مردان اورصوابی میں ڈاکٹروں کا مطالبات کے حق میں مظاہرہ

مردان اورصوابی میں ڈاکٹروں کا مطالبات کے حق میں مظاہرہ

حکومت کے خلاف نعرے بازی، حکومت ڈی ایچ اے اور آر ایچ اے ایکٹ واپس لے، ڈاکٹروں کامطالبہ

صوابی، مردان ( نمائندگان شہباز )صوابی اور کے سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹروں اورپیرا میڈیکس نے صوبے کے سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری ، غریب مریضوںکیلئے علاج معالجے کی سہولیات بند کرنے ، ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکس کے جائز مطالبات حل نہ کرنے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا

مظاہرین نے حکومت کے خلاف نعرے لگائے انہوں نے حکومت سے فوری طور پر ڈی ایچ اے اور آر ایچ اے ایکٹ کو واپس لینے کا مطالبہ کیا انہوں نے کہا کہ حکومتی جھوٹ اور پروپیگنڈہ کو شکست دینگے حکومت محکمہ صحت میں ایکٹ کے ذریعے ہسپتالوں کی نجکاری کرنے کے علاوہ مفت علاج کی سہولیات ختم کر رہی ہے

اسی طرح سرکاری ہسپتالوں کو ون لائن بجٹ دیا جائیگا جب کہ باقی پیسہ غریب عوام سے وصول کیا جائیگا اس ایکٹ کے تحت تمام علاج معالجے کی فیس کو لازماً بڑھایا جائیگا اسی طرح سیاسی اور حکومتی پارٹی کے لوگوں کو ہسپتال کا ممبر بنا دیا جائیگا جس سے سرکاری ہسپتالوں میں سیاسی مداخلت مزید پر وان چڑھے گی ،

مردان میں ڈاکٹروں نے ڈی ایچ کیو ہسپتال مردان کے گیٹ کے ساتھ ہڑتالی کیمپ لگایا گیا جبکہ بعدازاں احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا مظاہرین نے حکومت مخالف شدید نعرہ بازی کی اور مردان پریس کلب پہنچ کر سڑک پر دھرنادیاگیا۔

اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہماری تحریک کو 42روز گزر گئے ذمہ دار حکمرانوں کو ٹہراتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکمرانوں نے ابھی تک اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینے کی بجائے دھمکی آمیز اور منفی پروپیگنڈہ پر مبنی رویہ کی وجہ سے خیبر پختونخوا کے غریب عوام اور محکمہ صحت ملازمین در در کی ٹوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔