پاکستان میں کورونا کی نئی قسم کی تصدیق

پاکستان میں کورونا کی نئی قسم کی تصدیق

پاکستان میں اومی کرون کی نئی ذيلی قسم کی تصدیق ہوئی ہے۔

 

قومی ادارہ صحت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ جینوم کی ترتیب کے ذریعے نئے سب ویرینٹ کی تصدیق ہوئی ہے۔

 

قومی ادارہ صحت نے بتایا کہ کورونا کے نئے ویرینٹ کےباعث مختلف ممالک میں کیسز بڑھ رہےہيں۔

شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ اس ویرینٹ سے بچاؤ کيلئے ہجوم والی جگہ ماسک پہننا اور ويکسی نيشن ہی بہتر احتياط ہے۔

 

قومی ادارہ صحت کی جانب سے عوام کو ویکسی نيشن مکمل کرانے اور 6 ماہ بعد بوسٹر ڈوز لگوانے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے۔

 

چار ماہ قبل عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریوس نے کورونا وائرس کے اومی کرون ویرینٹ کے بارے میں پائے جانے والے عام تاثر سے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسے کرونا کا معمولی ویرینٹ نہ سمجھا جائے۔

 

 ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریوس نے ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا تھا کہ لوگوں کی ریکارڈ تعداد کا نئے ویرینٹ سے متاثر ہونے کا مطلب ہے کہ اسپتالوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

 

انہوں نے مزید کہا تھا کہ ‘اومی کرون، ڈیلٹا ویرینٹ کے مقابلے میں کم شدت کا حامل پایا گیا خاص طور پر ان افراد میں جنہوں نے ویکیسن لگوا لی تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسے معمولی سمجھا جائے’۔

 

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے کہا تھا کہ ‘اومی کرون کی وجہ سے بھی لوگوں کو اسپتالوں میں داخل ہونا پڑا اور دیگر ویرینٹ کی طرح یہ اموات کا باعث بھی بنا ہے’۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ ‘درحقیقت، کیسز کا سونامی اتنا بڑا اور تیز ہے کہ یہ دنیا بھر میں نظامِ صحت کو متاثر کررہا ہے’۔

 

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کے مطابق ‘ویکیسن لگانے کے عمل میں ناہمواری لوگوں کے لیے مہلک ہونے کے ساتھ ساتھ ملازمتوں اور معیشتوں کے لیے بھی نقصان دہ ہے’۔

 

انہوں نے کہا کہ ‘بہت کم ممالک میں بوسٹر خوراکیں لگانے سے وبا ختم نہیں ہو گی جبکہ دنیا میں اربوں لوگ غیر محفوظ ہیں’۔

 

سربراہ ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ ‘ویکیسن لگوانے کے علاوہ صحت عامہ کے بہتری کے اقدامات، جس میں ماسک پہننا، سماجی فاصلہ رکھنا، ہجوم سے گریز کرنا وغیرہ وائرس کے پھیلاؤ کو روک سکتا ہے’۔