ملک کے ”اصل حکمران“ ہوش کے ناخن لیں

ملک کے ”اصل حکمران“ ہوش کے ناخن لیں

ملکِ عزیز اس وقت بلامبالغہ جس نازک دور سے گزر رہا ہے، داخلی و بیرونی محاذوں پر ملک و قوم کو جن چیلنجزکا سامنا ہے ماضی شاید ہی اس کی نظیر پیش کر سکے۔ فی الوقت امریکہ میں ماحولیاتی تبدیلی کا ایک عالمی سمٹ منعقد کیا جاتا ہے، چالیس ممالک کو اس میں مدعو کیا جاتاہے لیکن پاکستان کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ فیٹف اور آئی ایم ایف جیسے ادارے الگ ہمارے سروں پر سوار ہیں اور ہمیں ڈکٹیٹ کر رہے ہیں اور ہم ہیں کہ ان کے ہر حکم پر سرتسلیم خم کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتے، ملک میں انہی کے بتائے ہوئے راستوں پر چل کر ہم نے مہنگائی کا ایک طوفان بپا کر دیا ہے۔ اس پر مستزاد بے روزگاری کی شرح میں مسلسل اضافہ جبکہ کاروباری سرگرمیوں کی مندی ہے۔ بھارت کشمیر ہڑپ کر چکا لیکن ہم جمعہ کے دن دو منٹ خاموش کھڑے ہو کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کا سلسلہ بھی برقرار نہیں رکھ سکے۔ ملک کے طول وعرض سے لاقانونیت، ظلم و جبر اور بربریت کی کہانیاں سامنے آ رہی ہیں، ریاست کو پولیس سٹیٹ میں بدل کر رکھ دیا گیا ہے، پولیس بھی ایسی جو کبھی جعلی مقابلوں میں تو کبھی حوالات کے اندر صلاح الدینوں اور شاہ زیبوں کا خون پی رہی ہے، اپنے ہی ملک کے اپنے ہی بے گناہ شہریوں کی جانوں کے درپے پولیس کو مگر کسی طرح کا لگام دینے کی بجائے ریاست شہریوں سے ان کے بنیادی حقوق چھیننے پر تلی ہوئی ہے، سیاسی حکومتیں تو ایک طرف ملک کی بااثر و باوقار ادارے بھی عوام کا اعتماد کھو رہے ہیں، جانی خیل میں جو افسوس ناک واقعہ سامنے آیا ہے اس سے بھی زیادہ اس واقعے کے خلاف پرامن احتجاج کرنے والوں کے ساتھ حکومت کا موجودہ رویہ ہے، مظاہرین اسلام آباد کی جانب پیدل مارچ پر کیوں مجبور ہوئے، حکومت ان کے راستوں میں ہر طرح کی رکاوٹیں اور سکیورٹی اہلکاروں کے دستے تعینات کر کے کیا انہیں روکنے میں کامیاب ہو سکی ہے؟ اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات بھلا اور کیا ہو سکتی ہے کہ مذکورہ مظاہرین ہوں یا ضم اضلاع ہی نہیں ملک بھر کے عوام، بحیثیت مجموعی سب موجودہ حکومت پراعتماد کرنے کے لئے، اس کا بھروسہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک مگر وہ چہ مگوئیاں ہیں جو آج ہر حجرے، ہر بیٹھک، ہر دکان، ہر گلی اور ہر تھڑے پر سننے کو مل رہی ہیں، نامعلوم کا قصہ اب نامعلوم نہیں رہا، کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ ملک کے ”اصل حکمران“ ہوش کے ناخن لیں، کیا ہم اس ملک کو موغادیشو بنانا چاہتے ہیں یا یمن و شام، کہ جہاں صبح و شام دشمنوں کے جہاز بمباری کرتے ہیں تو خود حکومت اور ان کے عوام کے بعض حلقے آپس میں برسرپیکار ہیں؟ جہاں ملک میں کورونا کے پھیلاؤ اور اس باعث حکومت کی جانب سے پابندیاں مزید سخت کرنے یا مزید پابندیاں لگانے کے عندیہ کا تعلق ہے تو ہم ان صفحات پر بارہا مرتبہ یہ واضح کر چکے ہیں کہ خدارا حسب سابق و حسب عادت اس معاملے میں بھی قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے سے گریز کیا جائے، قوم کے سامنے پوری صورتحال واضح کی جائے، انہیں بتایا جائے کہ حکومت ملک کے ہر شہری کو ویکسین کی فراہمی سے عاجز ہے لہٰذا سب کو احتیاط کا دامن تھامنا ہو گا۔ نیز اس سے بھی زیادہ ضروری خود حکمرانوں اور افسران کا طرزعمل بھی ہے۔ ضروری نہیں بلکہ لازم ہے کہ عوام سے جس طرزعمل یا جس طرح کی احتیاط کی توقع یا اپیل کی جا رہی ہے خود حکمران بھی اس پر عمل درآمد کرتے نظر آئیں بصورت دیگر خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے کے مصداق عوام کورونا ایس او پیز کی دھجیاں اڑاتے رہیں گے۔بالکل اپنے حکمرانوں کی طرح!