کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں؟

کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں؟

اس حقیقت سے اب کون انکار کرسکتا ہے کہ موجودہ حالات میں ہمارا ملک خداداد،نیا پاکستان یا ریاست مدینہ سیاسی عدم استحکام اور اقتصادی مشکلات کی کیچڑ میں سر تا پاوں دھنستا جارہا ہے۔بے روزگاری عروج پر،مہنگائی آسمان سے باتیں کررہی ہے،غربت میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔پچاسی فیصد یعنی اکثریت پندرہ فیصد اقلیت کے استحصال کی پن چکییوں میں پیستی چلی جارہی ہے۔اس سلسلے میں پندرہ فیصد اقلیت کے اس ظالمانہ اور غیرمنصفانہ نظام میں ہمارا ایک اور طبقہ بھی مکمل حمایتی ہے جو اکثریت کو ہمیشہ صبر وتحمل اور پند ونصحیت سے سلانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔تاکہ اس ملک کے غریب اور پسے ہوئے طبقات کہیں جاگ نہ جائیں اور”کاخ امراء“ کے در و دیواروں،محلات اور بڑی بڑی کوٹھیوں کو گرانے کا خواب دیکھ نہ سکے۔اس صورت حال میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی محاذ آرائی نے ملک کے کاروباری طبقے،مڈل کلاس اور غریب،مزدور،کسان اور دیہاڑی دار طبقے کو قرب اور تشویش میں مبتلا کررکھا ہے۔کیونکہ ملکی معیشت صفر سے نیچے اور سالانہ ترقی کا پہیہ مکمل جام دکھائی دے رہاہے۔مہنگائی پر قابو پانے اور لوگوں کو ریلیف دینے کی دعوے دار حکومت نے مہنگائی کا سونامی لایا ہوا ہے۔نیا پاکستان مہنگا ترین اور مشکل ترین پاکستان بنتا جارہاہے۔ بے گھروں کوگھر دینے والے حکمران اب تجاوزات کے نام پر غریبوں کے سر سے چھت چھین رہے ہیں۔ نوکریاں دینے کے دعوے دار اب لوگوں سے روزگار چھین رہے ہیں۔اس تناظر میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تناو اور کشیدگی کو کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔سیاست میں مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں لیکن ہمارے یہاں سیاسی منظرنامہ پر ایک نگاہ ڈالیں تو ایسا لگتا ہے کہ یہاں مذاکرات کی میز جس کمرے میں موجود ہے۔اس کے دروازے پر تالے ڈال کر،کھڑکیاں بھی بند کرلی گئی ہیں۔یہ صورت حال حکومتی پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں اور سسٹم کو بند گلی میں لے جارہی ہے۔عوام اپنی سیاسی قیادت سے فہم و فراست اور تدبر کے متقاضی ہوتے ہیں لیکن یہاں تو اہل سیاست کے چلن ہی نرالے ہیں ان کی آپس کی لڑائی میں عوام پس رہے ہیں ان کے بنیادی مسائل حل طلب ہیں جبکہ کرپشن،مذہبی انتہاپسندی،عدم برداشت،بدامنی،عدم رواداری،بد اخلاقی معاشرے میں تیزی کے ساتھ بڑھتی جارہی ہے۔یہ بہت بڑا سوال ہے کہ ایسا کیوں ہے؟
عوام کے نمائندے اور سیاست دان معاشرے کا عکس ہوتے ہیں،جمہوریت پسند اور مہذب اقدار کی حامل سیاسی قیادت گالم گلوچ،غیراخلاقی بات چیت،بلا ثبوت الزامات کی سیاست نہیں کرتے ہیں ہمارے منتخب ایوانوں کی کارکردگی اس لیے بھی لائق تحسین نہیں کہ عوام کے منتخب نمائندے اپنے ذاتی مفادات کا ہر قیمت پر دفاع کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔انہیں قانون سازی اور اجتماعی مفادات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔وہ سرکاری ملازمین کی تقرریوں اور تبادلوں اور ترقیاتی فنڈز کے حصول میں دل چسپی لیتے ہیں۔اس وقت ملک میں تنخواہ دار طبقے کی حالت سب سے زیادہ خراب ہے۔سرکاری ملازمین اپنے مطالبات کے لیے احتجاج کرتے ہیں تو اسلام آباد کی شاہراہوں پر پولیس انہیں تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔نجی شعبے کے ملازمین تو احتجاج کی سکت بھی نہیں رکھتے۔معاشی و اقتصادی ماہرین ہمیں بتارہے ہیں کہ ملک میں مڈل کلاس محتصر ہوتی جارہی ہے۔کروڑوں لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں بے روزگاری بڑھ رہی ہے مہنگائی نے کہرام برپاکررکھاہے۔ایسے حالات میں بیس پچیس ہزار تنخواہ لینے والے ملازمین اپنے کنبے کا خرچ کیسے پورا کریں؟ ”کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں“