ضلع ملاکنڈ میں ہزاروں نوجوان ہر سال خون عطیہ کرتے ہیں

ضلع ملاکنڈ میں ہزاروں نوجوان ہر سال خون عطیہ کرتے ہیں

خصوصی رپورٹ: حمد نواز

ڈی ایچ کیو بٹ خیلہ چلڈرن وارڈ کے سامنے برآمدے میں لیٹا ہوا آٹھ سالہ نعیم تھیلیسیمیا جیسے موذی مرض میں مبتلا ہے اور اسے ایک ڈرپ کے ذریعے خون دیا جارہا ہے۔ اس کے والد سلیم بھی اس کے ساتھ بیٹھے ہیں جن کے مطابق ہر ماہ نعیم کو خون کی ضرورت پڑتی ہے اور اللہ کا شکر ہے کہ کبھی بلڈبینک والے مفت دے دیتے ہیں تو کبھی راستے ہی میں کوئی اللہ کا بندہ مل جاتا ہے۔ دو دفعہ لوگ خون دے دیتے ہیں جبکہ ایک بار انہیں خود دینا پڑتا ہے۔ جب تک خون ملتا رہے گا انکا بیٹا زندہ رہے گا، اب تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ انہیں خون نہ ملنے کی پریشانی پیش آئی ہو۔

ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کے لیب اسسٹنٹ ارشدمشوانی کہتے ہیں کہ جب کوئی خون کی درخواست لے کر آتا ہے توہ وہ حتی الوسع کوشش کرتے ہیں کہ فراہمی یقینی بنائی جائے۔

یہاں زیادہ تر تھیلیسیمیا کے مریض اور لیبر روم سے مریضوں کیلئے خون کی درخواستیں آتی ہیں۔ کبھی کبھار ایسا ہوجاتا ہے کہ تین بیگز لینے کے بعد دو استعمال ہوجاتے ہیں جبکہ ایک رہ جاتا ہے جو بلڈبینک میں جمع کیا جاتا ہے اور ہنگامی صورتحال میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ارشد مشوانی کے مطابق ڈی ایچ کیو بٹ خیلہ میں رواں سال تقریباً 4 ہزار600 بلڈ بیگز اکٹھے کیے گئے ہیں اور اتنے ہی بیگز لوگوں نے مفت عطیہ کیے جو اوسطاً روزانہ 14بیگز بنتے ہیں۔ ان کے مطابق سال 2018ء میں 4739 لوگوں نے خون عطیہ کیا تھا جو روزانہ کے حساب سے 13بیگز اوسطاً بنتے ہیں۔

بٹ خیلہ سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن اویس الرحمان نے آغاز فاؤنڈیشن کے نام سے واٹس اپ گروپ بھی بنایا ہے جہاں خون عطیہ کرنیوالے افراد موجود ہیں۔

اویس کے مطابق اگر کسی کو خون کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ واٹس ایپ گروپ میں پیغام چھوڑجاتے ہیں اور عطیہ کرنیوالا حاضر ہوجاتا ہے۔

اس سے پہلے آٹھ دوستوں نے اسی طرز میں ٹیلیفون نمبرز پر مشتمل ایک فہرست بنائی تھی جو بلڈبینک میں لگایا گیا تھا، اسی طرح اگر کسی کو خون کی ضرورت پڑ جاتی تو وہ اسی فہرست کے کسی بھی فرد کو ٹیلیفون کے ذریعے آگاہ کرتے تھے اور انہیں خون کی فراہمی کیلئے ہر ممکن کوشش کی جاتی تھی۔

اویس کا کہنا ہے کہ ’’او نیگیٹیو‘‘ خون عطیہ کرنیوالوں کی تعداد یہاں صرف پانچ ہے جبگہ دیگر گروپس سینکڑوں میں موجود ہیں۔

ان کے مطابق ضلع ملاکنڈ میں ہر تین یا چار مہینے بعد خون عطیہ کرنیوالے نوجوانوں کی تعداد سینکڑوں میں نہیں بلکہ ہزاروں میں ہے۔ نوجوان نسل کیلئے خون عطیہ کرنا عام سی بات بن گئی ہے جو ایک قابل فخر عمل ہے۔

ڈی ایچ کیو ہسپتال بٹ خیلہ کے بلڈ بینک انچارج ڈاکٹر محمد علی کہتے ہیں یہاں خون ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جو ’’متبادل‘‘ خون دیتے ہیں۔

ضلع ملاکنڈ میں آج بھی نوجوان بڑی تعداد میں خون عطیہ کرتے ہیں لیکن یہاں پر مسئلہ یہ ہے کہ ہسپتال میں جدید مشینری موجود نہیں، نئی عمارت میں منتقلی کے بعد لیب میں جدید آلات نصب کیے جائیں گے۔

ڈاکٹر محمد علی کہتے ہیں کہ انکے پاس خون کے بیگز بڑی مقدار میں موجود ہوتے ہیں لیکن جگہ اور جدید مشینری کی کمی کی وجہ سے وہ فائدہ نہیں اٹھا سکتے جو بڑے ہسپتال اٹھاتے ہیں لیکن انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئی عمارت کے ساتھ ان کی مشکلات میں بڑی حد تک کمی آجائیگی اور عوام کو باآسانی خون کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے گی۔