بجلی، گیس کے بل اور ہمارے حکمران 

بجلی، گیس کے بل اور ہمارے حکمران 

تحریر: سید ساجد شاہ 

ہمارے ملک میں اس وقت توانائی کا جو بحران ہے وہ روز بروز شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ہر نئی حکو مت سے آس لگانے والے لوگ اس امید کے ساتھ جیتے ہیں کہ کبھی تو اچھا وقت آئے گا اور حالات ٹھیک ہوں گے۔ اسی پس منظر میں قیامِ پاکستان کے 75 سال بعد بھی اس ملک میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اس وقت لوگ بھوک کے مارے مر رہے ہیں، اوپر سے گیس، بجلی کے بلز اور ان پر لگے ہوئے سرچارجز نے لوگوں کا بلڈپریشر ہائی کر رکھا ہے۔ غریب لوگوں کی مہینے بھر کی کمائی صرف ایک بل میں چلی جاتی ہے اور کوئی پوچھنے والا بھی نہیں۔ 

 

اس بدنظمی کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ حکمران طبقہ اپنی عیاشیوں سے فارغ نہیں اور غریب طبقہ اپنی غربت میں پھنسا ہوا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر بحران سے بحران کی طرف یہ سفر انتہائی اندوہناک، پریشان کن اور اضطراب سے بھرپور ہے، سماجی انصاف کا شعبہ بری طرح متاثر ہے، روزگار کوئی نہیں جبکہ غربت کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے، ایسے میں جینا محال ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں گیس اور بجلی کا بحران ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ ہمارا ناقص نظام یا پھرBad Governance  نے ہمیں دن میں آسمان کے تارے دکھا دیئے ہیں۔ گرمیوں میں بجلی کی اور سردیوں میں گیس کی لوڈشیڈنگ نے عوام کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ گیس سٹیشنوں پر جھگڑے، گھر کے اندر کھانے پکانے پر جھگڑے، گاڑیوں کے اندر قیمتی گیس میں اضافے کی وجہ سے کرایہ پر جھگڑے، ہم ویسے بھی غربت کی آخری دھانے پر ہیں تاہم  قدرتی وسائل میں شامل پانی اور گیس کی کمی اکیسویں صدی میں ہمارے لئے کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں۔

 

غربت اور بے روزگاری کی وجہ سے اس میں تشویش ناک حد تک اضافہ بھی اچھا انڈیکیٹر نہیں۔ بجلی کا مسئلہ ایک طرف مگر اب بجلی کا بل عام آدمی کیلئے جس کی ادائیگی کشمیر کو فتح کرنے سے کم نہیں، اوپر سے  بجلی کے بل میں ٹیکنیکل ٹرمز جیسے سر چارج یا پھر فیول ایڈجسمنٹ کے فارمولے نے زخم مزید تازہ کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ 1000 کے بل پر 3000 کی فیول ایڈجسمنٹ کی سمجھ تو بالکل کسی کو نہیں آتی کیونکہ ایک بلب پر کتنا خرچہ آتا ہو گا اور اس پر تین ہزار کا اضافی بوجھ غریب آدمی کے بس کی بات نہیں اوپر سے GST اور دیگر ٹیکسں کی شروعات نے بھی جسم میں خون منجمد کر دیا ہے۔ پہلے سے مہنگائی کی ستائی ہوئی عوام کے پاس ایک وقت کی روٹی کا بندوبست نہیں وہ بے چارے بل کہاں سے جمع کریں گے؟ ایک ایسے دور میں جب 60 فیصد لوگ غربت کے لیول کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے اور 90 فیصد لوگ زندگی کی بنیادی ضرورتوں کو  پورا کرنے میں ناکام ہیں تو پھر؟ یعنی روٹی، کپڑا، مکان، پانی، روزگار، سماجی و معاشرتی اور سیاسی طور پر مفلوج معاشرے کیلئے کیا صرف ان بحرانوں سے نمٹنے کیلئے کوئی حل بھی ہے یا پھر جلسے اور جلوسوں سے کام چلانا ہو گا اور یہ کام کب تک چلے گا۔

 

گڈ گورننس کی بات ہم نہیں کرتے جہاں حکمران ٹولہ دیکھے کہ یقیناً بنیادی چیزیں مارکیٹ میں موجود ہیں اور وہ چیزیں جو مارکیٹ میں موجود ہیں کیا عام آدمی میں ان کے خریدنے کی سکت ہے بھی کہ نہیں؟ سوال اس وقت یہ نہیں کہ ان یوٹیلٹی بلوں کو ادا کرنے میں مشکلات ہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ غربت اور بے روزگاری کے اس دور میں پچھلی حکومتوں کو گالیاں دینے والے اب کہاں ہیں بالخصوص وہ ٹولہ جنہوں نے حکومت اس نعرے پر بنائی ہے کہ گیس، بجلی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کا مطلب کیا ہے، یہی کہ حکمران ٹولہ چور ہے یا عیاش؟ کسی بھی حکومت کا اپنے رعایا کے ساتھ تعلق کا یہ لیول اکیسویں صدی میں  ہمیںstone age  کا دور یاد دلا رہا ہے تو پھر جمہوریت کا کیا فایدہ؟ کسی بھی جمہوریت میں جمہوریت کا مقصد چہروں کا بدلنا نہیں ہوتا بلکہ دیکھا جاتا ہے کہ لوگوں کے ساتھ انصاف، معیار زندگی اور سہولیات میں کس طرح اضافہ کیا گیا۔ یہ کیا بات ہوئی کہ جو بھی پارلیمنٹ کا ممبر بنا اس سے کوئی حساب نہیں ہو گا ؟حقیقت میں جمہوریت کا مطلب بھی یہی ہے: لوگوں کو اپنے فیصلوں میں شریک کرنا، لوگوں سے ضروریات زندگی کے بارے میں پوچھنا، لوگوں کی سیاسی و مذہبی زندگی کی آزادی یا پھر شخصی آزادی، جذبات اور احساسات کی آزادی اور احتساب یعنی کرپشن سے پاک ہو کر ملک و قوم کی خدمت، اس میں کہاں تک کامیابی ہوئی؟ 

 

قدرت نے اپنے انسانوں پر لامحدود اور لامتناہی رحمتوں کا جو نزول کیا ہے ان میں توانائی کے سرچشمے سب سے اول ہیں۔ آپ ذرا دیکھ لیں جب ایک منٹ کیلئے بجلی غائب ہو جاتی ہے تو کتنی دقت ہوتی ہے، گرمیوں کے اندر تو بجلی کا جانا کسی بڑی آفت سے کم نہیں ہوتا۔ جب 10 جون 1752 میں Benjamin Franklin نے پہلی دفعہ بجلی دریافت کی یعنی اس نے ایک پتنگ ہوا میں اڑائی اور تھنڈر سٹارم سے الیکٹرک چارج پر تجربہ کیا تو اس وقت تک یہ اندازہ کسی کو نہیں تھا کہ اصل زندگی تو اس کے بعد شروع ہو گی۔ 

 

قدرت نے اپنی مخلوق کو کتنی مراعات دی ہیں اور قدرت کے بنائے ہوئے اس کا ر خانے میں سب کچھ فری ہے۔ آپ صرف پانی کو لیجئے، بے رنگ و بے بو ہے اور بے ذایقہ ہے، اس کے استعمال کو دیکھ کر اللہ تعالی کا شکریہ ادا کیجئے ورنہ اگر یہ بھی حکمرانوں کے ہاتھوں میں ہوتا تو ہمارا کیا حشر ہوتا؟ آپ تیل لے لیں جو 1859 میں کرنل Edwin نے ایک چٹان سے نکالا۔ اس کے بعد اسی توانائی کو مختلف ذرایع سے استعمال کرنے کی نوبت آئی۔ پٹرولیم میں شامل ڈیزل، پٹرول یا پھر مٹی کا تیل کتنا اہم ہے، کیا اس کے بغیر زندگی اس دھرتی پر ممکن ہے؟ قدرت کے کارخانے میں یہ قدرتی وسائل کروڑوں اور اربوں سال کے کیمیائی تغیرات اور تبدیلی کے بعد Fossils سے بنتے ہیں جنہیں اللہ نے اپنی مخلوق کیلئے محفوظ رکھا ہے۔ اس کے بغیر زندگی کا تصور ناممکن ہے تاہم قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال اس وقت پوری دنیا کیلئے المیہ ہے اور اگر اس حساب سے قدرتی وسائل کو انسانوں نے دماغ اور ذہن لڑا کر طریقے سے استعمال نہیں کیا تو اگلی جنریشن انتہائی Vulunrable رہے گی۔ 

 

اس وقت سائنس دان ہائیڈروجن کے ذریعے اگلی نسلوں کی منتقلی کا سوچ رہے ہیں جبکہ ایٹم کی لازوال طاقت کو سائنس نے اپنے وجود میں چھپا کر فولادی بنایا ہے۔ آپ دیکھیں قدرتی گیس کتنا اہم ہے، کیا آج کل اس کے بغیر کوئی جی بھی سکتا ہے؟ گھروں کے اندر گھروں سے باہر ہر کسی کی ضرورت یہی گیس تو ہے مگر اس کا نعم البدل کوئی نہیں۔ بین الاقوامی تناظر میں گیس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگائیے کہ 900 میل کی پائپ لائن بچھانے کا پاکستان اور ایران کے درمیان گیس کا معاہدہ ہو ایا پھر چین اور یورپ میں گیس کا معاہدہ ہوا، روس بھی اپنے پڑوسیوں کے ساتھ گیس کا معاہد ہ کر چکا ہے اور گیس ہی تو اگلی صدی کی سب سے طاقتور توانائی کا ذریعہ ہے۔ CNG یعنی کمپریسڈ نیچرل گیس اور LPG یعنی لیکوی فائیڈ پیٹرولیم گیس کے ذریعے انسان نے زمین سے آسمان پر قدم رکھا۔ 

 

پاکستان میں سوئی کے مقام یعنی (بلوچستان) کے اندر 1953 میں گیس دریافت ہوئی جس کی بدولت گھروں، کارخانوں، کاروباری مراکز اور فیکٹریوں کے اندر کام شروع کیا گیا مگر توانائی کے یہ ذرایع بدقسمتی سے irrecoverable ہیں یعنی ان کے ختم ہونے کے بعد پھر کیا ہو گا۔ اگر انسان نے ان چیزوں کو طریقے سے استعمال نہ کیا تو اس وقت آپ دیکھ رہے ہیں کہ قازقستان کے اندر جو فسا دات یا تھوڑ پھوڑ شروع ہے جس میں کم ازکم 20 لوگ اب تک مر چکے ہیں، ایک ہفتے سے خراب حالات کی وجہ سے ملک میں dead lock ہے، لوگوں کا جم زعفیر گلیوں اور بازاروں میں موجود ہے اور انہوں نے ہر چیز کو آگ لگا دی ہے۔ قازقستان کی پارلیمنٹ تحلیل کی جا چکی ہے، وجہ LPG گیسں کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ لوگ غربت کے مارے یا بے روزگاری کی وجہ سے ان قیمتوں کو برداشت نہیں کر سکتے اس لئے وہ سڑکوں پر نکل آئے۔ اس وقت عوامی طاقت کے سامنے حکومت بے بس ہو چکی ہے۔ قازقستان کے صدر قاسم جومارت نے کابینہ تحلیل کے ہے۔ وہاں بات پٹرول، بجلی کے بلوں اور بالخصوص LPG گیس کی بہتات اور اس میں ہوشرباء اضافے کی وجہ سے شروع ہوئی تھی۔ 

 

اس وقت گیس و بجلی کی وجہ سے پیدا شدہ صورتحال ایک انڈیکیٹر ہے تمام ان اداروں کیلئے جو لوگوں کی مدد نہیں کر رہے۔ ویسے سبسڈی دینے کا کیا مقصد ،وہ کام تو اپنی جگہ مگر اس وقت  مالاکنڈ ڈویژن میں ان بلوں کا اطلاق نہیں ہوتا کیونکہ یہ حکومت پاکستان کے ساتھ پہلے سے اس معاہدے میں شامل ہے جس کی توثیق حکومت نے اس وقت کی جب والی سوات میاں گل جہانزیب نے 1969 میں سوات کو پاکستان میں ضم کر دیا تھا۔ ویسے بھی یہاں کے لوگ بہت مشکل سے جی رہے ہیں۔ سوات اور شانگلہ میں مسلسل قدرتی آفات جن میں 2004 میں شدید برف سے ہلاکتیں، 2005 کا زلزلہ، 2010 کا سیلاب، 2016 کا زلزلہ اور 2007 کا طالبانائزیشن شامل ہیں، انہوں نے یہاں کے مکینوں کی معاشی، سیاسی، سماجی اور معاشرتی زندگی پر انتہائی منفی اثرات چھوڑے ہیں، بحالی میں کئی دہائیاں ضرور لگیں گی۔ حکومت کو چاہیے کہ اسی پس منظر میں مالاکنڈ ڈویژن کے اندر وعدے کی پاسداری کرے۔