اصلاحات لانے کی خواہش مگر عملی اقدامات؟

اصلاحات لانے کی خواہش مگر عملی اقدامات؟

میڈیا رپورٹس کے مطابق نیشنل پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے بجلی صارفین پر91ارب36کروڑ روپے کا بوجھ ڈالنے کی تیاری شروع کردی۔نیپرا نے کمپنیوں کی درخواست پرسماعت مکمل کرلی جس کا فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔اس پر مستزاد یہ کہ مہنگائی اور بے روزگاری میں کمی کی بجائے آئے روز اضافہ ہوتا جارہاہے،جبکہ ملازمین،مزدور اور دیہاڑی دار کی تنخواہ اور اجرت میں کوئی اضافہ نہیں کیاجارہا۔اشیاء خوردو نوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔دواؤں کی قیمتوں کا تو کوئی پوچھنے والا ہی نہیں۔ مگر ہمارے حکمران حسب سابق اور حسب روایت عوام کو یہی ایک نوید سنارہے ہیں کہ ملک کو ترقی کے زینے پرڈال دیا گیا۔بے روزگاری اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جارہے ہیں۔عوام کو ریلیف دینے کے لیے حکومت دورس اقدامات کررہی ہے۔مگر متاسفانہ ان تین سالہ دور حکمرانی میں کوئی بھی ایک اقدام یا منصوبہ ایسا نظر نہیں آیا جس سے ملک کے عوام کو کچھ نہ کچھ ریلیف مل چکی ہو۔انتہائی معذرت کیساتھ چونکہ ملک کے وزیراعظم جناب عمران خان قومی کرکٹ ٹیم کے مانے ہوئے کھلاڑی اور کپتان رہ چکے ہیں جس کے نفسیاتی اثرات اب بھی ان کے ذہن پر چھائے ہوئے رہتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی حکومتی ٹیم میں بھی صرف کھلاڑیوں (چہروں) کو تبدیل کرتے رہتے ہیں مگر مقابل ٹیم کے فاسٹ اور خطرناک باولرز یعنی مہنگائی اور بے روزگاری کے ہاتھوں اکثراوقات کیچ آوٹ،ایل بی ڈبلیو،رن آوٹ،سٹم، یا کلین بورڈ سے بچنے کے لیے کوئی جامع اور ٹھوس حکمت عملی اپنانے میں تاحال بری طرح ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔لہٰذا ملک کے معاشی و معاشرتی نظام میں بہتری لانے اور گڈ گورننس کے لئے اپنی ٹیم کی فیلڈنگ پوزیشن مسلسل بدلتے رہنے سے بات نہیں بنے گی۔جیسا کہ وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی جگہ حماد اظہر کو تعینات کیا گیا ہے جن کے پاس فی الحال صنعت و پیداوار کی وزارت کا اضافی چارج بھی رہے گا۔ وزیراطلاعات و نشریات شبلی فراز کے مطابق حفیظ شیخ کو مہنگائی پر قابو پانے میں ناکامی کی وجہ سے ہٹایا گیا ہے لیکن کچھ اور وجوہات بھی ہیں جو ان کی سبکدوشی کا سبب بنیں۔ ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے منتخب رکن نہیں تھے جبکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وزیر بننے کے لئے ان کا منتخب ہونا ضروری تھا۔ انہوں نے سینیٹ کا الیکشن لڑا مگر ہار گئے۔ پھر معیشت کے محاذ پر ان کی کارکردگی سے عمران خان مطمئن نہیں تھے اور وفاقی کابینہ کے سینئر ارکان کو بھی ان کے بارے میں تحفظات تھے۔ بلاشبہ وہ ایک تجربہ کار سردوگرم چنیدہ ماہر اقتصادیات ہیں جو پیپلزپارٹی کے دور میں بھی اس منصب پر فائز رہے مگر ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کی روک تھام نہ کرسکے جس نے عوام خصوصاً غریب اور متوسط طبقے کو بے حال کررکھا ہے۔ یہ مسئلہ حل کرنے کے لئے حماد اظہر کی سربراہی میں جو معاشی ٹیم بنے گی وہ عمران خان کے وژن کو لے کر آگے چلے گی اور(بقول وزیراعظم) غریب عوام کو ریلیف فراہم کرے گی۔ اس وقت وزیراعظم کے 15معاونین خصوصی اور 5مشیر بنیادی طور پر ٹیکنوکریٹس ہیں۔ وزیراعظم نے کابینہ میں مزید تبدیلیوں کے لئے بھی اپنے سینئر رفقا سے مشاورت مکمل کرلی ہے اور توقع ہے کہ توانائی، آبی وسائل، اطلاعات اور فوڈ سیکورٹی کے شعبوں میں بھی ردوبدل کیا جائے گا تاکہ انہیں مزید موثر بنایا جاسکے۔آج کابینہ کا جو اجلاس متوقع ہے امکان ہے کہ اس میں وزراء کی نئی ٹیم سامنے آئے گی جس میں تحریک انصاف کی اتحادی جماعتوں ایم کیو ایم پاکستان اور بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور کورونا وائرس اس وقت ملک کے سلگتے ہوئے مسائل ہیں اور معیشت کی سمت درست ہونے کے دعوؤں کے باوجود اس کی حالت زار کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جو حکومت اپنی نصف سے زیادہ مدت میں کچھ نہ کرسکی وہ باقی ماندہ دوسال میں کیا کرے گی؟ لگتا ہے اب تک جو ہوا وہی ہوتا رہے گا اور عوام کو مطمئن کرنے کے لئے چہرے تبدیل کئے جاتے رہیں گے مگر عملی طور پر کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ تحقیقی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق پاکستان اقتصادی ترقی میں بنگلہ دیش جیسے ملکوں سے بھی پیچھے رہ گیا ہے اور حکومت کی ساکھ داو پر لگی ہوئی ہے جسے بہتر بنانے کے لئے اگلے دو سال میں غیر معمولی اقدامات کرنا ہوں گے۔ وہ جس تبدیلی کا ایجنڈا لے کر برسراقتدارآئی تھی وہ ہنوز تشنہ تکمیل ہے۔ اصلاحات لانے کی خواہش ضرور ہوگی مگر عملی اقدامات دیکھنے میں نہیں آتے۔لیکن سوال یہ بھی ہے کہ اربوں ڈالر کے قرضوں میں جکڑی ہوئی معیشت اور آئی ایم ایف کا دباو ایسا کرنے دے گا؟