”دہشتگردی کا شکار علاقہ مزید بحرانوں کا متحمل نہیں ہو سکتا“

”دہشتگردی کا شکار علاقہ مزید بحرانوں کا متحمل نہیں ہو سکتا“

یوں تو اس وقت ملکِ عزیز میں جاری معاشی، سیاسی، انتظامی غرض طرح طرح کے بحرانوں پر مبنی مجموعی صورتحال تک اطمینان بخش نہیں بلکہ نہایت تشویشناک ہے اور ملک آج صحیح معنوں میں جس نازک دور سے گزر رہا ہے اس کی نظیر شاید ماضی پیش کرنے سے قاصر رہے، آج ملک کو اندرونی و بیرونی دونوں محاذوں پر جن سنگین چیلنجز کا سامنا ہے وہ بھی فقیدالمثال ہیں، ان کی سنگینی میں آئے روز اضافہ ہی ہو رہا ہے اور اصلاح احوالے کے کوئی آثار بھی دور دور تک نہیں نظر آ رہے، تاہم خیبر پختونخوا اور حال ہی میں (دو ڈھائی سال قبل) پچیسویں آئینی ترمیم کی منظوری کے نتیجے میں صوبے کا حصہ بنائے گئے نئے یا ضم شدہ اضلاع میں بالعموم جبکہ باالخصوص وزیرستان میں حالات دگرگوں سے دگرگوں ہوتے جا رہے ہیں جس پر افسوس کے علاوہ اور کیا کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح یوں تو اس پورے علاقے میں حالات معمول کی طرف نہیں لوٹے اور باجوڑ، خیبر اور کرم سمیت تقریباً تمام اضلاع میں ناخوشگوار واقعات پیش آتے رہے، ان علاقوں سے عسکریت پسندوں کے دوبارہ منظم ہونے کی اطلاعات بھی شروع دن سے سامنے آ رہی ہیں لیکن وزیرستان میں، باالخصوص، حالات ”ضرب عضب“ کے کچھ عرصہ بعد ہی ناسازگار ہوتے جا رہے تھے جہاں فورسز پر حملوں، بم دھماکوں کے ساتھ ساتھ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات بھی تواتر سے پیش آ رہے ہیں۔ اسی طرح ان علاقوں میں جگہ جگہ اراضی تنازعات بھی سر اٹھانے لگے، کوئی ایک آدھ تنازعہ خونی تصادم پر بھی منتج ہوا جن میں سے ایک جنوبی وزیرستان میں جاری دو قبائل کے درمیان حالیہ تنازعہ بھی ہے۔ اس وقت جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں حالات باوجود اس کے کہ وہاں ناگزیر وجوہات کی بناء پر کرفیو بھی نافذ ہے نہایت کشیدہ ہیں۔ گذشتہ روز کے اخبارات میں شائع رپورٹس کے مطابق زلی خیل اور دوتانی قبائل کے درمیان اراضی تنازعہ میں تشدد کا عنصر بڑھ رہا ہے، گذشتہ روز جن میں سے اولالذکر نے ایک نجی ادارے کی ایمبولینس گاڑی کو نذر آتش اور اس میں سوار مخالف قبیلے کے شخص کو حبس بے جا میں رکھا تو فریق ثانی نے فریق اول پر چڑھائی کر کے ان کے کئی گھر مسمار کردیے، اسی طرح فریق اول (زلی خیل) کی جانب سے متنازعہ اراضی کا قبضہ حاصل کرنے کی غرض سے لشکرکشی کی اطلاعات بھی ہیں۔ اس کشیدہ صورتحال اور اس باعث نافذ کردہ کرفیو کی وجہ سے معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں، معاشی و تجارتی سرگرمیاں معطل ہیں، مال بردار گاڑیوں کی قطاریں لگ گئی ہیں، لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے جن میں ظاہر ہے مریض بھی ہوں گے، ان مریضوں میں خواتین، بچے اور بوڑھے بھی ہوں گے جو اس وقت نہایت تکلیف میں ہوں گے، ظاہر ہے کہ ان تمام تکلیفات اور مصائب کی وجہ سے اہل علاقہ بھی تشویش مند ہیں اور وہ جلد سے جلد اس تنازعہ کا پرامن حل چاہتے ہیں۔ جنوبی وزیرستان کی انتظامیہ نے اس سلسلے میں فوری اقدامات کی یقین دہانی کرائی ہے جس کی جانب سے تشکیل دیا گیا جرگہ فریقین کے درمیان عارضی جنگ بندی کرانے میں کامیاب تو ہوا ہے تاہم ضم اضلاع میں جگہ جگہ اس نوعیت کے تنازعات خصوصاً وانا میں زیر بحث اس تنازعہ میں انتظامیہ کی بے بسی کو دیکھتے ہوئے یہ خدشہ اپنی جگہ موجود رہے گا کہ حالات کسی بھی وقت ایک بار پھر بے قابو ہو سکتے ہیں۔ اس پورے باب میں جو امر ہمارے نزدیک سب سے زیادہ تشویشناک ہے وہ ضم اضلاع کے عوام اور حکومت بلکہ ریاست کے درمیان بڑھتی ہوئی بے اعتمادی ہے جس کے نتائج خوف ناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں جلد سے جلد مگر ٹھوس و نتیجہ خیز اقدامات کی ضرورت ہے کہ ڈپنی کمشنر وانا کی اس رائے یا تجزیے سے اختلاف ممکن نہیں کہ دہشتگردی کے شکار یہ علاقے مزید بحرانوں کے متحمل نہیں ہو سکتے۔