لنڈے کے انٹلیکچوول

لنڈے کے انٹلیکچوول

تحریر: ذیشان یوسفزئی 


پاکستان کو رب ذوالجلال نے ہر قسم کی قابلیت اور قابل لوگوں سے نوازا ہے، ہر شعبے میں آپ دیکھ لیں تو دنیا کے نامور اور اسی شعبے کے ماہرین ملیں گے۔ اگر سائنس ٹیکنالوجی کی بات کی جائے تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسے لوگ ملیں گے تب ہی تو پاکستان  دنیا کا ساتواں اور عالم اسلام کا پہلا ایٹمی ملک ہے۔ اگر اسلامی لحاظ سے بات کی جائے تو اسلامک سکالرز میں مولانا مودودی، ڈاکٹر اسرار احمد، مفتی تقی عثمانی جیسے ہیرے ملیں گے، اگر بہادری اور شجاعت کی بات کی جائے تو کیپٹن کرنل شیر خان جیسے شیر دل ملیں گے جن کی تعریف دشمن بھی کرتا ہے۔ اگر سیاست کے شعبے کو اٹھائیں تو باچا خان، ولی خان، ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو جیسے چمکتے ستارے آپ کو نظر آئیں گے۔ طالب علموں کو دیکھا جائے تو ارفع کریم جیسے ایکسٹرا ٹیلنڈ ملیں گے۔ اگر سوشل ایکٹیوزم کی بات کریں تو نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی آپ کو ملے گی، کھیلوں کے میدان میں شعیب اختر اور جہانگیر خان جیسے نگینے ملیں گے، جہاں بھی دیکھو وطن عزیز کے عظیم سپوت ملیں گے لیکن جن لوگوں کی بات ہم کرنے جا رہے ہیں  ان کی تعداد تو حد سے بھی زیادہ ہے بلکہ یہ مخلوق 80 فیصدآبادی پر مشتمل ہے، آپ نے لنڈے کے لبرلز کا نام سنا ہو گا لیکن آپ کو متعارف کرواتے ہیں لنڈے کے انٹلیکچوول(Intellectual)  سے۔ تھوڑا سا  لبرل، تھوڑا سا اسلامسٹ، تھوڑا سا محب وطن، تھوڑا سا قوم پرست، تھوڑا سا پڑھا لکھا، تھوڑا سا ہیومنسٹ اور نام نہاد سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ان سب کو ملا کے ایک  لنڈے کا انٹلیکچوول بن جاتا ہے۔ یہ لوگ ایک کتابچہ پڑھ لیتے ہیں اور پھر یہ بحث مباحثوں میں حصہ لیتے ہیں، فیس بک پر لمبے لمبے کمنٹس ان ہی لوگوں کی آپ کو ملیں گی، کتاب انہوں نے ناول اور افسانوں کی پڑھی ہو گی اور اس کا حوالہ تاریخ اور سیاست کے بحث میں دیں گے، بعض تو ان میں حد کر جاتے ہیں اور بڑے بڑے سکالرز پر اعتراض کر جاتے ہیں کہ فلاح صاحب نے جو لکھا ہے یہ غلط ہے۔ ان کا ایک اہم مشغلہ یہ ہوتا ہے کہ گوگل سے اقوال اٹھا کر سٹیٹس لگاتے ہیں، سوشل میڈیا پر یہ اپنے بائیو ڈیٹا میں لمبے  لمبے قصے لکھے ہوتے ہیں۔ اب یہ لوگ پائے کس جگہ پر جاتے ہیں، آپ اگر ہاسٹل میں رہائش پذیر ہیں تو اپنے کیفے کا وزیٹ کریں وہاں پر ایک گروپ بیٹھا ہو گا جو ایک کپ چائے کے ساتھ پانچ گھنٹے کرسیوں پر براجمان ہوں گے اور ایک دوسرے کے ساتھ گفت و شنید کرتے ملیں گے اور اس محفل کا مقصد ککھ بھی  نہیں ہوتا، یہ مخلوق آپ کو سوشل میڈیا پر ملے گی اور بلاوجہ کسی کی پوسٹ پر اعتراض کرتے ملے گی اور ہر وقت آن لائن ملے گی۔ یونیورسٹی کلاسز میں بھی خوامخواہ استاد پر سولات اٹھائیں گے۔ پرائی شادی میں عبداللہ دیوانہ والی مثال ان کے لیے ہی ہے، اب ان پر اعترض کا مقصد یہ ہے کہ یہ لوگ پڑھتے کم اور باتیں زیادہ کرتے ہیں، ان کا خود اپنا نقصان تو ہوتا ہی ہے لیکن ساتھ اور لوگوں کو بھی خراب کرتے ہیں۔ تیسری بات یہ ایک خول میں مبتلا ہوتے ہیں جس کی وجہ سے آنے والی زندگی میں ان کو نقصان ہوتا ہے، یہ سمجھتے ہیں کہ بہت پڑھے لکھے ہیں اور اصل میں ہوتا کچھ بھی نہیں، ان چیزوں کی روک تھام اور ان لوگوں کو لگام دینا اور ان کو سمجھانا اتنا ہی ضروری ہے جتنا ایک سٹوڈنٹ کے لیے ڈگری ہوتی ہے، ان کی حوصلہ شکنی کی جائے، اساتذہ اپنا کردار ادا کریں اور یہ جو توانائیاں غلط جگہ پر صرف ہوتی ہیں ان کو کسی درست سمت میں لگایا جائے تو ان کا بھی فائدہ، قوم و ملک کا بھی فائدہ!