بجلی کو ترستے صارفین پر بوجھ میں مزید اضافہ کیوں؟

بجلی کو ترستے صارفین پر بوجھ میں مزید اضافہ کیوں؟

اس میں اب کوئی شبہ باقی نہیں رہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت عوام کی مشکلات اور ان کی محرومیوں میں اضافے کا باعث ہی بنی ہے، بجلی کی قیمتوں میں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے 24 گھنٹوں کے اندر اندر دو مرتبہ اضافہ اس کی تازہ ترین مثال ہے، حالانکہ بجلی کے نرخ میں اس سے قبل بھی بارہا اضافہ کیا گیا ہے، اور جس کے بعد غریب عوام کی ایک واضح اکثریت کے لئے جو ناقابل برداشت ہوگئی ہے۔ بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اکثر صارفین کی قوت برداشت سے باہر ہوگئی ہیں، یہ سوال اپنی جگہ لیکن اصل مسئلہ بجلی کی پیداوار، اس کی ترسیل، فراہمی یا دستیابی کا ہے جس میں موجودہ حکومت کے دور میں تاحال کسی قسم کا اضافہ ہوا نا ہی کسی قسم کی کوئی بہتری سامنے آئی ہے۔ ماضی میں موسم سرما کے دوران بجلی کی لوڈشیڈنگ میں قرار واقعی کمی آ جاتی تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب موسم گرما تو دور کی بات سردیوں میں بجلی بسا اوقات غائب ہی رہتی ہے۔ لائن لاسز، بجلی کی چوری، اصراف، کُنڈا کلچر، بوسیدہ تاریں یا نظام اور اووربلنگ وغیرہ جیسے مسائل بھی تاحال حل نا ہو سکے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی شدت یا سنگینی میں بھی اضافہ ہی دیکھنے میں آیا ہے۔ بلاشبہ ملک میں توانائی کے بحران میں ماضی کی حکومتوں کی غفلت، لاپرواہی یا کوتاہیوں کے ساتھ ساتھ خود عوام کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے تاہم اس حوالے سے وزارت پانی و بجلی یا واپڈا کے اپنے ملازمین کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری جانب اس امر یا حقیقت سے انکار بھی ممکن نہیں کہ دور جدید می بجلی یا توانائی کے بغیر ترقی محض دیوانے کا خواب یا ایک سراب ہی ہو سکتی ہے، لیکن توانائی کے اس بحران یا سادہ لفظوں میں بجلی کی عدم دستیابی کے باعث سب سے زیادہ چھوٹے کاروبار خصوصاً دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے درزی یا اس طرح کے چھوٹے کاروبار کرنے والے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام، مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل نے غریب عوام کا بلامبالغہ جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ لہٰذا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈھائی سال حکومت کرنے اور بقول وزیر اعظم امور مملکت کی سمجھ آ جانے اور اس کے بعد بہرصورت ڈیلیور کرنے کا عزم کہاں چلا گیا، حکومت کی کارکردگی آج بھی نظر کیوں نہیں آ رہی، اور آخر میں لیکن یکساں طور پر اہم سوال یہ ہے کہ حکومت غریب عوام کو ریلیف کب دے گی؟ صارفین کے کاندھوں پر پڑے پہلے سے ناقابل برداشت میں مزید اضافے کو ہی آخر مسئلے کا حل کیوں سمجھا جا رہا ہے؟