فاٹا انضمام، حکومتی رٹ ایک سوالیہ نشان

فاٹا انضمام، حکومتی رٹ ایک سوالیہ نشان

دو ڈھائی سال قبل سابق فاٹا کے علاقوں کو 25ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد خیبر پختونخوا میں ضم کر دیا گیا تاہم جس عجلت میں فاٹا انضمام کے اس عمل کو مہمیز کیا گیا تھا، بہ الفاظ دیگر انضمام کے عمل کے حوالے سے صرف آئینی ترامیم اور دیگر کاغذی کارروائیوں، اقدامات یا اعلانات کے سلسلے میں ہی جس طرح تیزی دکھائی گئی تو اس وقت ہی ضم اضلاع کے بعض حلقوں سمیت ملک کے سنجیدہ شہریوں اور دانشور طبقات نے بھی اس حوالے سے تشویش کا اظہار کیا تھا اور معاملے کی نزاکت کا ادراک کرنے اور ضم اضلاع کی صحیح معنوں میں مین سٹریمنگ کے ٹھوس اقدامات کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ اسی طرح ضم اضلاع کے عوام کی ایک واضح اکثریت خصوصاً نواجوان اور پڑھے لکھے لوگوں نے اس اقدام کا نا صرف خیرمقدم کیا تھا بلکہ ایک لحاظ سے وہ اسے اپنی کامیابی بھی گردانتے رہے کہ بلاشبہ اس مقصد کے لئے انہوں نے کافی جدوجہد کی تھی اس لئے انضمام کے عمل سے انہوں نے توقعات بھی کافی بلند و بالا وابستہ کر رکھی تھیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ محولہ بالا تمام حلقوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور اضطراب کو واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ بلاشبہ اس امر یا حقیقت میں کوئی دو رائے نہیں کہ اکیسویں صدی کے اس جدید دور میں بیسویں صدی کے اوائل میں وضع کردہ ایف سی آر جیسے غیر اخلاقی و غیرانسانی قوانین کی کوئی گنجائش نہیں، ایک ہی ملک میں دو طرح کی قوانین کا نفاذ چہ معنی دارد، اسی طرح مان لیتے ہیں کہ حکمرانوں یا فیصلہ سازوں کی اس حوالے سے خلوص نیت پر بھی کوئی سوال نہیں اٹھایا جا سکتا نا ہی اٹھانا چاہئے لیکن بعد ازاں انضمام کے حکومتی اقدامات، سنجیدگی اور آئینی ترمیم میں کئے گئے ضم اضلاع کے عوام کے ساتھ وعدوں یا فیصلوں پر عملدرآمد کے حوالے سے سوالات ضرور اٹھائے جا سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے 25ویں آئینی ترمیم کی منظوری اور منظوری کے نتیجے میں سابقہ فاٹا کے خیبر پختوخوا کا حصہ بننے کے باوجود ضم اضلاع میں امن عامہ کی صورتحال تسلی بخش نہیں ہے، ان علاقوں میں عسکریت پسند ایک بار پھر منظم ہو چکے ہیں، ٹارگٹ کلنگ زوروں پر ہے، بھتہ خوری کی شکایات بھی موصول ہو رہی ہیں تو دوسری جانب ضم اضلاع کے مختلف علاقوں میں مختلف قسم کے مطالبات کو لے کر تقریباً تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے شہری برسر احتجاج ہیں، ایسے لگ رہا ہے کہ پاکستان بالعموم اور ضم اضلاع سمیت خیبر پختونخوا کا سارا علاقہ باالخصوص احتجاجستان بن گیا ہے، لیکن بدقسمتی کی انتہا دیکھیے کہ ہر احتجاج اور ہر مظاہرے کے وقت انتظامیہ نام نہاد مذاکرات کر کے وقتی طور پر تو بلا سر سے اتار دیتی ہے لیکن ان مسائل کے مستقل و پائیدار حل کے لئے ٹھوس اقدامات کہیں بھی ہوتے دکھائی نہیں دے رہے۔ ان مسائل میں سے ایک، جو ہمارے نزدیک سب سے زیادہ تشویشناک بھی ہے، باجوڑ سے لے کر وزیرستان تک جگہ جگہ سر اٹھاتے زمینی یا اراضی تنازعات ہیں جو ضلع خیبر سمیت بعض علاقوں میں خونی تصادم کی صورت بھی اختیار کر چکے ہین لیکن افسوس، صد افسوس، کہ انتظامیہ اور حکومت کہیں خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہیں تو کہیں پر تنازعات کے عارضی حل پر ہی اکتفاء کیا جا رہا ہے۔ یہ اور اس طرح کے کئی دیگر مسائل ہیں جنہیں کوئی اور نہیں بلکہ فاٹا انضمام مخالف عناصر کیش کر رہے ہیں اور خدشہ ہے کہ جلد یا بدیر وہ خدانخواستہ اپنے اس مشن میں کامیاب بھی ہو جائیں گے جس کے بعد ان علاقوں میں حالات، خصوصاً افغانستان میں بدلتے منظرنامے کو مدنظر رکھتے ہوئے، ایک بار پھر بے قابو ہو سکتے ہیں جن پر قابو پانا شاید حکومت کے بس کا کام بھی نا رہے۔