یہ غلطی کس کی ہے؟

یہ غلطی کس کی ہے؟

سید ساجد شاہ

ہر سال 8 مارچ کو خواتین کے حقوق کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن دنیا بھر سے خواتین اپنے بنیادی حقوق کی حاصل کرنے کیلئے آواز اٹھاتی ہیں، جلسے جلوس ہوتے ہیں، لمبی لمبی تقریریں اور سیمینارز منعقد ہوتے ہیں۔ دنیا بھر میں اس دن کے منانے کا مقصد عورت کی حیثیت، عظمت اور قربانی کو تسلیم کرکے انہیں معاشرے میں با عزت مقام دینا ہے۔ ہمارے ہاں بھی اس سال معاملے کی نوعیت بدل گئی اور خواتین نے پابندی لگنے کے بعد عدالت سے مارچ کی اجازت مانگی ہے۔

عورت ذات اس دھرتی پر جدا گانہ حیثیت رکھتی ہے۔ عورت کو زمانہ قدیم سے یہ جدا گانہ حیثیت اور مقام ان کے روپ کی وجہ سے ملا یا خدمت او ر محبت کے لازوال جذبے کی وجہ سے،کوئی پتہ نہیں تاہم عورت کا ہر روپ نرالا ہے۔ ماں کا روپ ہو یا بہن کا، بیٹی یا بیوی کا، ہر روپ میں عورت کی شخصیت میں کشش، نکھار اور احترام کی جھلک نظر آتی ہے جس کی وجہ سے اس کا ئنات کی خوبصورتی اور بھرم قائم ہے مگر اس دھرتی پر چند مفاد پرستوں اور انا پرستوں کے ساتھ کچھ نفس کے غلام لوگوں نے اپنی تسکین کیلئے یہ نام غلط استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔

پوری دنیا میں عورت کو ایک نمونے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جسے شو پیس کہتے ہیں۔ کیا خوب کہا ہے منٹو نے کہ ہمارے لئے اپنی عورت صرف گھر کے اندر رہنے والی عورت ہوتی ہے باقی تو ہڈیوں اور گوشت کے بنے ہوئے لوتھڑے ہیں جسے ہم کسی اور نظر سے دیکھتے ہے۔ اب جبکہ دنیا گلوبل ویلج بن چکی ہے تو عورت بھی گلوبل نمونہ بن گئی۔ میڈیا، فلم اور ڈراموں نے عورت کو مزید طاقت دی تاہم اشتہارات میں نیم ملبوس کپڑوں میں خواتین دیکھ کر جنسی غلام اس پابندی سے بھی آزاد ہونے کا سوچ رہے ہیں جس میں عورت کی شخصیت،کردار اور حسن کبھی جھلک رہی تھی۔

اس میں عورت کا خود بھی شامل ہونا عجیب ہے باالخصوص منفی کرداروں اور دولت حاصل کرنے کے شوق میں اکثر وہ ایسے لوگوں کے ہتھے چڑھ جاتی ہیں جو سب روپ چھوڑ کر ان کی پاکدامنی پر داغ لگانے کے درپے ہوتے ہیں۔ اگر ایک عورت ا س خول سے نکلنے کی کوشش کرتی ہے جہاں اسے عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے تو یہ غلطی کس کی ہے؟ یورپ میں آزاد خواتین اپنی مرضی سے جنسی غلام بن کراس خول سے نکل چکی ہیں یا پھر میڈیا اور کچھ این جی او نے ان سے ان کا صنف چھین کر انہیں بے وقار کر دیا اور پھر ان ہوس کے پجاریوں نے ایسی خواتین کی عزت کو تار تار کرکے رکھ دیا۔ مرد اور عورت دونوں احترام کے لائق ہیں کیونکہ ان سے نسل انسانی پھیلتی ہے، دنیا کا نظام ان کی وجہ سے چل رہا ہے مگر کچھ مغرب زدہ تنظیمیں حیاء کو چھوڑ کر انہیں آزاد کرنے کا سوچ رہی ہیں، کوئی ان کو غلامی کی شکل میں طاقت اور زور سے پابند بنا رہا ہے۔

دونوں صورتیں بنیاد پرستی کے زمرے میں آتی ہیں کیونکہ وقت اور حالات کے مطابق میانہ روی سے چلنا ہی کامیابی کا راز ہے۔ خواتین کے حقوق کیلئے کام کرنے والی کچھ این جی اوز بیرون امداد حاصل کرکے یہاں کی ان خواتین کیلئے زندگی زہر قاتل بنا رہی ہیں جو اپنے رسم و رواج، طور طریقوں کو کسی صورت چھوڑنے کیلئے تیار نہیں۔

ہر کسی کو اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے مگر اس کی حدود کا تعین ضروری ہے۔ روس کے صدر پیوٹن نے کچھ دن پہلے اعلان کیا کہ ہم جنس پرستی کی قانونی اجازت میں دینے والا کون ہوتا ہوں جب اسے قدرت نے ممنوع قرار دیا ہے۔ دنیا کے دو سو سے زائد ممالک اپنے ان طریقوں، رسم و رواج کے مطابق چلتے ہوئے اچھا کر رہے ہیں یا برا، ان کی مرضی مگر ہمارے ہاں بات بہت طول پکڑ گئی اور پابندی یا آزادی کے نام پر تنظیموں نے ایک دوسرے پر فتوی لگانے شروع کئے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ آزادی کے نام پر لبرل خواتین اور دوسری طرف مذہبی لوگ ایک دوسرے پر لعن طعن کرکے معاملے کو مزید خراب کر رہے ہیں جبکہ برداشت کا مظاہرہ کہیں پر بھی نہیں۔

اس وقت سوشل میڈیا پر کمنٹس دیکھ کر اچھا نہیں لگتا جب بات گالیوں اور تقدس کی پامالی تک پہنچے۔ ٹی وی پر بیٹھ کر مشہور ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر اور خاتون سر مد کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ اور ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ دیکھ کر تو کوئی بھی شخص اسے نارمل حالات نہیں کہہ سکتا، ہر کسی کو پتہ ہے اچھا کیا ہے اور برا کیا؟ ایک شخص اس حوالے سے جو اپنے گھر کے اندر اپنی ماں، بہن، بیوی کیلئے سوچتا ہے بس اتنی سی سوچ دوسروں کیلئے بھی رکھنی چاہیے۔ کیا ایسا ممکن نہیں؟ ہر معاشرے کے اپنے خدوخال ہوتے ہیں، ہم یورپ میں نہیں رہ رہے ایک اسلامی ملک کے اندر مسلمان ہو کر ہمیں کوڈ آف لائف کو فالو کرنا پڑے گا؟ وہ بھی کسی خاص حد میں، دنیا بگڑنے کی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے خیالات دوسروں پر مسلط کر رہے ہیں۔ اس سے اگلی نسل جو ویسے بھی میڈیا کے منفی کردار کے پنجے میں ہے، اس کاکیا بنے گا؟ سرمد کو اپنی ذات تک بات کرنے کی اجازت ہے وہ کیوں وکیل بن کر دوسروں کیلئے دلائل دے رہی ہیں اور خود یورپ کی آزاد سرزمین کے اصولوں کا اطلاق اس ملک کی خواتین پر کرنا چاہتی ہیں۔

اس طرح کسی نے بھی قمر کو نہیں کہا کہ وہ کسی بھی شخص کے بارے میں غلط زبان استعمال کریں اور اپنے آپ کو عقل کل مان کر دوسروں کی بے عزتی کریں وہ بھی میڈیا پر یہ ان ان کی غلطی ہے۔ اس طرح کوئی بھی خاتو ن چاہے جس روپ میں ہو کسی کی غلام نہیں مگر وہ ایک گھر کی زینت بن کر رہے تو بہتر ہو گا۔ اورآزادی کا مطلب یہ بھی نہیں کہ وہ جو کچھ چاہے کرے کیونکہ اس سے معاشرے کے اندر پہلے سے جو بیہودگی و عریا نیت پھیلی ہوئی ہے وہ کیا کم ہے۔ اگر کوئی مسلمان ہے تو وہ اپنے اس کوڈ آف لائف میں خود کو adjust کرے اور جو یہاں نہ رہنا چاہے وہ یورپ جا کر اپنی مرضی سے جیسے چاہے زندگی گزاریں۔ ہمارا اشرافیہ یا سپر کلاس کے لوگ یورپ میں جا کر جینز پہنتے ہیں، شراب و شباب کی محفلیں سجاتے ہیں، ان کے سروں پر کون سا دوپٹہ ہوتا ہے یا نقاب، یہاں آکر وہ دوغلی پالیسی کے شکار بن کر نصیحت کرتے ہیں۔ بھٹہ خشت میں کام کرنے والی کتنی خواتین محنت مزدوری کرتے ہوئے بغل میں بچے کو اٹھائے ہوئے سر پر دوپٹے کی بجائے اینٹوں کا بوجھ اٹھاتی ہیں۔

اس ملک میں یقیناً کچھ لوگ اپنی انا اور دوکانداری کیلئے شوشہ چھوڑتے ہیں یا فیس بک پر، میڈیا پر گالیاں دیتے ہیں مگر حقیقت اس کے بالکل بر عکس ہے۔ مذہب کے حوالے سے کسی کے پاس اپنے دلائل نہیں ہونے چاہئیں۔ جو اسلام نے کہا ہے وہ سچ ہے اور ہم نے اس پر خود ڈٹ کر رہنا ہے۔ خواتین کو عزت دینا ان کا بنیادی حق ہے اور ان کے حقو ق کا تحفظ و احترام سب پر فرض ہے مگر اس وقت جنگ کے پس منظر میں باقی چیزوں کی نشان دہی بھی ضروری ہے۔ معلوم کرنا پڑے گا کہ اس وقت دنیا میں جاری جنگ کیا یقیناً خواتین کے تحفظ او ر حرمت کی جنگ ہے یا پھر پوری دنیا کے اندر معاشرتی و طبقاتی جنگ میں ملوث کچھ لوگ ذاتی شہرت، فائدے یا پھر سیاسی پناہ کے چکر میں یورپ بھاگنا چاہتے ہیں۔

اب اس صورت میں مشرق و مغرب کا موازنہ بھی نہیں کیا جا سکتا کیونکہ مشرق و مغرب کا مذہب، کلچر، روایات، دستور، طور طریقے یا معاشرت ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں اور اگر کسی معاشرے نے ترقی کے زینے چڑھنا ہیں تو انہوں نے ایک جامع پالیسی کے تحت اپنے لئے معاشرتی خدوخال خود وضع کرنے ہیں۔ ہم آج کی دنیا میں یہ دو بڑے نظریات کہ خواتین کو گھر کی چار دیواری کے اندر رہنا چاہیے یا پھر خواتین باہر کی دنیا میں بھی اپنا کردار ادا کریں اس کا معاشرہ خود تعین کرے گا۔ کام کے لحاظ سے خواتین کا گھر سے نکلنا ایک بات ہے جبکہ فحاشی و عریانی کوئی اور، اس لئے کسی سیانے نے کتنی اچھی بات کی ہے کہ انسان بجائے اس کے کہ کسی جسم کو ننگا کرنے کیلئے لاکھوں کروڑوں روپے بہائے کتنا بہتر ہو گا اگر کسی کے ننگے بدن پر کوئی کپڑا ڈالے اور یہی بنیادی فرق ہے۔

اس وقت آپ سعودی عرب کی حکومت کو دیکھ لیں۔ پچھلے کچھ عرصے سے خواتین کے بارے میں جو پالیسی بنی یا جو اصطلاحات ہوئے اس میں کئی دہائیوں سے چلنے والے رسم و رواج کو جدید دور کے سانچے میں ڈھالا گیا۔ خواتین کو گاڑی چلانے یا سگریٹ پینے کی اجازت دے کر عرب کے حکمرانوں نے وقت کے ساتھ جو فیصلہ کیا وہ کسی کے ایما پر تھا یا ان کی ذاتی خواہش تھی۔ اچھا ہوا یا برا، انسان اپنے اعمال کا جواب خود دے گا۔ آخر میں اتنا ہی عرض کروں گا کہ خواتین کی آزادی سے قبل ان کے بیشتر بنیادی حقوق ہیں، خواتین ہی کیا قوم کو دیگر بہت سارے بنیادی مسائل کا سامنا ہے سردست جن پر توجہ دینا نہایت ضروری ہے۔ قوم ترقی و خوشحالی کی منازل طے کرے گی تو قوم خواتین بھی ترقی یافتہ اور خوشحال ہوں گی۔