حکومت، اپوزیشن عوام کی سوچیں

حکومت، اپوزیشن عوام کی سوچیں

حکومت مخالف تحریک پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے الزام لگایا ہے کہ فارن فنڈنگ کیس سب سے بڑا فراڈ ہے ۔ منگل کو اسلام آباد میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سامنے احتجاج کے دوران پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ گزشتہ چھ سال سے فارن فنڈنگ کیس التوا کا شکار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا احتجاج آئین کے مطابق ہے ،حکومت کی طاقت ہمیں معلوم ہے اور یہ اگر ہمیں اجازت نہیں دیتی تو ہم ان کے کنٹینرز اٹھا کر باہر پھینک دیتے۔ اسی طرح دوسرے مقررین نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اثاثے چھپائے ہیں اور قوم کو دھوکہ دیا ہے۔ پی ڈی ایم رہنماؤں نے یہ بھی کہا کہ ہم سب 2018ء کے عام انتخابات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں ۔

سیاسی طور پر اگر دیکھا جائے تو میدان اور بھی گرم ہوتا جا رہا ہے کیونکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ پی ڈی ایم کے جلسوں، مطالبوں اور نعروں میں شدت آرہی ہے۔ لگ ایسا رہا ہے کہ پی ڈی ایم ٹھوس ثبوتوں اور دعوئوں کے ساتھ بات کر رہی ہے جبکہ حکومت ہر الزام کے جواب میں طوطے کی طرح یہ رٹ لگائے رکھی ہے کہ ساری تباہی گزشتہ حکومتوں کی وجہ سے ہے ۔ اگر چہ عوام اب حکومت کے ان الزامات کی حقیقت کو سمجھ چکی ہے لیکن صد افسوس کہ حکومت اب بھی پرانے ٹریک پر چل رہی ہے ۔ دور نہیں جاتے اور اگر صرف ایک ماہ کی بات کی جائے تو کون سا ایسا محاذ ہے جس پر حکومت کو منہ کہ کھانی نہ پڑی ہو ۔ کوئٹہ میں دس افراد کو بے دردی سے قتل کیا گیا لیکن وزیراعظم گئے بھی تو اپنی شرط پر، اسی طرح پی آئی اے کے جہاز کو پیسوں کی عدم ادائیگی پر پکڑا بھی گیا تو ایک ایسے ملک میں جس کے بارے میں وزیراعظم کے بیانات ریکارڈ پر ہیں ۔

ابھی یہ قصہ تھما ہی نہیں تھا کہ براڈ شیٹ اور اب فارن فنڈنگ کیس ہے ۔ ایک طرف پی ڈی ایم کے مطالبات ہیں اور دوسری جانب حکومتی مشیروں اور وزیروں کے ایسے بیانات جو کہ جلتی پر تیل کا کام کر رہے ہیں ۔ ایک طرف پی ڈی ایم کے زور پکڑتے جلسے اور مطالبے ہیں تو دوسری جانب مہنگائی کا طوفان، تیل کو ایک ماہ میں دوسری بار مہنگا کر دیا گیا، آٹے، گھی اور چینی کی قیمتیں ہیں جو کہ بس اوپر ہی جا رہی ہیں ۔ ملک میں اگر ایسے حالات ہوں تو ذی شعور حکومت سوچ بچار سے کام لیتی ہے، اپوزیشن کو جگہ دیتی ہے لیکن بدقسمتی سے اس حکومت کو یہ بھی نصیب نہیں ہو رہا ہے۔

حکومت کو صرف اپنے مخالفین کو لتاڑنے کا کام آتا ہے اور اس دوڑ میں غریب آدمی کہیں بہت پیچھے رہ گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ مہنگائی دن بدن بڑھتی جا رہی ہے ۔ حکومت کو چاہئے کہ پی ڈی ایم کے مطالبات کو غور سے سنے، ان کو جگہ دے اور ماضی کی طرح بے بنیاد الزامات لگانے سے گریز کرے کیونکہ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام جاری رہا تو اپوزیشن تو کیا حکومت کو بھی نقصان اٹھانا پڑے گا لیکن اس سے بڑھ کر سب سے زیادہ نقصان عوام کا ہی ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اپوزیشن اور حکومت دونوں کو عوام کا سوچنا ہوگا بصورت دیگر معاملات مزید خراب صورت اختیار کرسکتے ہیں۔