اسلام آباد میں ’’عبدالغفارخان عقیدہ مجاہدہ ‘‘ کی تقریب رونمائی

اسلام آباد میں ’’عبدالغفارخان عقیدہ مجاہدہ ‘‘ کی تقریب رونمائی

اسلام آباد(عبداللہ ملک) پشتو ادبی سوسائٹی اور پشتون جرنلسٹس ایسوسی ایشن(پی جے اے) کے زیراہتمام نامور پشتو ادیب اور پشتون ادبی سوسائٹی کے صدر محمود احمد کے ترجمہ شدہ کتاب ’’عبدالغفارخان عقیدہ مجاہدہ‘‘ کی تقریب رونمائی بدھ کے روز نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں منعقد ہوئی جس میں نامور سیاستدان افراسیاب خٹک،م ر شفق، اسراردطورو، ڈاکٹرسرور،پروفیسر ڈاکٹر گلزارجلال، ماہنامہ پختون کے چیف ایڈیٹر حیات روغانی،پشتو ادبی سوسائٹی اسلام آباد کے اراکین،پی جے اے کے صدر و کابینہ اراکین سمیت کثیرتعداد میں شعراء ، ادباء اور صحافیوں نے شرکت کی۔

تقریب سے سینئر صحافی اور اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کے سابق صدر مبارک زیب خان خطاب کررہے ہیں

اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹرگلزار نے کہا کہ کتاب کا ترجمہ انتہائی سلیس اور سادہ زبان میں کی گئی ہے جس میں ظاہری اور دل کی باتیں شامل کی گئی ہیں۔ ڈاکٹرسرور نے کہا کہ خان عبدالغفار خان پر لکھا گیا کتاب نصاب میں شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، یہ ملک باچاخان کی محنت سے آزاد ہوا لیکن ان کا ذکر ہمارے نصاب میں نہیں ملے گیا جو ایک افسوسناک امر ہے۔ اگر خدائی خدمتگار تحریک نہ ہوتی تو آج ہمیں یہ شناخت نہ ملی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ افسوسناک بات یہ بھی ہے کہ آزادی کے ایک سال بعد سامراجی نظام قائم کیا گیا اور بابڑہ جیسا واقعہ سامنے آیا ، سال 2019میں بھی کچھ نہیں بدلا کیونکہ رواں سال مئی میں خڑکمر جیساواقعہ ہمارے سامنے ہے۔مادری زبان کو ہٹانا قوم کی بربادی ہے اور یہاں کوشش کی جارہی ہے کہ قوموں سے انکی مادری زبانیں ہٹائی جائیں۔

تقریب سے نامور ادیب اور صدرمحفل اسرار د طورو خطاب کررہے ہیں

تقریب کے مہمان خصوصی ، سابق سینیٹر اور نامور سیاستدان افراسیاب خٹک نے کہا کہ پاکستان میں تین سے چار کروڑ پختون زندگی بسر کررہے ہیں، ہمارے نامور شخصیات میں خوشحال خٹک، باچاخان اور خان شہید شامل ہیں۔ جنوبی ایشیاء تک پختونوں کی تاریخ پھیل گئی ہے ۔ باچاخان نے ہمیں آزادی کا راستہ دکھایا۔ انہوں نے کہا کہ باچاخان قوم شناس اور زمانہ شناس انسان تھے جنہوں نے اس وقت کہا تھا کہ ایک قوم کی شناخت دیکھنی ہے تو اس قوم کے خواتین کے ساتھ سلوک دیکھو۔پشتو زبان کو ریاستی حیثیت کبھی حاصل نہیں رہی سوائے سوات کی لیکن اس زبان میں اتنی طاقت ہے کہ ابھی تک اپنی شناخت دنیا بھر میں قائم رکھی ہے۔

ماہنامہ پختون کے چیف ایڈیٹر حیات روغانی نے محموداحمد کو مبارکباد دیتے ہوئے انکا شکریہ ادا کیا کہ دن رات محنت سے اس ضخیم کتاب کا ترجمہ کرکے پشتون عوام کے سامنے رکھا۔

تقریب سے پختون جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر طاہرخان خطاب کررہے ہیں

پشتون جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر طاہرخان نے بھی کتاب کے مترجم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ کتاب کا رشتہ ہی وہی رشتہ ہے جس کی مضبوطی قوموں کی ترقی کی علامت ہے اور امید ظاہر کی کہ اسلام آباد میں بسنے والے پشتون کتابوں کی اشاعت کے ساتھ ساتھ دیگر سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے جس میں پی جے اے بھی ان کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔

واضح رہے کہ "عبدالغفار خان عقیدہ مجاھدہ” ڈی جی ٹنڈولکر کے انگریزی کتاب کا پشتو ترجمہ ہے