غنی خان کی بے مثال دنیا، دارالامان میں آج بھی ان کی خوشبو محسوس ہوتی ہے

غنی خان کی بے مثال دنیا، دارالامان میں آج بھی ان کی خوشبو محسوس ہوتی ہے

حجرے اور گھر میں آج بھی ان کے ہاتھوں کے لگے پھول نظر آتے ہیں، درختوں کے نیچے ایسا لگتا ہے کہ غنی خان پھولوں کیساتھ محو گفتگو ہیں، ساجد ٹکر

دارالامان چارسدہ میں غنی خان کے گھر کا اندرونی منظر

غنی خان کی شخصیت فلسفہ، شاعری، سیاست، ادب، نقوش نگاری، بت تراشی، سنگ تراشی، علمیت اور تصوف کی ایک ایسی نظیر ہے جس کے بارے میں مجھ جیسا ایک آدمی بھی دعویٰ کر سکتا ہے کہ وہ بے نظیر، بے بدل اور بے مثال ہے۔

غنی خان کی شخصیت فلسفہ، شاعری، سیاست، ادب، نقوش نگاری، بت تراشی، سنگ تراشی، علمیت اور تصوف کی ایک ایسی نظیر ہے جس کے بارے میں مجھ جیسا ایک آدمی بھی دعویٰ کر سکتا ہے کہ وہ بے نظیر، بے بدل اور بے مثال ہے۔ ان کی بہت ہی وسیع اور ہمہ گیر شخصیت تقاضا کرتی ہے کہ ان پر بہت کام کیا جائے اور اس کے لئے بہت ہی عالم اور ان کی دنیا جاننے والے لوگوں کی ضرورت ہے۔

غنی خان کے گھر ان کے فن پارے

تا ہم مجھ جیسا طالبعلم ان پر اگر کچھ لکھنے کی سعی کرتا ہے تو یہ صرف ان سے بے پناہ عقیدت اور ان کے بارے میں مزید جاننے کی ایک کوشش ہے۔ ان پر کام کیلئے ایک طرف اگر ایک بڑا کینوس درکار ہے تو دوسری جانب ذہن بھی بہت فراخ ہونا چاہئے۔ کیونکہ ان کی شخصیت کے رنگ اتنے گھنے ہیں جن کو یک سمتی سوچ، تخیل اور تصور سے محیط کرنا مشکل ہی نہیں، ناممکن ہے۔

شکر ہے آج لوگ ان کو نہ صرف سمجھ رہے ہیں بلکہ ان پر کام بھی ہو رہاہے۔ ہمارے جیسے طالبعلموں کیلئے یہ بھی ایک اعزاز سے کم نہیں کہ ہم ان کو جانتے ہیں اور ان کے نام سے واقف ہیں۔ ایک طالبعلم کی حیثیت سے مجھے ہمیشہ سے غنی خان کی دنیا سے بہرور ہونے کی تمنا رہی ہے۔ اسی طلب اور اشتیاق میں ستمبر کے پہلے ہی دن غنی خان کی دنیا کا دیدار نصیب ہوا۔ ہمیں جتنی توقع تھی، اس سے زیادہ ہمیں غنی خان دیکھنے کو ملے۔ ہوا یوں کہ میں شہباز اخبار کے کچھ ساتھیوں سمیت اتوار کے دن سخاکوٹ میں ایک دوست کی شادی میں شرکت کے بعد واپس پشاور آرہا تھا۔ راستے میں خیال آیا کہ کیوں نہ دارلامان میں تھوڑا رک کر غنی خان کے حجرے میں چند لمحے فیض حاصل کیا جائے۔

روزنامہ شہباز کا ٹیم دارالامان چارسدہ میں خان عبدالغنی خان کے نواسے بہرام خان کے ساتھ

سب بہت خوشی خوشی متفق ہوگئے۔ ہم اندر گئے تو ایک ستر سالہ بزرگ آدمی نے ،جو کہ غنی خان کے ساتھ کام کرتے تھے اور آج بھی وہاں ہیں، ہمیں خوش آمدید کہا اور نہایت پیار سے کہا کہ یہ باغ ہیں جہاں غنی خان چہل قدمی کرتے تھے اور سامنے ان کا حجرہ ہے جس میں وہ بیٹھتے تھے۔ دل اچھلنے لگا کہ کون سی یادیں کہاں لے کر آئی ہیں۔ تھوڑا بیٹھ گئے، غنی خان کی بہت سی باتیں ایک ایک کرکے یاد آنے لگیں۔ دل چاہ رہا تھا کہ وقت تھم جائے اور ہم بیٹھے رہیں مگر کام کیلئے چونکہ دفتر پہنچنا تھا، اسلئے اٹھ کر چلنے کی تیاری کرنے لگے۔

مگر ہمیں کیا خبر تھی کہ آج ہماری قسمت ہم پر ہماری سوچ سے بھی زیادہ مہربان ہے۔ کیونکہ پیچھے سے ایک آواز آئی اور جیسے ہی مڑ کر دیکھا تو وہی آنکھیں، بالکل غنی خان کی طرح آنکھیں لئے ایک مسکراتا چہرہ ہماری طرف آرہا تھا۔ یہ بہرام خان تھے، غنی خان کا پوتہ اور فریدون خان کا بڑا بیٹا۔ وہ ہمارے ساتھ انتہائی پیار اور ہم ان کے ساتھ انتہائی عقیدت سے ملے۔ ان کی طبیعت ناساز تھی مگر ہمارا اشتیاق دیکھ کر وہ ہمیں غنی خان کی دنیا میں لے گئے۔ غنی خان کے ہاتھ کی ایک ایک چیز بابا کے دونوں قابل پوتوں مشال خان اور بہرام خان نے انتہائی حفاظت اور نفاست کے ساتھ سجا کر رکھی ہے۔

غنی خان کے کمرے میں لگائے گئے ان کے باپ خان عبدالغفار خان (باچا خان) اور گاندھی جی کے تصاویر

پہلے پڑاو میں اس کمرے میں بیٹھنا نصیب ہوا جو بابا نے اپنے ہاتھ سے بنایا ہے اور بغیر اے سی کے آج بھی ٹھنڈا ہوتاہے۔ یادیں تو بہت دور لے کر جا رہی تھیں مگر بہرام خان کی اپنے عظیم بابا کے بارے میں باتیں بہت اہم، دلچسپ، دلکش اور پیاری تھیں۔ وہاں سے اٹھ کر ہم بہرام خان کی معیت میں اس کمرے میں پہنچے جہاں بابا بیٹھ کر سوچتے، پوچھتے، سوال کرتے، جواب ڈھونڈتے اور فلسفہ کی دنیا میں ڈوبے رہتے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ کمرے کی ہر دیوار ہمیں بابا کے بارے میں کچھ بتا رہا ہے، کمرے کے اندر بھی وہ، کھڑکی سے باہر بھی وہ۔ کمرے میں ہر ایک چیز سے ان کی خوشبو آرہی تھی۔ دیوار پر لگی ہر ایک پینٹنگ گویاں تھی تو ہر ایک مجسمہ حرکت پذیر۔ دیواروں پر لگی پینٹینگز میں ان کا تصور عیاں ہے تومجسموں میں ان کا زور تخلیق آشکار۔ درختوں کے گھنے سائے میں ان کے الفاظ سر گوشیاں کر رہے ہیں تو پودے اور پھول ان کے سوچ کی غمازی۔ الغرض رنگ، سوچ، تخیل اور تصور کا ایک بحر بیکراں ہے جو دارلامان میں موجود ہے۔

غنی خان کا نواسہ بہرام خان غنی خان کی تخلیق کاری پر بریفنگ دے رہے ہیں

بہرام خان ہمیں ایک ایک تصویر، پینٹنگ اور غنی خان کے ہاتھ کے بنے مجسموں کے بارے میں بتا رہے تھے۔ غنی خان کا وہ خط بھی دکھایا جو انہوں نے اپنے پوتے مشال خان کو لکھا ہے۔ ایک صفحے کاخط کیا ہے بس ایک شاہکار ہے۔ اس خط میں کیا ہے اور وہ تصویر جس میں غنی خان غصے میں نظر آرہے ہیں اوروہ تصویر جو انہوں نے رحمان بابا کی بنائی ہے، ان کے بارے میں تفصیل بہت جلد ان ہی صفحات پر، انشا اللہ