حکومتی ارکان کے ہاتھ کرپشن سے رنگے ہیں، حیدر ہوتی

حکومتی ارکان کے ہاتھ کرپشن سے رنگے ہیں، حیدر ہوتی

صوابی(محمد شعیب/نمائندہ شہباز)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صد رو رکن قومی اسمبلی امیر حیدر خان ہو تی نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کا وجود مزید زخم بر داشت کر سکتا، افغانستان سے امریکہ کے جانے کے بعد پاکستان، افغانستان، ایران، چین، سعودی عرب اور روس کو چاہئے کہ وہ آپس میں مل بیٹھ کر خطے میں قیام امن کے لئے اپنا کردار ادا اور اپنے گھروں کو درست کریں۔

 

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے اے این پی کا موقف بالکل واضح ہے اگر یہ آگ دوبارہ لگی تو پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آجائے گا جس سے سب کا نقصا ن ہو گا ۔

 

اے این پی تحصیل چھوٹا لاہور کے کنونشن سے خطاب کر تے ہوئے امیر حیدر خان ہوتی نے واضح کیا کہ ہمارا اس سے کوئی غرض نہیں کہ افغانستان میں اشرف غنی، طالبان یا کسی اور ٹولے کی حکومت ہو ہمارا اس حوالے سے واضح موقف اور غرض ہے کہ افغانستان میں جنگ اور بندوق کے راستے کی بجائے بات چیت، امن اور عوام کی رائے کی حکومت قائم کی جا ئے تاکہ افغانستان میں دوبارہ خانہ جنگی شروع ہو کر آگ نہ لگ سکے کیونکہ یہی لگی ہوئی آگ ہمارے ملک پاکستان کو بھی اپنے لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے اندر ایک بار پھر وہی حالات اور ماحول بنایا جارہا ہے۔پشاور میں گذشتہ روز پولیس موبائل پر دستی بم حملہ، مدرسے میں دھماکے سے معصوم بچوں کی شہادت، وزیر ستان اور باجوڑ میں دوبارہ ناسازگار حالات سب کے سامنے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے اپنے دور اقتدار میں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ نہیں ہونے دیا جب کہ ہماری حکومت نے 86فیصد اضافے کے ساتھ مرکز سے صوبے کا حق حاصل کیا، خیبر پختونخوا کے غم و فکر کا رونا رونے والے وزیر اعظم عمران خان کی دور حکومت میں این ایف سی ایوارڈ ہو رہا ہے اور نہ ہی اس میں اضافہ کیا جارہا ہے حکومت کی مسلسل ناکامی اور اس کے ارد گرد جو کھیل کھیلا جارہا ہے اس سے عوام کو نہ صرف آگاہ کرنا ہو گا بلکہ عوام کو بیدار بھی کرنا ہو گا۔

 

انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو اختیارات منتقل ہونے سے ہائیر ایجو کیشن کمیشن کے اختیارات بھی صوبوں کو منتقل ہونے چاہئے تھے لیکن آج تک پی ٹی آئی حکومت نے اختیارات صوبوں کو منتقل کرنے کی بجائے مرکز کے پاس رکھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آٹھارویں ترمیم کی روشنی میں صوبائی ہائیر ایجو کیشن کمیشن کا قیام تمام صوبوں میں لایا جائے اسی طرح یونیورسٹیوں کے اخراجات، ترقیاتی وغیر تر قیاتی اخراجات کے لئے بجٹ میں اضافہ کیا جائے کیونکہ یہ یونیورسٹیاں کورونا کی وجہ سے مالی بحران کی شکار ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ حکومت صرف اپوزیشن اور مخالفین کو احتساب کے ذریعے نشانہ بنا رہی ہے مالم جبہ کیس میں جب حکومت کے لوگ اور افسران ملوث پائے گئے اس کیس کی تیار رپورٹ کو بند کر دیا گیاکیونکہ خود احتساب بیورو کے چیئر مین جاویدا قبال نے کہا تھا کہ مالم جبہ ریفرنس بالکل تیار ہے صرف عدالت میں دائر کر وانا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ضرورت سے زیادہ بجلی اور گیس پیدا ہونے کے باوجود یہاں سب سے زیادہ لوڈ شیڈنگ کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اے این پی کے کارکن حکومتی کر توتوں اور عوام دشمن پالیسیوں سے عوا م کو آگاہ کریں ورنہ دوبارہ یہی لوگ عوام کے کندھوں پر سوار ہو ں گے اور اس حوالے سے نوجوانوں کو سوشل میڈیا پر اپنا بھر پور کردار ادا کرنا ہو گا۔

 

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں ریکارڈ 14 ارب ڈالر صرف 3 سالوں میں پی ٹی آئی حکومت نے لیا اسی طرح پیٹرول کی قیمت فی لیٹر 119روپے تک پہنچا دی۔ بجلی، گیس، آٹا، گھی، چینی اور دیگر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں 100 فیصد اضافہ کر دیا گیا اگر یہ اضافہ ہماری حکومت میں ہو تا تو ہمارے خلاف پروپیگنڈہ ہو تا۔

 

انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر یونیورسٹیوں کے تعلیمی معیار، اساتذہ، طلباء اور پی ایچ ڈی کے حوالے سے جائزہ لیا گیا تو اس حوالے سے پاکستان میں عبدالولی خان یونیورسٹی نمبر ون رہی اور یہ اعزاز اے این پی کو ہی حاصل ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہمارے خلاف کافی کوششیں کر کے فائلیں نکالیں لیکن ہمارے خلاف ایک پیسہ کرپشن بھی ثابت نہ کر سکے جب کہ حکومتی ارکان کے ہاتھ بد ترین کرپشن میں رنگے ہوئے ہیں۔

 

انہوں نے کہاکہ بلدیاتی انتخابات کے لئے اے این پی بالکل تیار ہے لیکن یو ٹرن وزیر اعظم کے وعدوں اور دعووں پر کوئی اعتماد نہیں۔