گیس اور اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافہ افسوسناک

گیس اور اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافہ افسوسناک

پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی حکومت نے ایک بار پھر سوئی گیس کی قیمتوں میں اضافے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ گذشتہ روز کے اخبارات میں شائع رپورٹس کے مطابق سوئی نادرن اور سوئی سدن نے گیس کی قیمتوں میں ایک دو یا دس پندرہ نہیں بلکہ پورے ستانوے فیصد اضافے کی سفارش کی ہے اور بتایا یہ جا رہا ہے کہ اضافے کی منظوری کے بعد صارفین کے کاندھوں پر ایک سو پانچ ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے اس حوالے سے کہا ہے کمپنیوں کی جانب سے اضافے کے لئے دائر درخواستوں کی سماعت کے بعد ہی قیمتیں بڑھانے سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ گیس کی قیمتوں میں اضافے کی یہ سفارش یا تجویز اس ملک کے غریب عوام کے لئے کسی آسمانی بجلی سے کم اس لئے بھی نہیں کیونکہ اس سے قبل بجلی، پٹرولیم مصنوعات اور آٹا گھی سمیت تمام اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بھی بے تحاشہ اضافہ کیا جا چکا ہے اور بلامبالغہ بعض اشیاء خصوصاً آٹے کی قیمتیں بلامبالغہ ایک غریب اور مزدورکار شہری کے بس سے باہر چلی گئی ہیں، آج اس ملک کے غرباء کی ایک واضح اکثریت کھلا آٹا خریدنے یا ادھار لینے اور یا پھر فاقے کاٹنے پر مجبور ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ متوسط اور سفید پوش طبقات کے لئے بھی اپنی سفید پوشی کا بھرم قائم رکھنا ایک چیلنج بن گیا ہے۔ مسئلہ تاہم گیس یا بجلی کے نرخوں میں اضافے کا ہی صرف نہیں بلکہ ملک کے بیشتر حصوں میں گیس و بجلی کی غیراعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بھی جاری و ساری ہے اور بالفرض اگر کبھی بجلی یا گیس میسر و دستیاب بھی ہوں تو کم وولٹیج اور کم پریشر کا مسئلہ ضرور ہوتا ہے۔ حکومت کے انہی اقدامات کے باعث نا صرف عام مگر غریب شہریوں کا جینا دوبھر ہو کر رہ گیا ہے بلکہ شہری اور دیہاتی علاقوں میں موجود چھوٹے چھوٹے کاروبار بھی بری طرح سے متاثر ہوئے ہیں تو کہیں مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں، اور اگر موجودہ صورتحال یونہی برقرار رہی تو عوام کا پیمانہ صبر لبریز بھی ہو سکتا ہے جس کے بعد ملک میں خدانخواستہ انارکی پھیلنے کا خدشہ ہے۔ سوال مگر یہ پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت آخر قیمتوں میں اضافے کو ہی اپنے معاشی مسائل کا حل کیوں سمجھ رہی ہے، نیز حکومت یا اس کے ’بہی خواہوں‘ کو اس صورتحال کی نزاکت کا احساس بھی کیوں نہیں ہو رہا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ انہیں اپنی طاقت یا کسی بھی ممکنہ عوامی احتجاج کو غیرموثر کرنے کی اپنی صلاحیتوں پر اندھا اعتماد ہے؟ یہ سوال اس لئے بھی بجا طور پر اٹھایا جا سکتا ہے کہ فذشتہ دو ڈھائی سالوں کے دوران یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی ہے کہ موجودہ حکومت کے پاس ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کاکوئی ٹھوس لائحہ عمل یا پالیسی موجود ہے نا ہی یہ عوام کو درپیش مسائل اور مشکلات کا کوئی حل پیش کر سکی اور نا ہی مستقبل قریب میں اس سے اس طرح کی کوئی توقع وابستہ رکھی جا سکتی ہے۔ اب جبکہ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے تو ہمیں خدشہ ہی نہیں بلکہ پورا یقین ہے کہ حکومت سے جو کسر رہ گئی ہے وہ ہمارے نام نہاد مسلمان تاجر، دکاندار اور منافع خور پوری کر کے چھوڑیں گے اور نتیجتاً عوام کے بوجھ میں مزید اضافہ ہو گا۔ آج قوم علاؤالدین خلجی جیسے کسی حکمران کی راہ تک رہی ہے جو قیمتوں پر قابو پانے کے ساتھ امن و امان کی بحالی کے لئے عملی اقدامات کر کے ”اپنی فوج“ کو مضبوط و ناقابل شکست بنانے کے ساتھ ساتھ ”اپنی رعایا“ کو بھی سکھ کا سانس لینے کا موقع دے سکے۔