بروقت تشخیص نہ ہونے سے ایچ آئی وی ایڈز کی شکل اختیار کرلیتی ہے

بروقت تشخیص نہ ہونے سے ایچ آئی وی ایڈز کی شکل اختیار کرلیتی ہے

خصوصی رپورٹ: حمدنواز

اقبال (فرضی نام) پیشے کے لحاظ سے ڈانسر ہے ۔ اسے گزشتہ دنوں بواسیرکا مسئلہ درپیش ہوا تو علاج کی غرض سے ڈی ایچ کیو بٹ خیلہ گیا۔ ڈاکٹرز نے مختلف ٹیسٹس کرنے کو کہا جس کے نتیجے میں رزلٹ ایچ آئی وی پازیٹو آیا۔

اقبال نے مزید علاج نہ کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ اس کا چلنا پھرنا مردوں کی طرح نہیں ، اسی وجہ سے لوگ پہلے بھی اس کا مذاق اڑاتے تھے جب ایڈز کے بارے میں پتہ چلے گا تو کیا ہوگا۔

اقبال کے مطابق دو دن بعد لیب اٹنڈنٹ میرے گھر آیا اور ایڈز کنٹرول پروگرام پشاور کا پتہ دیا ۔اب وہاں سے علاج جاری ہے لیکن اللہ کا کرم ہے کہ میرے بیوی اور دو بچوں کے ٹیسٹ صاف آئے ہیں۔بیماری کیسے لگی کے جواب پر اقبال کا کہنا تھا کہ چھاتی کو بڑھانے کیلئے انجکشن لگواتا تھا ۔ ہوسکتا ہے ان انجکشنز سے ہوا ہو۔ میرے باقی دوست ڈر کی وجہ سے ٹیسٹ نہیں کرتے۔

ضلع ملاکنڈ کے سرکاری ہسپتال میں شوکت علی(فرضی نام)کا کہنا تھا کہ دو اصلی پیکنگ میں جعلی سٹرپ لایا گیاجس پر ایچ آ ئی وی پازیٹیو خون چیک کرنے پر نیگیٹودکھایا۔میں نے 1400 سٹرپ پر خراب لکھا اور واپس کیا۔ دو دن بعد پتہ چلا کہ وہ دوسرے لیب میں استعمال ہو رہا ہے۔آپ اندازہ لگائیے کہ 14 سو سٹرپس جس میں صلاحیت نہیں کہ وہ ایچ آئی وی معلوم کرے وہ استعمال کی گئی۔لیب میں موجود دوسرے اٹنڈنٹ فرمان(فرضی نام)کا کہنا تھا کہ دو سال پہلے ایک ڈیلیوری کیس میں ایک جوان نے خون دیاجس کا رزلٹ نیگٹیو تھا۔ ہمیں کہا کہ ہسپتال پر لعنت بھیجتا ہوں۔ میں نے پچھلے دنوں ایل آر ایچ سے علاج شروع کیا اور یہاں پھر رزلٹ نیگٹیو آیاتو میں نے خون واپس لے لیا اگر خدا نخواسطہ یہ خون لگ جاتا تو ماں اور بچہ دونوں کو ایچ آئی وی منتقل ہوجاتا۔

ڈاکٹر مدثر شہزاد (ڈپٹی ڈایکٹر ایڈز کنٹرول پرگرام کے پی) کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وائرس صرف چار طریقوں سے دوسرے انسان کو منتقل ہوتاہے جس میں میل،فیمل فلیوڈ،بریسٹ فیڈنگ اور خون شامل ہے۔ یہ بالکل غلط ہے کہ ہاتھ ملانے اور گلے ملنے سے ایچ آئی وی وائرس پھیلتا ہے۔ اگر کوئی ایچ آئی وی مریض کے ساتھ ایک گلاس میں پانی اور ایک پلیٹ میں کھانا بھی کھائے تو یہ وائرس منتقل نہیں ہوتا۔ ایچ آئی وی انفیکشن کا بروقت علاج نہ ہونے پر بیماری ایڈز کی شکل اختیار کر لتی ہے۔

اس وقت صوبہ میں آٹھ مراکز پر مفت اودیات اور مشاورت کی سہولیات موجود ہیں جن میں ایل آر ایچ پشاور،حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور ،مردان میڈیکل کمپلیکس،ایوب میڈیکل کمپلیکس ایبٹ آباد،ڈی ایچ کیو کوہاٹ،خلیفہ گل نواز ہسپتال بنوں،ڈی ایچ کیو ڈی آئی خان اورڈی ایچ کیو بٹ خیلہ شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اینٹی کریٹڈ بائیو لاجیکل بیہیوئیر سروے رپورٹ کے مطابق35 فیصد لوگوں کو ایچ آئی وی وائرس استعمال شدہ سرنج سے ہوا۔دوسرے نمبر پر خواجہ سرا 7.6 ،میل سیکس ورکر 5.2 ،فیمیل سیکس ورکر 2.2 ہیں۔

ڈاکٹر مدثر شہزاد کے مطابق اس حوالے سے قانون سازی کی جارہی ہے جس کے بعد نصاب میں ایڈز کے بارے میں شامل کیا جائے گا۔ یہ حقیقت ہے زیادہ تر ایڈز کے مریض باہر سے آئے ہوئے لوگ ہیں لیکن ائیرپورٹ پر ہر کسی کا ٹیسٹ نہیں کیا جاسکتا۔ ڈاکٹر کے مطابق 2015 ء سے ابھی تک ضلع ملاکنڈ کے 62 کیسز ایڈز رجسٹرڈ ہیں جبکہ پورے صوبے میں یہ تعداد 5432 ہے۔

سروے کے مطابق اس وقت تقریبا 12000 لوگوں میں ایچ آئی وی وائرس موجود ہے۔ معلومات تک رسائی ایکٹ کے ذریعے حاصل کردہ معلومات کے مطابق پچھلے ایک سال میں ایل آر ایچ پشاور میں ضلع ملاکنڈ سے 11 کیسز رجسٹرڈ ہوئے۔ معلومات کے مطابق سال 2018 ء میں 23 اور سال 2017 ء میں 29 مریض موت کے منہ میں چلے گئے۔

افتخار فاروقی (کتاب مصنف : خلاف فطرت) ایڈز کے حوالے سے کہتے ہیں کہ حدیث مبارک ہے کہ جب معاشرے میں زنا عام ہوگا تو اللہ تعالی ایسی بیماریاں پیدا کرے گا جس کانام بھی پہلی امتوں نے سنا نہیں ہوگا۔ قرآن میں بھی ایک آیت ہے کہ زنا کے قریب مت جا،یہ ایک پلید عمل ہے جو آپ کو بھی پلید کردے گا۔

یہ عذاب کسی کی غلطی کی وجہ سے دوسرے بندے کو لگ سکتا ہے۔ زنا قرض ہے اور جو کوئی کریگا وہ قرض ادا کریگا۔ اس طرح یہ سلسلہ بڑھتا جائے گا۔ قوم لوط کو اللہ نے ایک دن میں اس پلیدعمل کی وجہ سے تباہ کیا۔ کوئی بھی اس بات کی نفی نہیں کرسکتا کہ ہمارے میں زنا یا لواطت نہیں ہے۔ ایڈز کی روک تھام سیمیناروں اور کمرے میں بیٹھ کر نہیں ہو سکتی۔ پہلے اقرار کرنا ہوگا کہ اس قبیح عمل کی روک تھام کیلئے معاشرے پر کام کرنا ہوگا۔ اسلامی تعلیمات عام کرنی ہونگی۔

ملاکنڈ لیویز کے ریکارڈ کے مطابق سال 2001ء سے 2018 ء تک زنا اور لواطت کے 287 ایف آئی آر رجسٹرڈ کی گئیں ۔