میڈیکل کالج، آٹا فراہمی کا اعلان خوش آئند

میڈیکل کالج، آٹا فراہمی کا اعلان خوش آئند

وزیراعظم شہباز شریف نے شانگلہ میڈیکل کالج بنانے جبکہ بشام کیلئے2  ارب روپے کی گرانٹ کا اعلان کیا ہے۔ ہفتہ شانگلہ کے علاقے بشام میں ایک جلسہ عام سے اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے ملک میں آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آٹے کی جتنی قیمت آئندہ2  دنوں میں پنجاب میں ہو گی اتنی ہی خیبر پختونخوا میں بھی ہو گی، وزیر اعلی خیبر پختونخوا سے یہ درخواست کروں گا کہ صوبے میں عوام کو اتنی ہی قیمت میں آٹا مہیا کریں جتنی پنجاب میں ہے، اگر ایسا نہیں کرتے تو میں اپنے کپڑے بیچوں گا اور عوام کو آٹا مہیا کروں گا۔ اپنے خطاب کے دوران وزیر اعظم سابق حکمرانوں پر برس پڑے اور کہا کہ4  سال صرف عوام کو دھوکا دیا گیا، ان کے پلے کچھ نہیں اس لئے یہ دوسروں پر الزامات لگارہے ہیں، تحریک انصاف خزانہ خالی کر کے گئی، ملک قرضوں میں جکڑا ہوا ہے، کب تک کشکول لے کر گھومتے رہیں گے، بھیک سے زندگی نہیں موت ملتی ہے۔ انہوں نے قوم کو باور کرایا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے مدد و تعاون کا اعادہ کیا ہے۔ وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ایک طرف غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹے جا رہے ہیں، تو دوسری طرف نااہل حکومت کی وجہ سے گیس اور تیل نہ آ سکا، بدترین لوڈشیڈنگ بھی کی، یہ معیشت کا بھٹہ بٹھا کر گئے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ وعدہ کرتے ہیں کہ خیبر پختونخوا کو پاکستان کا ایک عظیم صوبہ بنائیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دو ہزار اٹھارہ میں اگر سابقہ نااہل ٹولے کی بجائے وزیر اعظم شھباز شریف کو اقتدار سونپا جاتا تو اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اپنے بیشتر وعدوں، نعروں اور دعوؤں کو عملی جامہ پہنانے کی بھرپور اہلیت و صلاحیت رکھتے ہیں۔ آج جبکہ ان کے پاس سال یا اس سے بھی کم عرصہ کے لئے اختیار یا اقتدار آیا ہے وہ اپنے بیشتر وعدوں کو عملی جامہ نہیں پہنا سکیں گے لیکن وہ ملکی معیشت کو تریک پر ضرور لا کر رہیں گے، یا کم از کم سابقہ حکومت کے گند کو ایک حد تک صاف کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہماری حکومتیں پہلے سے جاری یا اعلان کردہ منصوبوں کو سردخانے کی نذر کرنے کی روش ترک کر دیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آنے والی حکومت خواہ جس کی بھی آئے، شانگلہ میڈیکل کالج کا قیام اس کی اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہئے۔ اسی طرح موجودہ وزیر اعظم کو تعمیراتی شعبہ پر بھی خصوصی توجہ دینا ہو گی کیونکہ سابقہ حکومت نے پنجاب بالخصوص خیبر پختونخوا میں ہاؤسنگ سوسائٹیز، اور ترقی کے نام پر زرعی زمینوں کو بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک انکوائری کمیشن بٹھا کر قوم کو اس کی تحقیقات سے آگاہ کرنا چاہئے تاک سابقہ حکمرانوں کی غریب و وطن ہی نہیں ماحول دشمنی کو بھی بے نقاب کیا جا سکے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شانگلہ اور اس جیسے خیبر پختونخوا کے دیگر پسماندہ اضلاع کو خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے بالخصوص شانگلہ کے ایسے مزدور، کان کنوں کے لواحقین کی خبرگیری ضروری ہے جو  محنت و مشقت کے دوران ٹھیکیدار یا لیز ہولڈر اور متعلق اداروں کی غفلت، بے حسی یا لاپرواہی کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ دیگر سرکاری و غیرسرکاری ملازمین سمیت ان کان کنوں  کے مسائل کو بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ اتحادی حکومت بھلے اس عرصہ کے دوران خاطر خواہ کارکردگی نا دکھائے لیکن ملکی معیشت، سیاست اور انتظامیہ کو ایک ایسی سمت پر ضرور ڈالے جسے دیکھ کر قوم کو آئندہ انتخابات میں فیصلہ کرنے میں آسانی ہو۔ اسی طرح ملک کے مقتدر اداروں کو بھی موجودہ حکومت کی سابقہ نااہل حکومت کے مقابلے میں تین چار نہیں دس گنا زیادہ سپورٹ یا حمایت کرنی چاہئے، ہر گام و ہر موڑ پر تعاون فراہم کرنا چاہئے تاکہ ملک مسائل کے جس گرداب میں گرا پرا ہے، اس سے نکلنے کی کوئی سبیل یا راہ نکالی جا سکے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ موجودہ وزیر اعظم اس قلیل مدت میں ایک قابل ذکر کارکردگی دکھائیں گے، اور سازشی عناصر منہ کی کھائیں گے۔