بچوں پر جنسی تشدد‘ قومی اسمبلی میں سخت سزا کیلئے تجاویززیر غور

بچوں پر جنسی تشدد‘ قومی اسمبلی میں سخت سزا کیلئے تجاویززیر غور

خصوصی رپورٹ:رحمان بونیری

پاکستان میں اس وقت بچوں پر جنسی تشدد کے مجرم کیلئے موت کی سزا متعین ہے مگر قومی اسمبلی اس حوالے سے مزید سخت قانون متعارف کرنے کا سوچ رہی ہے ۔مجوزہ نئے قانون کے مطابق مجرم کو سو افراد کے سامنے تختہ دار پر لٹکایا جائے گا ۔پالیسی میکرز کا کہنا ہے کہ اس قانون کے بعد بچوں پر جنسی تشدد کی لہر رک جائے گی۔
واضح رہے کہ پاکستان دنیا بھر میں بچوں کے لئے خطرناک ترین ملک قرار دیا گیا ہے ۔بچوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیم ساحل کے مطابق سال 2018 ء میں 3832 بچوں پر جنسی کیسز رپورٹ ہوئے تھے جن میں لڑکیوں کی عمریں ایک سال سے اٹھارہ اور لڑکوں کی عمریں چھ سال سے پندرہ تک ریکارڈ کی گئی ہیں۔ ان کیسز میں پنجاب اول جبکہ خیبر پختونخوا تیسرے نمبر پر ہے ۔ پاکستان میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے کام کرنے والے ارشد محمود کا کہنا ہے کہ سخت سے سخت قانون بھی جرائم کو نہیں روک سکتا ۔انھوں نے کہا کہ بچوں پر جنسی تشدد کو ختم کرنے کے لئے والدین،اساتذہ اوربچوں کو تربیت کی اشد ضرورت ہے ۔اگر سخت سزاں سے جرم کو روکا جاسکتا تو اس ضمن میں ہمارے پاس لاہور کے جاوید اقبال کی مثال موجود ہے جس کو تاریخی سزا سنائی گئی تھی


واضح رہے کہ جاوید نے صرف چھ ماہ میں سو بچوں کو ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا تھاجن کی عمریں 16 سال سے زیادہ نہیں تھیں۔ عدالت نے جاوید اقبال کو سو دفعہ سزائے موت کی سزا سنائی تھی ۔ ارشد محمود نے پولیس رپورٹ آٹے میں نمک کے برابر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے معاشرے میں لوگ ’’خاندانی عزت‘‘ کی وجہ سے کھل کر بات نہیں کرتے اور زیادہ تر’’مٹی پا‘‘ والے فارمولے پر عمل کرتے ہیں مگر اس کے باوجود بھی پاکستان میں دس کیسز رپورٹ ہوتے ہیں۔
عمران ٹکر خیبر پختونخوا میں بچوں کے حقوق کے لئے کام کرتے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ کم رپورٹ کرنے کی اصل وجہ پولیس اور اس سسٹم میں جلدی انصاف نہ ملنا ہے ۔ غیر سرکاری ادارے میں کام کرنے والے سید عثمانی نے بچوں پر جنسی تشدد کیسز کو سامنے نہ لانے کی وجہ کی طرف نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اکثر اوقات مجرم خاندان کے افراد متاثرہ کو مالی فائدہ وغیرہ پہنچاتے ہیں جس کی وجہ سے معاملہ رفع دفع کیا جاتا ہے اور مجرم سزا سے بچ جاتا ہے اور یہ سب کچھ دیت کے معاملے کی طرح بنا دیا جاتا ہے ۔ بچوں پر حملے کرنے والے اکثر اس تاک میں بیٹھے ہوتے ہیں اور جب ان کو بچہ تنہائی میں ملتا ہے تو حملہ کرنے میں دیر نہیں کرتے۔
غیرسرکاری ادارے حوا لور کی سربراہ خورشید بانو کا کہنا ہے کہ بچوں پر حملے کا آغاز اکثر اوقات اپنے ہی گھر سے ہوتا ہے اور اس کے بعد مدرسہ اور سکول میں اس کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ارشد کا کہنا ہے کہ چائلڈ لیبر ان حملہ آوروں کا آسان ہدف ہوتا ہے

پاکستان میں چونکہ جنسی تعلیم کے حوالے سے بات کرنا ثقافت اور مذہب کے خلاف سمجھا جاتا ہے اس لئے اس ممنوع موضوع کے لئے کوئی خاص دائرہ کار ابھی تک مختص نہیں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے کم عمر بچے اپنے بچاؤکی تراکیب سے بے خبر ہیں ۔
ماہرین کا کہنا ہے اگر سیکس ایجوکیشن کو فروغ مل سکے تو عین ممکن ہے کہ بچوں پر جنسی تشدد کے واقعات میں کمی ضرور واقع ہوجائے ۔

چائلڈ پروٹیکشن اور ویلفیئر آرگنائزیشن کے اعجاز خان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے انتہائی کم سالانہ بجٹ ملتا ہے مگر کم وسائل کے باوجود بھی ادارے نے ’’نور قلار شئی‘‘کے نام سے ایک مہم کا بھی آغاز کیا ہے تاکہ والدین کو جنسی حملوں کے حوالے سے آگاہی مل سکے ۔ اس حوالے سے تعلیمی اداروں میں بچوں کے لئے سیمینارز کا بھی انعقاد کیا جائے گا۔ پاکستانی میڈیا میں متاثرہ خاندان اوربچے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیاجاتا ہے جس کی وجہ سے لوگ سامنے آنے سے کتراتے ہیں ۔