وزیراعلیٰ صاحب! عوام اپنا کردار ادا کر چکے، باری آپ کی ہے

وزیراعلیٰ صاحب! عوام اپنا کردار ادا کر چکے، باری آپ کی ہے

مسلسل سات آٹھ روز تک چار نعشوں کے ہمراہ ایک دھرنے، حکومت کی جانب سے مطالبات کی عدم منظوری یا قرار واقعی اقدامات نا ہونے پر لاشوں کے ہمراہ اسلام آباد کی جانب مارچ کے اعلان اور پھر مارچ کے آغاز کے بعد ہی بنوں جانی خیل وزیر کے مظاہرین کے مطالبات، جو درحقیقت آئینی، قانونی اور اخلاقی طور پر حکومت ہی کے بنیادی فرائض میں شامل ہیں، کو تسلیم کرنے والے اور یوں مظاہرین کو ہر طرح کی یقین دہانیاں دے کر ایک ناخوشگوار صورتحال کی وقتی طور پر روک تھام میں کامیاب ہونے والے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے سانحہ جانی خیل کو ”انتہائی دلخراش“ واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لئے حکومت کے ساتھ ساتھ سیاسی رہنماؤں کو بھی کردار ادا کرنا ہو گا، یہ الگ بات ہے کہ جن سیاسی رہنماؤں سے وہ اس سلسلے میں کرار ادا کرنے کی اپیل کر رہے ہیں، ان کے قائد ان سے ہاتھ تک ملانے کے روادار نہیں۔ یہ دورنگی ایک طرف لیکن عام طور سے دیکھا جائے تو ایک حد تک وزیر اعلیٰ کی یہ رائے قابل قبول بھی ہے لیکن اگر جانی خیل مظاہرین یا ان کی طرح کے ملک کے طول و عرض میں پائے جانے والے اسی طرح کے واقعات کے دیگر متاثرین کی نگاہ سے یا ان کی سوچ سے آنجناب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے ان زریں خیالات کو پرکھا جائے تو ہم نہیں سمجھتے کہ وہ ان کے ساتھ کلی کیا جزوی طور پر بھی اتفاق کر سکیں گے بلکہ شاید ہی نہیں یقیناً وہ اس کو ایک طرح سے اپنے زخموں پر نمک پاشی ہی قرار دیں گے کیونکہ دھرنا کے دوران وہ اس امر کا بار بار اعادہ کر چکے ہیں کہ قیامِ امن کے سلسلے میں مقامی لوگوں سے کسی طرح کی توقع اس لئے نا رکھی جائے کہ وہ اپنے اس طرح کے عمائدین، مشران اور عزیز و اقارب کا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں، اس امر کی وہ ریاست یا حکومت کو بار بار یاددہانی بھی کرا رہے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ مظاہرین، بلکہ متاثرین یہ سوال اٹھانے میں حق بجانب نہیں کہ امن و امان کا قیام ہو، عوام کے جان و مال اور عزت و آبرو کا تحفظ ہو یا پھر صحت، تعلیم اور روزگار سمیت دیگر بنیادی ضروریات و سہولیات کی فراہمی، یہ حکومتِ وقت ہی کی بنیادی ذمہ داریاں ہیں۔ عوام تو اپنے حصے کا کام کر چکے، بلکہ انہوں نے وہ وہ کام بھی کر لئے جو ان کی ذمہ داریوں میں سرے سے آتے ہی نہیں تھے، مثال کے طور پر اس دھرنے کو ہی لے لیں۔ بنیادی سوال تو یہی بنتا ہے کہ کیا ضم اضلاع، خیبر پختونخوا یا پھر پورے ملک کے ساری عوام کو اپنے حقوق کے لئے ہی نہیں، ملک میں امن و امان کے قیام اور عسکریت پسند و ملک دشمن گروہوں کے خلاف اقدامات کارروائیوں کے لئے بھی مظاہرے کرنا ہوں گے، دھرنے دینا ہوں گے؟ کیا حکومت یا ریاست ازخود یہ ذمہ داریاں پوری نہیں کرے گی؟ اس ملک اور اس قوم کی بنیادی بدقسمتی تو یہی ہے کہ ملک کے صاحبان بست و کشاد اپنی اصل ذمہ داریوں سے چشم پوشی کرتے آ رہے ہیں، نہیں تو جانی خیل واقعہ اس ملک میں پیش آنے والا کوئی پہلا سانحہ تو نہیں، ”ذمہ داروں“ کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہوتا تو آج جانی خیل وزیر کا بچہ بچہ افسردہ، اداس اور مایوس کیوں ہوتا؟ ہمیں وزیراعلیٰ یا ان کی حکومت سے کوئی ذاتی پرخاش نہیں بلکہ اگر دیکھا جائے تو ہم ہی موجودہ حکومت کے اصل بہی خواہ ہیں کہ موجودہ حکمران ہوں یا مستقبل کا کوئی اور حاکم، اگر وہ اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کر کے قوم کی توقعات پر پورا اتریں گے تو انہی کے نام کا بول بالا ہو گا، تاریخ میں ان کا نام سنہری حروف سے لکھا جائے گا اور قوم تاابد انہیں اپنا ہیرو اور اپنا محسن سمجھے گی۔ لہٰذا ہماری وزیر اعلیٰ محمود خان، ان کی حکومت اور ملک کے دیگر متعلقہ اداروں سے دست بستہ گزارش ہے کہ ازراہ کرم جانی خیل وزیر کے ساتھ کئے گئے معاہدے ہی پر سو فیصد عملدرآمد یقینی بنائیں، قوم کے مسائل کے حل کے لئے آگے آئیں، اپوزیشن سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلیں اور سب سے بڑھ کر، فوراً سے بھی پیشتر ٹھوس عملی اقدامات کا آغاز کیا جائے، قوم آپ کو ہرگز مایوس نہیں کرے گی۔