کورونا، مہنگائی، سینیٹ انتخاب اور ”عوام کی خدمت“

کورونا، مہنگائی، سینیٹ انتخاب اور ”عوام کی خدمت“

ملکِ عزیز میں اس وقت اگر ایک طرف کورونا کی وباء قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے، نئے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، آئے روز اموات رپورٹ ہو رہی ہیں تو دوسری جانب انسداد کورونا کے نام پر حکومت کی جانب سے دیگر نام نہاد اقدامات کے ساتھ ساتھ ایک لنگڑی لولی ویکسینیشن کی مہم بھی چلائی جا رہی ہے، گرچہ اس مہم کے حوالے سے کئی بنیادی سوالات سر اٹھا رہے ہیں، نیز بائیس کروڑ کی آبادی والے ملک میں یومیہ تیس ہزار افراد کی ویکسینیشن کوئی خاص معنی نہیں رکھتے خصوصاً ایسی صورتحال میں جبکہ اس مرض کے حوالے سے آئے روز نت نئے انکشافات ہو رہے ہیں، دنیا بھر میں اس کی چار ہزار کے قریب یا اس سے زائد اقسام دریافت کی جا چکی ہیں جن میں سے بعض کورونا کی ویکسین کو بھی مات دے رہی ہیں، نیز کورونا ویکسین کے ری ایکشن کے باعث امریکہ و برطانیہ میں ایک آدھ مریض کی موت بھی باعث تشویش ہے، انہی ممالک میں آج بھی کورونا ویکسین کی مہم کو اطمینان بخش قرار نہیں دیا گیا اور اس ضمن میں وہاں کی حکومتوں پر مسلسل دباؤ بڑھ رہا ہے تاہم ان تمام تر حقائق کے باجود تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے مختلف ذرائع ابلاغ پر کامیابیوں کے دعوے بھی کئے جا رہے ہیں اور عوام سے اپیل بھی کی جا رہی ہے کہ حسب سابق، حالانکہ فروری دو ہزار بیس سے تادم تحریر صورتحال اس کے بالکل برعکس رہی ہے، حکمرانوں، اشرافیہ اور نوکر شاہی سے لے کر عام آدمی تک کے ہاتھوں ہم نے کورونا ایس او پیز کی دھجیاں بکھرتی دیکھی ہیں، حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کریں اور احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیں، ادھر حال یہ ہے کہ عوام کی ایک واضح اکثریت آج بھی سرے سے اس وائرس کا وجود ہی ماننے کے لئے تیار نہیں ہے چہ جائیکہ وہ حکومت کی اپیلوں یا کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کریں۔ مختصر یہ کہ دیگر محاذوں کی طرح کورونا کے فرنٹ پر بھی حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہی ہے اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہی ہے۔ سوال مگر یہ ہے، جو آج ایک غریب شہری سے پوچھا جانا بھی چاہئے کہ اس کا بنیادہ مسئلہ کورونا وباء ہے یا بھوک کیونکہ کورونا وباء (اور سیاسی عدم استحکام اور عوام میں پائے جانے والے احساس عدم تحفظ) کے ساتھ ساتھ ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کا طوفان بھی شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ عام آدمی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ آئے روز بجلی اور پٹرولیم مصنوعات ہی نہیں بلکہ آٹے، گھی اور اس طرح کی روزمرہ استعمال کی دیگر اشیاء کی قیمتوں میں بھی آخر کیوں مسلسل اضافہ ہی کیا جا رہا ہے، اسے ٹی وی سکرین پر وزیراعظم کی مسکراہٹ اور پراعتمادی، جو ایک خاتون صحافی کے بقول درحقیقت ڈھٹائی ہی ہے، اور سب سے بڑھ کر ان کی تقاریر اور بیانات اور زمینی حقائق میں تفاوت، بلکہ زمین آسمان کا فرق، صاف دکھائی دے رہا ہے جس کی وجہ سے ظاہر ہے کہ عام آدمی کو لاحق تشویش اور پریشانی ناقابل بیان حد تک بڑھ رہی ہے لیکن وزیر اعظم سمیت ان کی پوری حکومت کو اگر فکر ہے تو محولہ بالا اور ان کے جیسے وطنِ عزیز کے دیگر سلگتے مسائل و چیلنجز نہیں بلکہ اس کی بجائے وزیر اعظم کو سینیٹ انتخابات کا غم کھائے جا رہا ہے۔ اس غم کو دور کرنے کے لئے اور حکومت پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لئے ہی وزیر اعظم ان دنوں سرگرم عمل ہیں، سینیٹ انتخابات کا غیرقانونی اعلان ہو یا سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا سہل راستہ ڈھونڈنے اور اس کے ساتھ ساتھ ایک ویڈیو سکینڈل کے ذریعے عدالت عظمیٰ کی رائے پر اثرانداز ہونے کی کوشش، نہایت عجلت میں مگر ”بڑے احتیاط“ کے ساتھ صدارتی فرامین ہوں یا پھر اپنی جماعت کے مختلف اراکین اسمبلی سے ملاقاتیں اور یا پھر اپنے نہایت اہم رہنماؤں کے درمیان صلح صفائی سمیت ان کے تالیف قلب کے دیگر اقدامات، قوم نے یہ سب کچھ دیکھا اور دیکھ رہی ہے لیکن قوم کی خدمت کے لئے حکومت کیا کر رہی ہے، یہ اسے کل نظر آیا نا ہی آج نظر آ رہا ہے اور، ہم سمجھتے ہیں کہ، اگر حکمران جماعت سینیٹ کو ”فتح“ کر لیتی ہے تو قوم یہ ”خدمت“ کل بھی نظر نہیں آئے گی۔