تباہی کے ذمہ دار  نیوٹرل ہوں گے،  اگر کوئی روک سکتا ہے تو روک کر دکھائے، عمران خان

تباہی کے ذمہ دار نیوٹرل ہوں گے، اگر کوئی روک سکتا ہے تو روک کر دکھائے، عمران خان

پشاور:  پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پارٹی رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے مارنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کل لانگ مارچ لے کر نکلیں گے، اگر کوئی روک سکتا ہے تو روک کر دکھائے۔

 

وزیر اعلیٰ ہاؤس خیبر پختونخوا میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان  نے کہا کہ  فیصلہ کرنے کا وقت آگیا، نیوٹرل رہنے کا وقت چلا گیا، حکومت نے سارا ملک بند کردیا، عدلیہ حکومتی اقدام کا نوٹس لے، حکومت کو نہ روکا تو عدلیہ کی ساکھ ختم ہوجائے گی۔

 

پی ٹی آئی سربراہ  نے مزید کہا کہ اللہ نے اجازت نہیں دی کہ بیچ میں بیٹھ جائیں۔ بیچ میں رہنے کا مطلب ہے کہ آپ مجرموں کا ساتھ دے رہے ہیں۔ اگر ملک تباہی کی طرف جاتا ہے تو آپ بھی اتنے ہی ذمہ دار ہوں گے۔

 

انہوں نے کہا کہ کل رات سے انہوں نے جو شروع کیا یہ ان کی تاریخ ہے۔ فاشسٹ حکومت کی تاریخ پتہ ہے کہ وہ ہمیشہ کیا کرتی رہی ہے۔ انہوں نے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا۔ ایسی کیا چیز ہورہی ہے جس کے لیے یہ ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے ہیں؟

 

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ رات کو جسٹس ناصرہ اقبال کے گھر پر چھاپہ مارا گیا۔ کوئی بھی جمہوری حکومت ایسا رویہ نہیں کرسکتی ہے۔ ایسا رویہ صرف مجرم حکومت ہی کرسکتی ہے۔ حماد اظہر کے گھر پر دیوار پھلانگ کر داخل ہوئے۔ کراچی میں بھی پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو گرفتار کیا جارہا ہے۔

 

تحریک انصاف کے سربراہ نے کہا کہ 30 سال سے 2 خاندان حکومت میں رہے۔ یہ اتنے ہی غیر جمہوری ہیں جتنے ڈکٹیٹرز رہے ہیں۔ انہوں نے جمہوریت کی اسی طرح دھجیاں اڑائیں جتنی ڈکٹیٹرز نے اڑائیں۔ میری 26 سالہ سیاسی تاریخ میں بتائیں اگر میں نے قانون توڑا ہو؟ ہمیں بتائیں ہم نے 126 دن کے دھرنے میں بھی کوئی لڑائی کی ہو؟

 

عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت سے باہر جاتے ہیں تو انہیں جمہوریت یاد آجاتی ہے۔ ہماری حکومت میں یہ کتنی بار سڑکوں پر آئے اور مارچ کیے۔ بلاول بھٹو نے لانگ مارچ کیا، مولانا فضل الرحمان حکومت کے شروعاتی دنوں میں آئے۔

 

یہ بھی پڑھیں : وفاقی کابینہ کا فیصلہ ہے کہ لانگ مارچ کی اجازت نہیں، انہیں روکا جائے گا : رانا ثناءاللہ

 

انہوں نے کہا کہ قوم ملک کے اداروں کی طرف دیکھ رہی ہے۔ نیوٹرل رہنے کی گنجائش کسی کے لیے نہیں ہے۔ اللہ نیوٹرل رہنے کی اجازت ہی نہیں دیتا ہے۔ اللہ نے اجازت نہیں دی کہ بیچ میں بیٹھ جائیں۔ بیچ میں رہنے کا مطلب ہے کہ آپ مجرموں کا ساتھ دے رہے ہیں۔ اگر ملک تباہی کی طرف جاتا ہے تو آپ بھی اتنے ہی ذمہ دار ہوں گے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کو بھی سمجھنا چاہیئے کہ قوم آپ کی طرف دیکھ رہی ہے۔ کیا عدلیہ انہیں ایسے کام کرنے کی اجازت دے گی۔

 

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ ڈیڑھ ماہ میں انہوں نے معیشت تباہ کردی، ڈالر مہنگا اسٹاک نیچے چلی گئی۔ جب تک یہ بیٹھے ہیں قوم کو اندھیرا نظر آرہا ہے۔ ملک میں فی الفور شفاف الیکشن کرائے جائیں۔ مجھے خوف ہے پاکستان کا ہفتوں میں سری لنکا جیسا حال ہوجائے گا۔

 

عمران خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے نیب خو ختم کرنا ہے، الیکشن کمیشن میں آدھے لوگ ان کے غلام ہیں۔ یہ اپنے کیسز ختم، نیب کو ختم، الیکشن کمیشن کو اپنا غلام بنائیں گے۔ یہ ساری تیاری کررہے ہیں کہ جو الیکشن ہو دھاندلی سے جیت جائیں۔

 

انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو سلام پیش کرتا ہوں جو آج حق کے لیے کھڑے ہیں، ان کے خلاف مقدمات کیے جارہے ہیں۔ صحافی مشکل وقت میں کوریج کر رہے ہیں، جبکہ میڈیا ہاؤسز پر دباؤ ہے۔ صحافیوں کو ڈرایا دھمکایا جارہا ہے۔ مجھے معلوم ہے باہر سے پیسہ کہاں سے آیا اور کس صحافی کو دیا گیا۔

 

ان کا کہنا تھا کہ تاریخ دیکھ لیں کتنی بار ملک میں اس طرح کی ترقی ہوئی جو ہمارے دور میں ہوئی۔ پچھلے ادوار کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہماری حکومت نے روزگار دیا۔ جنہیں تجربہ کار کہتے تھے آج اس حکومت کے حالات دیکھ لیں۔

 

تحریک انصاف کے سربراہ نے کہا کہ کل کے پی سے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا جلوس لے کر نکلوں گا۔ قافلے ہمارے ساتھ جمع ہوں گے اور ہم اسلام آباد پہنچیں گے۔ مجھے اپنی جان کی پرواہ نہیں، یہ ملک کے لیے جہاد ہے۔

 

عمران خان کا کہنا تھا کہ شریف، زرداری دور میں 400 ڈرون حملے ہوئے۔ ڈرون حملوں کے خلاف انہوں نے ایک لفظ نہ بولا کیونکہ ان کا پیسہ باہر ہے۔ ان کے لیڈرز کے پیسے باہر ہیں، امریکی ان کو سازش کے تحت لے کر آئے۔