مہنگائی اور کورونا دونوں بے قابو، حکومت بے حس یا بے حس؟

مہنگائی اور کورونا دونوں بے قابو، حکومت بے حس یا بے حس؟

اس وقت امریکہ و برطانیہ سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں جہاں کورونا وباء کی دوسری لہر کی شدت میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، ہر روز ہزاروں نئے کیسز کے ساتھ اموات بھی رپورٹ ہو رہی ہیں اور اس کے ردعمل میں اور وباء کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے لاک ڈاؤن سمیت حفاظتی تدابیر پر عملدرآمد یقینی کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں، یہاں تک کہ اجتماعی قوت مدافعت یا ”ہَرڈ امیونٹی“ کے ساتھ اس وباء کا مقابلہ کرنے والا یورپی ملک سویڈن بھی اپنا پہلا لاک ڈاؤن نافذ کر چکا ہے، حوصلہ افزاء خبر یہ بھی ہے کہ بعض کمپنیوں کی جانب سے نوے فیصد تک موثر ویکسین کی تیاری اور پھر اس کی کامیاب آزمائش کا دعوی بھی کیا ہے، وہاں ملکِ عزیز میں اس وقت اگر ایک طرف حکومت مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند کرنے میں مسلسل بلکہ مستقل طور پر ناکام نظر آ رہی ہے، باوجود اس کے کہ ملک کے موجودہ چیف ایگزیکٹیو بار بار اس پر قابو پانے کے عزائم ظاہر کر رہے ہیں، کل پرسوں بھی انہوں نے قوم کو مہنگائی پر قابو پانے کی یقین دہانی کرائی ہے، وہاں کورونا کی دوسری لہر بھی ہر گزرتے دن کے ساتھ بے قابو ہوتی جا رہی ہے۔ روزانہ ملک کے مختلف حصوں خصوصاً خیبر پختونخوا سے درجن یا اس سے زائد اموات رپورٹ ہو رہی ہیں جبکہ سینکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں یہاں تک کہ حالیہ ہفتہ دس دنوں کے دوران دو ڈاکٹروں کی اس مرض کے باعث موت کے بعد پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس وقار احمد سیٹھ کے بعد ملک کے نامی گرامی سینئر صحافی بھی کورونا وائرس کا شکار ہو کر زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ دوسری طرف آئے روز تعلیمی اداروں سے یہاں تک کہ ہسپتالوں سے بھی کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں اداروں یا ہسپتالوں کے مختلف شعبہ جات کو سیل کیا جا رہا ہے۔ خدشہ یہ بھی ہے کہ دیگر صوبوں کو بھی شاید مزید دو ماہ کے لئے تعلیمی اداروں کی بندش پر مبنی پنجاب حکومت کے فیصلے کی تقلید کرنا پڑے۔ ملک میں جگہ جگہ مگر برائے نام لاک ڈاؤن پہلے سے ہی نافذ ہیں لیکن نتیجہ۔۔۔نتیجہ تاحال کورونا کے مزید کیسز اور اس باعث مزید اموات کی صورت ہی نکل رہا ہے۔ اسی طرح حکومت کے مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات بھی بے نتیجہ ہیں بلکہ شاعر کے بقول جوں جوں مرض کی دوا کی جا رہی توں توں مرض کی شدت میں اتنا ہی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قوم میں اس وقت ایک طرح کی بے یقینی اور اضطراب پایا جاتا ہے، جرائم کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن افسوس کہ حکومت کے ایجنڈے پر قوم اور قوم کے بنیادی مسائل کی بجائے کرسی و اقتدار کو بچانے اور اپنی ناکامیوں اور کوتاہیوں کو چھپانے اور اس مقصد کے لئے غیرجمہوری و غیرسیاسی حلقوں کے مفادات کو تحفظ دینے کی کوششوں کو ہی بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہمارے صاحبان اختیار کے پاس وہ بنیادی چیز ہی نہیں جسے نیت، خلوص، عزم یا پھر قومی جذبہ کہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ قومی یکجہتی، خدمت اور ہمدردی کے جذبات سے عاری ہمارے حکمران اپنی ناکامیوں اور کوتاہیوں کے اعتراف کی بجائے وسائل کی کمی کا رونا روتے ہیں یا پھر ماضی کی حکومتوں کو موردالزام ٹھہرا کر اپنی گلو خلاصی کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ اسی لئے یہ بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے موجودہ حکمران آئین و قانون کی بالادستی، امن و امان، مہنگائی، بے روزگاری اور کورونا سمیت ملک و قوم کو درپیش تمام چیلنجز کے سامنے بے بس تو ہیں ہی لیکن اس سے زیادہ وہ بے حس بھی ہیں، یہ بے حسی یا لاپرواہی خصوصاً وزیراعظم کے چہرے پر سجی ہر دم کی مسکراہٹ سے بخوبی عیاں ہوتی ہے۔