کورونا، بجلی اور پرائی جنگ

کورونا، بجلی اور پرائی جنگ

دنیا بھر میں کورونا وباء کی تیسری لہر کے باعث حکومتیں لاک ڈاؤن اور دیگر احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد اور اس سلسلے میں ضروری قانون سازیوں کے ساتھ ساتھ کورونا ویکسینیشن مہم کو تیز اور موثر بنانے کے لئے جتن کر رہی ہیں، کورونا ویکسین ہی کے باعث برطانیہ اور یورپی یونین کے تعلقات میں وقتی طور پر ایک ذرہ تلخی آئی ہے، اسرائیل کو کورونا ویکسینیشن کی مہم سر کرنے والے دنیا کے پہلے ملک کا اعزاز تو آسٹریلیا میں بھی ابھی کچھ روز پہلے تک مسلسل سات ہفتوں سے زائد عرصہ سے کوئی کیس سامنے نہیں آیا تھا، اگرچہ وہاں ایک شدید قسم کے سیلاب نے رہی سہی کسر پوری کر رکھی ہے۔ اسی طرح امریکہ، جرمنی، فرانس اور برطانیہ وغیرہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں اگر ایک طرف کورونا ویکسین کی فراہمی کا عمل جاری ہے تو دوسری جانب آئے روز اس حوالے سے نت نئی تحقیقات بھی کی جا رہی ہیں جنہیں دیکھتے ہوئے یہ امید کی جانی چاہئے کہ جلد یا بدیر وہ اس مسئلے کا بھی مستقل حل نکال لیں گے۔ لیکن جہاں تک مملکت خداداد پاکستان کا تعلق ہے تو بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ملکِ عزیز میں کوئی ایک بھی اقدام یا انتظام ایسا کیا جا رہا ہے، نا ہی مستقبل قریب میں جس کی کوئی توقع رکھی جا سکتی ہے کہ ابھی کچھ ہی روز قبل ملک کی ایک لحاظ سے ”سب سے اہم“ شخصیت نے بین السطور اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ سیکیورٹی حالات کے پیش نظر اس ملک میں صحت اور تعلیم کا فی الحال نہیں سوچا جا سکتا ہے، کہ جسے دیکھتے ہوئے یہ امید رکھی جا سکے کہ جلد، یا بدیر ہی سہی، اس ملک میں حالات نارمل ہونا شروع ہو جائیں گے اور عوام کی مشکلات میں کمی آ جائے گی بلکہ اگر دیکھا جائے تو، خصوصاً دو ڈھائی سالوں سے، ملک کے غریب عوام کے مسائل اور ان کی شدت میں بھی آئے روز اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ ایک طرف مہنگائی، اوپر سے بے روزگاری اور اب رہی سہی کسر کورونا اور اس باعث لگنے والے لاک ڈاؤن پورا کر رہے ہیں۔ اس لئے ان حالات میں کبھی پٹرولیم مصنوعات، کبھی بجلی و گیس تو کبھی دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی وجہ سے عام آدمی معاشی لحاظ سے مکمل طور پر عدم تحفظ کے احساس کا شکار ہو چکا ہے، کیونکہ عوام کی ایک واضح اکثریت کے لئے اپنی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنا بھی تقریباً ناممکن ہوتا چلا جا رہا ہے، اور ظاہر ہے کہ وہ ان تمام مشکلات کے لئے موجودہ حکومت اور باالخصوص وزیر اعظم عمران خان کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ عوام کی مایوسی میں اس وجہ سے بھی اضافہ ہو رہا ہے جب انہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کی بعض قانون سازیاں اور بجلی سبسڈی کے خاتمے سمیت مختلف اجناس یا اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ آئی ایم ایف کی شرائط سے مجبور ہو کر ہی کیا جا رہا ہے کیونکہ پاکستانی عوام خصوصاً عمران خان کے نام لیواؤں نے انہیں ووٹ آئی ایم ایف کا یہی کشکول توڑنے کے لئے دیا تھا۔ ہم سمجھتے ہیں، اور موجودہ حکمرانوں کو خبردار بھی کرنا چاہتے ہیں، کہ حکومت کو آج نہیں تو کل عوام کے در پر حاضری دینا ہی ہو گی جو اس سے اپنا پورا پورا حساب لیں گے۔ بہرکیف ایک طرف مہنگائی و بے روزگاری جیسے مسائل ہیں تو دوسری جانب شاہ زیب، مبشر اور جانی خیل بنوں جیسے واقعات عوام کے احساس عدم تحفظ میں اضافے کا باعث بنے ہوئے ہیں خصوصاً پڑوسی ملک افغانستان میں بڑی تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں کے پیش نظر اس ملک خصوصاً خیبر پختونخوا کی امن پسند قوتیں بجا طور پر تشوش کا شکار ہیں۔ بظاہر حالات بڑی تیزی کے ساتھ ایک اور جنگ کی جانب بڑھ رہے ہیں اور دکھائی یہی دے رہا ہے کہ حسب سابق اب کی بار بھی پختونوں کو ہی اس جنگ میں بطور ایندھن بروئے کار لایا جائے گا جس کی نا صرف مذمت ہونی چاہئے بلکہ اس کی روک تھام اور ان سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے عوام میں شعور و آگہی پیدا کرنے کے لئے اور اس جنگ کی حقیقت سے انہیں روشناس کروانے کے لئے عملی طور پر اقدامات یا عملی جدوجہد بھی کرنا ہو گی۔