ریاست کی دشمنی پر محمول کرنے کی بجائے ان آوازوں کو سنجیدہ لینے کی ضرورت ہے۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ فوج کی بیادی ذمہ داری ملکی سرحدات اور ملکی سالمیت کا تحفظ ہی ہے لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اندرون ملک امن عامہ کی صورتحال ہو یا دیگر آفات وغیرہ، اس طرح کے ایمرجنسی حالات میں ہمیشہ فوج کی ضرورت محسوس کرنا یا اسے طلب کرنا پولیس و اس طرح کے دیگر سویلین اداروں کے لئے باعث شرم ہونا چاہیے۔ بہ الفاظ دیگر اگر پولیس ہو یا محکمہ ریلیف یا پھر ایمرجنسی سروس وغیرہ جیسے محکمہ جات اور اداروں کی اہلیت و صلاحیت پر سوال اٹھاتا ہے، ان کی استعداد و صلاحیت میں بہتری پر زور دیتا ہے تو اس میں خرابی کیا ہے؟